فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر530

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر530
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر530

  


عصمت چغتائی سے ملاقات ہوئی تو وہ بزرگ بن چکی تھیں مگر ناک نقشہ اور باتوں میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ وہ 1915ء میں یوپی کے قصے بدایوں میں پیدا ہوئی تھیں۔ اس چھوٹے مردم خیز شہر نے اور بھی کئی نامور شاعر اور ادیب اردو ادب کو دیئے ہیں۔

شباب اسٹوڈیو پورے نکھار پر تھا۔ موسم بھی بہت اچھا تھا۔ شباب صاحب نے اپنے قریبی دوستوں اور چیدہ چیدہ ادبی شخصیات کو لنچ پر مدعو کیا تھا۔ ہر طرف سبزہ زار اور گل و لالہ کی بہار تھی۔ اس پر عصمت چغتائی کی کاٹ دار اور مزے دار باتیں۔ اب وہ کافی عرصے سے فلمی اور ادبی حلقوں میں عصمت آپا کہلاتی تھیں۔ اس مختصر سی غیر رسمی ملاقات میں ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں اور وہ اپنی باتوں کی پھلجھڑیاں چھوڑتی رہیں۔ عمر نے ان کے ذہن اور حسِ مزاح پر کوئی اثر نہیں ڈالا تھا۔ یہ مختصر سی ملاقات ہمیشہ یاد رہے گی۔ عصمت چغتائی ان چند ہستیوں میں شامل تھیں جن سے ملنے کی ہمیں خواہش رہی ہے۔

عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو میں تحریر کے علاوہ اور بہت سی باتیں بھی مشترک تھیں۔ مثلاً دونوں بمبئی میں رہتے تھے۔ دونوں نامور بھی تھے اور بدنام بھی۔ دونوں کا ادب کے علاوہ فلموں سے بھی تعلق تھا۔ دونوں منہ پھٹ اور لگی لپٹی رکھے بغیر بولنے اور لکھنے کے قائل تھے۔ اگر منٹو صاحب کے افسانوں پر مقدمے چلتے رہے تو عصمت چغتائی کی کئی کہانیاں بھی شدید نکتہ چینی کا موضوع بنتی رہیں۔

ان کا نام سن کر ہی لوگ خصوصاً خواتین ناک بھوں چڑھا کر کہتے ’’توبہ توبہ۔ اس قدر بے شرم اور بے حیا عورت۔ خدا کی پناہ! میں نے اپنے گھر میں ان دونوں کی کتابوں اور کہانیوں کا داخلہ ممنوع قرار دے رکھا ہے۔‘‘

’’کن دونوں کی؟‘‘

’’ارے یہی سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی۔ ایک کے دیدے کا پانی مر گیا ہے اور دوسرا شرم و حیا کو گھول کر شراب کے ساتھ پی گیا ہے۔‘‘

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر529پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

منٹو اور عصمت چغتائی کی ان مشترکہ خصوصیات کی بنا پر اس سے پہلے ادبی حلقوں میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ شاید منٹو اور عصمت کی شادی ہو جائے گی۔ خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔ یعنی ایک دیوانہ اور ایک دیوانی لیکن ان دونوں نے بے تکلفی اور دوستی کے باوجود کبھی شادی کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا۔

عصمت چغتائی کا تعلق ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، شریف اور معزز گھرانے سے تھا۔ ان کے والد کا نام مرزا قسم بیگ تھا۔ اتفاق سے وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔ ایک بار کسی نے طنز آمیز لہجے میں لکھا تھا کہ وہ سب سے چھوٹی تھیں اسی لئے سب سے کھوٹی تھیں۔ حالانکہ وہ کھن کھناتا ہوا کھرا سکہ تھیں۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی انہوں نے افسانے لکھنے شروع کر دیئے تھے۔ امتیازی نمبروں سے بی اے پاس کرنے کے بعد وہ انسپکٹر آف اسکولز مقرر ہو گئی تھیں۔ لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ وہ لکھنے کے معاملے میں بے دھڑک تھیں۔ جو جی چاہتا لکھ ڈالتی تھیں۔ کبھی رسم دنیا یا رواجوں کا انہوں نے پاس کیا نہ ہی پرانی روایات کو اپنایا۔ ان کے قلم کی بے باکی اور بے خوفی کا اندازہ ان کے مضمون ’’دوزخی‘‘ سے لگایا جا سکتا ہے۔ دراصل یہ مرزا عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ تھا جو انہوں نے اپنے بھائی کی وفات کے بعد لکھا تھا۔ معترض لاکھ اعتراض کریں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ نہ صرف اردو ادب کے بلکہ دنیا کی ہر زبان کے خاکوں میں ایک نمایاں اور امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس خاکے میں اتنی بے دردی سے اپنے بھائی کی زندگی کا نقشہ کھینچا تھا اور ان کی عادات و اطوار کو اس بے رحم انداز میں بیان کیا تھا کہ اسے پڑھ کر عام قاری کانوں کو ہاتھ لگاتے اور توبہ توبہ کرتے تھے۔

’’توبہ توبہ۔ کیسی سنگ دل لڑکی ہے۔ اپنے مرے ہوئے بھائی کا بھی لحاظ نہیں کیاأ

دوسری فرماتیں ’’بہن یہ قیامت کی نشانیاں ہیں۔ سگا بھائی تو کیا کوئی اپنے دشمن کے بارے میں بھی اس طرح نہیں لکھ سکتا۔‘‘

جو بھی کہا جائے وہ اپنی جگہ لیکن ’’دوزخی‘‘ کو ہمیشہ اردو میں ایک شاہکار کی حیثیت حاصل رہے گی۔ یہ ایک ناقابل فراموش تحریر ہے۔ عصمت چغتائی نے بلا کم و کاست اپنے بھائی کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے لیکن اس بے رحم تحریر کے پیچھے ایک بہن کی محبت کے جذبات اور آنسو بھی لفظوں کے پیچھے چھپے ہوئے نظر آئے ہیں۔ ’’دوزخی‘‘ یکسر ایک نئے انداز کا خاکہ ہے۔ اس جیسا خاکہ اس کے بعد پھر کوئی نہ لکھ سکا۔

یہ خاکہ شاہد احمد دہلوی کے مشہور و معروف ادبی رسالے ’’ساقی‘‘ میں شائع ہوا تھا اور اس نے سارے ہندوستان میں دھوم مچا دی تھی۔ تعریف و تنقید کا ایک شور برپا ہو گیا تھا۔ اس کی حمایت میں بھی اور مخالفت میں بھی۔

اس سلسلے میں ایک اور واقعہ مشہور ہے اور یہ بالکل سچا واقعہ ہے۔

منٹو صاحب کی بہن اقبال نے یہ خاکہ پڑھا تو بہت بگڑیں۔ اپنے بھائی منٹو سے کہا ’’یہ کتنی بے ہودہ عورت ہے۔ اپنے بھائی کو بھی نہیں بخشا۔ کم بخت نے کیسی کیسی فضول باتیں لکھی ہیں۔‘‘

منٹو صاحب نے جواب میں کہا ’’اقبال۔ اگر میری موت پر تم ایسا ہی مضمون لکھنے کا وعدہ کرو تو خدا کی قسم میں آج ہی مرنے کو تیار ہوں۔‘‘

کسی لکھنے والے کی طرف سے دوسرے لکھنے والے کے لئے اس سے بڑا خراج تحسین اور کیا ہو گا اور وہ بھی سعادت حسن منٹو جیسے لکھنے والے کی طرف سے جو کہ اپنے آگے کسی اور کو گردانتا ہی نہ تھا۔ مگر عصمت چغتائی کے افسانوں اور تحریروں کے وہ بھی قائل تھے۔ جب کبھی عصمت چغتائی کا تذکرہ چھڑ جاتا تو منٹو صاحب کھلے دل سے ان کی تعریف کرنے میں ذرا بھی بخل سے کام نہیں لیتے تھے۔

عصمت چغتائی نے سعادت حسن منٹو سے تو شادی نہیں کی لیکن ایک فلمی مصنف کا انتخاب کر لیا۔ شاہد لطیف فلمی کہانی نویس تھے۔ صورت شکل اچھی تھی۔ تعلیم یافتہ، مہذب اور شائستہ انسان تھے لیکن ان کی تمام خوبیوں پر ایک خامی حاوی تھی۔ وہ کثرتِ مے نوشی کے لئے مشہور تھے۔ اس زمانے میں وہ بمبئی ٹاکیز میں کہانی نویس کی حیثیت سے ملازم تھے۔ نام بھی تھا اور معقول آمدنی بھی تھی۔ اس وقت تک عصمت چغتائی افسانہ نویس کی حیثیت سے مشہور ہو چکی تھیں۔ ان دونوں کی ملاقات بمبئی میں ہوئی اور ملاقاتیں بڑھتی رہیں یہاں تک کہ ایک دن خبر ملی کہ عصمت چغتائی اور شاہد لطیف شادی کر رہے ہیں۔ کسی کو یقین نہیں آیا کہ عصمت جیسی ذہین، سمجھ دار، خوش شکل اور مشہور لڑکی ایک شرابی کے ساتھ شادی کیوں کرے گی لیکن یہ ایک حقیقت تھی۔ عصمت چغتائی کے گھر والے بھی اس شادی کے حق میں نہیں تھے یہاں تک کہ خاندان کے کسی فرد نے اس شادی میں شرکت نہیں کی مگر عصمت چغتائی نے ہمیشہ من مانی کی تھی اور جو درست سمجھا وہی کیا۔ لہٰذا شادی کے معاملے میں بھی انہوں نے اپنے دل کی بات مانی۔ دنیا والوں کی انہوں نے پہلے کون سی پرواہ کی تھی کہ اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں لوگوں کے اعتراض اور انگشت نمائی کو خاطر میں لاتیں؟

اس طرح ایک فلمی ادیب شاہد لطیف سے عصمت چغتائی کی شادی ہو گئی۔

’’آفاق‘‘ میں ہمارے ساتھ خالد لطیف صاحب کام کیا کرتے تھے۔ اس سے پہلے وہ ’’نوائے وقت‘‘ میں بھی ہمارے ساتھ تھے۔ بہت خوبصورت اور وجیہہ نوجوان تھے۔ بعد میں وہ امریکی محکمہ اطلاعات سے وابستہ ہو گئے پھر ’’اسٹار‘‘ نیوز ایجنسی میں بھی کام کیا۔ انگریزی اخبار ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ کے سینئر رپورٹر بھی رہے۔ 1963ء میں انہوں نے اردو پریس سروس کے نام سے اردو میں خبر رسانی کا ایک ادارہ قائم کیا تھا کو کہ ہمارے ملک میں بالکل نیا تجربہ تھا۔ انہوں نے یورپی ممالک سے اردو کے ٹیلی پرنٹر بنوا کر منگوائے۔ یہ بھی ایک کارنامہ تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے شخص کو حکومت ہر طرح امداد فراہم کرتی اور اس کی حوصلہ افزائی کرتی تاکہ انگریزی ٹیلی پرنٹرز سے اخبارات کی جان چھوٹ جاتی جو کہ آج بھی ہمارے اخبارات پر مسلط ہیں لیکن ہماری حکومتوں کو نہ تو کسی کے اچھے کام کو سراہنے کی فرصت ہے اور نہ ہی قومی زبان اردو سے کسی کو لگاؤ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں برائے نام سرکاری گرانٹ سے زیادہ کسی اور چیز کا مستحق نہیں سمجھا گیا۔

خالد لطیف ایک آزاد منش اور بااصول نظریاتی صحافی تھے۔ خدا کے فضل سے آج بھی موجود ہیں۔ برف کی طرح سفید بال ہو چکے ہیں مگر ان کی رعنائی میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ کچھ اضافہ ہی ہوا ہے۔ ان کی اس ذاتی جدوجہد، کاوش اور خلوص کی قدر تو کیا جاتی 1964ء میں حکومت ان سے ناراض ہو گئی۔ وجہ؟ 1964ء کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے مفاد پرستوں کے برعکس ایک خالص پاکستانی اور مسلم لیگی ہونے کی وجہ سے ایوب خاں کے مقابلے میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت میں مہم شروع کر دی۔ حکمرانوں کی طبع نازک پر یہ ’’گستاخی‘‘ بہت بار گزری چنانچہ ناراض ہو کر حکومت نے ان کے ادارے کو ملنے والی سرکاری امداد روک دی۔ انہوں نے جرمنی سے اردو ٹیلی پرنٹر بطور خاص تیار کروا کے درآمد کیے تھے۔ حکومت کی سرکاری امداد بند ہونے کے باعث وہ یہ درآمد کردہ ٹیلی پرنٹر کسٹم سے نہیں چھڑا سکے۔ ہرجانے اور سود کی رقم بڑھتی گئی۔ قرض دار ہوگئے۔ بالآخر نیشنل بنک آف پاکستان نے یہ ٹیلی پرنٹر کسٹم سے آزاد کرا کے سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے حوالے کر دیئے۔ اس طرح خالد لطیف کو بھاری مالی نقصان کے علاوہ ذاتی طور پر ذہنی صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا۔ اس کے بعد بھی وہ لشتم پشتم اردو پریس سروس چلاتے رہے مگر ذاتی کوششوں سے یہ کام خوش اسلوبی سے نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جب بہت زیادہ مقروض ہو گئے تو آخر کار اردو پریس سروس بند کر دی۔ اس کے بعد بھی وہ تصنیف و تالیف کا کام کرتے رہے بلکہ آج کل بھی دل کا بائی پاس کروانے کے باوجود لکھنے پڑھنے میں مصروف ہیں۔ پچھلے دنوں ان کی دو کتابیں شائع ہوئیں ہیں۔ ایک ’’طوائف‘‘ جو کہ تیسری صدی ہجری کے عظیم ادیب الجاحظ کے رسالے کا ترجمہ ہے۔ جسے انہوں نے حواشی سے بھی آراستہ کیا ہے۔ دوسری کتاب ’’سفرنامہ ابنِ فضلان‘‘ ہے۔ یہ 921 عیسوی میں خلیفہ المقتدر کے سفیر احمد بن فضلان کے اتراک، باشرک، خزرستاں اور فارمنوں کے روسی علاقوں کے سفر و سیاحت پر مبنی ہے۔ خالد لطیف نے بہت تحقیق کے بعد حواشی بھی تحریر کیے ہیں۔ یہ دونوں کتابیں علمی و ادبی حیثیت سے نادر روزگار ہیں۔ مگر آج کل ان چیزوں کی کون قدر کرتا ہے۔ انہوں نے ذاتی اخراجات پر بہت عمدگی سے یہ کتابیں شائع کر دی ہیں۔ نہ صلے کی تمنا ہے نہ ستائش کی پروا۔ اپنے شوق و ذوق کی تکمیل اور اہل علم و ہنر تک قیمتی و نادر معلومات پہنچانے کی غرض سے انہوں نے یہ کام کیا ہے۔ آپ کہیں گے عجب سر پھرا شخص ہے۔ جی ہاں۔ دنیا ایسے ہی سر پھروں کی بدولت تہذیب و ثقافت اور علم و ادب کے سرمائے سے مالا مال ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ بذاتِ خود خالی ہاتھ ہیں۔

(جاری ہے... اگلی قسط پڑھنے کیلئےیہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...