احتساب عدالت کے کمرہ نمبر 5سے فرخ شہباز وڑائچ

احتساب عدالت کے کمرہ نمبر 5سے فرخ شہباز وڑائچ
احتساب عدالت کے کمرہ نمبر 5سے فرخ شہباز وڑائچ

  


ہفتے کی صبح 7 بجے احتساب عدالت کے اطراف میں پولیس کی نفری گاڑیوں سے اتر رہی تھی۔سیکٹریٹ سے عدالت کی جانب جانے والے راستوں پر بالخصوص پیپلز ہاؤس کے سامنے اور سیکٹریٹ کے پاس پولیس اہلکار سازو سامان سے لیس ہو کر پوزیشنز سنبھال رہے تھے۔ اسلام پورہ کے محلے کے وہ راستے جو عدالت تک آتے ہیں انہیں رکاوٹیں لگا کر بند کیا گیا تھا۔یہ سب انتظامات آج اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی پیشی کی وجہ سے تھے۔ احتساب عدالت کے فرسٹ فلور پر واقع سید نجم الحسن بخاری کی عدالت میں آج انہیں پیش کیا جانا تھا۔ عدالت لگنے کے وقت سے پہلے وہاں اکاّ دکاّ لیگی کارکن تھے مگر سادہ لباس میں ملبوس سیکورٹی اہلکار اتنے زیادہ تھے کہ یہ پہچاننا مشکل تھا کہ آپ کے پاس موجود آدمی شہباز شریف کی محبت میں یہاں آیا ہے کہ سیکورٹی اہلکار اپنی ڈیوٹی پر موجود ہے۔ کمرہ عدالت کے باہر بینچز پر دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں ایم پی ایزاور کارکنان بیٹھ چکے تھے۔ ان میں نمایاں سابق وزیر بلدیات منشااللہ بٹ،ایم پی ایزعارف ہرناہ،عادل چٹھہ،شیخ علاؤالدین نمایاں تھے۔

8بجے کے بعد سب سے پہلے خاتون ایم پی اے صبا صادق وکلاء کے یونیفارم میں ملبوس کمرہ عدالت میں داخل ہوئیں ان کے پیچھے پیچھے چار پانچ وکیل بھی کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔باہر سے رپورٹر سے اطلاع مل چکی تھی کہ میڈیا کے افراد کو عدالت سے باہر ہی روکنا شروع کردیا گیا ہے،میں نے اس موقع پر دوست سے کنفرمیشن بھی کی کہ کیا کمرہ عدالت میں صحافیوں کی موجودگی کے حوالے سے بھی کوئی مسئلہ ہے تو بتایا گیا کہ رجسٹرار صاحب کی طرف سے کہا گیا ہے میڈیا پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔ کمرہ عدالت میں داخل ہونے پر منظر یہ تھا کہ کمرہ بھر چکا تھا۔ کمرے میں وکلاء اور مسلم لیگ ن کارکنان ہی نظر آرہے تھے۔ تھوڑی دیر میں جج صاحب عدالت میں آگئے کاز لسٹ میں آج تین کیس مزید لگے ہوئے تھے۔انہوں نے ایک کیس کی سماعت کی اور دس منٹ بعد اپنے چیمبر میں چلے گئے۔ اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمرہ عدالت میں ہجوم بڑھتا جارہا تھا۔ ہر طرح کی سیکورٹی کے باوجود اب کمرہ عدالت کھچا کھچ بھر چکا تھا۔ صورتحال یہ تھی کہ کمرے میں دو پنکھے اور ایک اے سی چل رہا تھا مگر حبس بڑھتا ہی جارہا تھا۔ ہم جائزہ لینے کے لیے کمرے سے باہر آئے تو باہر بھی اتنا ہی تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ واپس کمرہ عدالت میں جانے لگے تو سیکورٹی اہلکاروں تلاشی لیتے ہوئے کہہ رہے تھے کوئی موبائل اندر نہ لے کر جائے۔ لیکن یہ زبانی کلامی ایک بات تھی ایسا لگتا تھا یہ کہتے ہوئے انہیں بھی یقین تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔

9بج کر 22منٹ پر کمرہ عدالت میں شور مچا تو پتا چلااپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز آئے ہیں ان کے پیچھے ان کے بھائی سلمان شہباز تھے مگر انہیں روک لیا گیا۔ اس موقع پر کارکنان نے اونچے آواز میں کہنا شروع کردیا کہ یہ شہباز شریف کے بیٹے ہیں انہیں جانے دیں، سیکورٹی نے انہیں کمرے میں جانے کی اجازت دے دی۔ حمزہ شہباز رہنماؤں سے ملے،روسٹرم کے سامنے پڑی کرسیوں پرسلمان شہباز اور حمزہ شہباز کو جگہ دی گئی ساتھ والی کرسیوں پر صبا صادق،خواجہ حسان اور وکلاء براجمان تھے۔ کمرہ عدالت میں رش وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جارہا تھا مسلم لیگ ن لائرز ونگ کے ممبراور کارکنان حمزہ شہباز کے ساتھ سیلفیاں بنانے میں مشغول تھے۔ سلیم ضیاء،خرم دستگیر ،سائرہ افضل تارڑ کرسیوں پر بیٹھے تھے۔پنجاب حکومت کے سابق ترجمان ملک احمد خان وکلاء کی یونیفارم میں ملبوس کمرہ عدالت میں کھڑے نظر آئے۔حمزہ شہبازکبھی پر اعتماد تو کبھی پریشانی میں جبکہ سلمان شہبازکسی چیز کا ورد کرتے ہوئے گہری سوچ میں نظر آئے۔جج صاحب کے سٹاف کی جانب سے فریقین کے وکلاء کو پیغام دیا گیا کہ رش کی وجہ سے سماعت کمرہ عدالت میں ممکن نہیں۔10بج 26پر بتایا گیا کہ کمرہ عدالت میں رش ہونے کی وجہ سے سماعت معزز جج کے چیمبر میں ہوگی۔ نیب اور شہباز شریف کے وکلاء کو چیمبر تک پہنچایا گیا۔ مگر ٹھیک دس منٹ بعد کمرہ عدالت میں شہباز شریف کے سٹاف آفیسر کی جانب سے بتایا گیا کہ ہم چیمبر میں سماعت نہیں چاہتے۔ ہم کمرہ عدالت میں ہی سماعت چاہتے ہیں۔اس لیے صرف شریف فیملی اور متعلقہ وکلاء کمرہ عدالت میں رہیں باقی افراد باہر چلے جائیں۔اس سے پہلے چیمبر میں سماعت کا سن کر کارکنان مایوس ہو کر باہر آگئے تھے باقی افراد کو کمرہ عدالت سے سیکورٹی نے نکال دیا۔

شہباز شریف معزز جج کے چیمبر میں ہی موجود تھے اسی دوران خاتون وکیل نے شہباز شریف زندہ باد کا نعرہ لگایا تو اسے لیگی رہنماؤں نے خاموش کروادیا۔ سماعت کا آغاز ہونے جارہا تھا اس دوران ایک وکیل نے بلند آواز میں کہنا شروع کردیا یہاں خفیہ ایجنسیوں کے افراد موجود ہیں جو نہیں چاہتے کہ عدالت میں سماعت ہو اس لیے کبھی کمرہ عدالت کا پنکھا بند کیا جارہا ہے کبھی لائٹ بند کی جارہی ہے۔ اس لیے آپ سب سے گزارش ہے تحمل رکھیں تاکہ سماعت کمرہ عدالت میں ہی ہو۔10بج کر 44منٹ پر شہباز شریف کو رینجرز کی سیکورٹی میں عدالت میں لایا گیا۔ دو منٹ بعد سماعت کا آغاز ہوا تو

نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ شہباز شریف کے اقدام سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب پراسیکیوٹرکا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے بورڈ آف ڈائریکٹر کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے منظور نظر افراد کو نوازا ہے ہمیں تفتیش کیلئے وقت چاہئے اسی لئے شہباز شریف کوپندرہ روز جسمانی ریمانڈ پر حوالے کیا جائے۔ شہباز شریف کے وکیل نے نیب کی درخواست کی مخالفت کر دی ہے۔

عدالت میں شہباز شریف نے موقف ختیار کیا کہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔میں نے ایک دھیلے کی بھی کرپشن نہیں کی۔میں نے صوبے کے دن رات کام کیا۔ صوبے کی عوام کے لیے اپنی نیند اور صحت خراب کی۔ اورنج ٹرین منصوبے میں قوم کے اربوں روپے بچائے۔ میں نے ایک ایک منصوبے کی خود نگرانی کی۔ شہباز شریف اپنے مخصوص انداز میں انگلی ہلا کر بات کرتے رہے ایک موقع پر انہوں نے جذباتی ہو کر کہا عوام کی ایک پائی بھی مجھ پر حرام ہےْ۔

شہباز شریف کی گفتگو کے دوران مسلسل ن لیگی کارکنان کی جانب سے کمرے کے دروازے پر دستک دی جاتی رہی۔ایک موقع پر حمزہ شہباز نے کارکنوں کو تحمل سے رہنے کا کہا۔ ایک مرتبہ دستک پر معزز جج نے کمرہ عدالت کے پردے ہٹانے کا حکم دیا۔ دوسری مرتبہ پھر کمرہ عدالت کے باہر شور جاری رہا تو جج صاحب کی جانب سے حمزہ شہباز کو کہا گیا کہ آپ اپنے لوگوں کو چپ کروائیں۔ جب مسلسل تیسری مرتبہ حمزہ شہباز سماعت کے دوران کمرہ عدالت کی کھڑکی کے پاس باہر کھڑے کارکنوں کو چپ کروانے گئے تو باہر کھڑے کارکن نے کہا آپ لوگوں کی وجہ سے آج پارٹی تباہ ہوچکی ہے۔ شہباز شریف کی وکلاء ٹیم نے اپنے دلائل انگلش میں دیے اور درمیان میں اردو میں بات کی جبکہ نیب کی وکلاء ٹیم نے اردو میں دلائل دیے۔ وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا ’’جج صاحب یہ کیس بہت واضح ہے ،میرے موکل کوصاف پانی کیس میں بلا کر آشیانہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے احد چیمہ اور فواد حسن کو بھی گرفتار کیا گیا۔ مگر آج تک کوئی ٹھوس ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ نیب کا جب دل چاہتا ہے جسے چاہتا ہے اٹھا کر جیل میں بند کردیتا ہے۔ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا۔ سارا ریکارڈ آپ کے سامنے ہے۔ بطور وزیراعلٰی بھی وہ کورٹ میں پیش ہوتے رہے ہیں اب بھی جب انہیں بلایا جائے گا وہ حاضر ہوں گے۔ وہ عدلیہ کی عزت اور احترام کرتے ہیں۔ وہ دستیاب ہیں اس لیے اس کیس میں جسمانی ریمانڈ بنتا ہی نہیں‘‘

امجد پرویز کو بات کرتے ہوئے درمیان میں نیب کے وکیل کی جانب سے کچھ کہا گیا تو جج نجم الحسن نے نیب کے وکلاء کو کہا ’’پہلے انہیں بات مکمل کر لینے دیں‘‘ نیب پراسیکیوٹر کی بات کے دوران شہباز شریف کے وکیل کی جانب سے نیب کے وکلاء کو اپنی نوکری بچانے کا طعنہ دیا گیا۔ جس پر دونوں اطراف کے وکلاء نے بولنا شروع کردیا اس پر جج نے مداخلت کرکے انہیں خاموش کروایا۔ سماعت کے دوران شہباز شریف کے بالکل پیچھے رانا ثنااللہ،سلمان شہباز جبکہ پچھلی قطار میں حمزہ شہباز موجود تھے۔11بج کر47منٹ پر معزز جج نے کہا فیصلہ دس منٹ بعد سنایا جائے گا۔ جج اپنے چیمبر میں چلے گئے اور شہباز شریف کو واپس چیمبر میں بھیج دیا گیا۔ اس دوران لیگی کارکنان حمزہ شہباز سے ملتے رہے ۔روسٹرم کے پاس خاتون وکیل آبدیدہ نظر آئی وہ کہتی رہی یہاں انصاف نہیں ہوگا،یاد رہے اس سے پہلے کمرہ عدالت میں یہی خاتون نعرہ بھی لگا چکی تھی۔

مجھے ایک دوست نے پانی کی بوتل دی جو میں نے سینئر صحافی بابر ڈوگر کوپیش کر دی۔ چیمبر سے ملازم باہر آیا کہ شہباز شریف پانی مانگ رہے ہیں جس پر بابر ڈوگر نے بوتل ملازم کو دے دی۔ میں نے کہا’’ شہباز صاحب ہمیں تو صاف پانی فراہم نہیں کرسکے مگر ہم نے انہیں آج صاف پانی دے دیا ہے‘‘ اسی دوران عدالت میں دس روزہ ریمانڈ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ معلوم کرنے پر پتا چلا دس روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا گیا ہے ۔اب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو16 اکتوبر کو دوبارہ پیش کیا جائے گا۔ عدالت کے باہر ایک ہجوم تھا جو حمزہ شہباز آئی لو یو،میاں شہباز آئی لو یو کے نعرے لگا رہا تھا۔ میں حیرت لیے باہر آگیا کہ اتنی اہم پیشی پر شاہد خاقان عباسی،خواجہ سعدرفیق ،خواجہ آصف سمیت مرکزی قیادت اپنی پارٹی کے صدر کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے تک نہ پہنچ سکی۔ آخر کیوں!

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...