"لاٹھی کی آواز آنی چاہیے" ماہرہ خان کا شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ پر ذومعنی الفاظ میں تبصرہ

"لاٹھی کی آواز آنی چاہیے" ماہرہ خان کا شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ پر ...

  


کراچی / لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا جاچکا ہے ۔ شہباز شریف کی گرفتاری اور ریمانڈ کے حوالے سے سوشل اور مین سٹریم میڈیا پر قانونی سے زیادہ سیاسی پہلوﺅں پر بحث کی جارہی ہے، ن لیگ کے حامی اسے سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے کارکن اسے احتساب کا نام دے رہے ہیں۔ ایسے میں اداکارہ ماہرہ خان جو پی ٹی آئی کی کھلم کھلا حامی ہیں نے شہباز شریف کے حوالے سے ایسا مطالبہ کردیا ہے کہ لیگی کارکن غصے سے آگ بگولہ ہوجائیں گے۔

اداکارہ ماہرہ خان نے ٹوئٹر پر انتہائی ذومعنی انداز میں شہباز شریف کی گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ پر مطالبہ نما تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے ” اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے“ کی مشہور زمانہ مثال کو تھوڑا سا اپنے الفاظ میں ڈھالتے ہوئے کچھ یوں تبصرہ کیا ” ویسے آواز نہیں آنی چاہیے لاٹھی کی“۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پاکستان کی پولیس کے رویے کے باعث لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ جسمانی ریمانڈ اس لیے دیا جاتا ہے تاکہ ملزم پر تشدد کے تمام حربے آزما کر اس کے منہ سے سچ اگلوایا جاسکے اور ماہرہ خان بھی ممکنہ طور پر شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کو تشدد کے ذریعے سچ کا حصول سمجھ بیٹھی ہیں شاید اسی لیے انہوں نے ایسا مطالبہ کیا ہے۔ حقیقت میں قانون پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملزم پر کسی بھی قسم کے تشدد کی اجازت نہیں دیتا بلکہ جسمانی ریمانڈ کا مطلب ملزم کو جیل بھجوانے کی بجائے پولیس یا متعلقہ تحقیقاتی ایجنسی کی تحویل میں دینا ہوتا ہے تاکہ اس سے تفتیش کی جاسکے۔

ماہرہ خان کے ٹویٹ کے جواب میں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں۔ ذومعنی انداز میں مثال کو استعمال کیے جانے پر بعض لوگ کنفیوژن کا شکار نظر آئے اور انہیں ٹویٹ کی سمجھ ہی نہیں آئی لیکن بہت سے خدائی خدمتگاروں نے ٹویٹ کی تشریح کا فریضہ بطریقِ احسن سرانجام دیا۔ ٹویٹ نہ سمجھ سکنے والوں میں علی نواز بھی شامل ہیں جنہوں نے تشریح کا مطالبہ کیا تو ملک محسن فوری طور پر مدد کو پہنچے اور کہا اس ٹویٹ میں شہباز شریف کی طرف اشارہ ہے ، جسمانی ریمانڈ یاد نہیں ؟۔

آفتاب خان راہی نے کہا کہ ماہرہ خان کا یہ ٹویٹ خاص طور پر پٹواریوں کے لیے ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر ن لیگ کے حامیوں کو پٹواری جبکہ تحریک انصاف کے حامیوں کو یوتھیا قرار دیا جاتا ہے۔

عمیر میر نے ماہرہ خان کے ’ ظالمانہ‘ مطالبے پر کہا ’ لاٹھی بے آواز ہی ٹھیک ہے‘۔

محمد ریاض جو کہ ایک ریسٹورنٹ کے مالک ہیں نے شاید اپنا ذاتی تجربہ بیان کیا اور کہا ’ جس کو لاٹھی پڑتی ہے اس کو تو آواز آتی ہے‘۔

احمد سلیم نے ماہرہ خان کی تائید کی اور کہا سب کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں، سب کرپٹ مافیا کو تکلیف پہنچ رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ ٹویٹ عمران خان کے مشہور زمانہ ڈائیلاگ ” میں ان کو رلاﺅں گا، میں انہیں تکلیف پہنچاﺅں گا، انہیں تکلیف پہنچے گی“ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

مزید : تفریح


loading...