اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 51

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 51

  


وہ بڑی تاریک اور اداس رات تھی۔ مقدونیہ اور بابل و نینوا میں کیس نے چراغ روشن نہیں کیا تھا۔ سکندر بستر مرگ پر پڑا تھا۔ اس کی زبان بند ہوگئی تھی۔ شاہی اطبا کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی تھیں۔ لوگ اندھیرے مکانوں کی چھتوں پر ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ ان کی اشک آلود آنکھیں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی تھیں۔ وہ محیر العقول واقعے کے رونما ہونے کے منتظر تھے۔ مقدونیہ اور بابل کی بیٹیاں بال کھولے دیوتاؤں کے آگے سر سجود تھیں مگر ہونی آخر ہر کر رہی۔ آدھی دنیا فتح کرنے والے نے موت کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔ سکندر کی موت کے بعد میں نے ہندوستان واپس جانے کی تیاریاں شروع کردیں۔ میں روپا سے ملنا چاہتا تھا۔ چالیس روز تک سرکاری طور پر سکندر اعظم کی موت کا سوگ منایا گیا۔ اسی دوران میں ایک روز عظیم فلسفی ارسطو کی درس گاہ کے باغ میں بیٹھا تھا کہ ایک مصری طالب علم نے مجھے بتایا کہ دیو جانس کلبی کا انتقال ہوگیا ہے۔ دیوجانس کلبی جنگلوں اور قبرستانوں میں گھومتا رہتا تھا۔ جہاں رات ہوتی وہیں کسی جگہ پڑ کر سویا رہتا۔ کسی نے جنگل میں اس کی لاش دیکھی جو نیلی پڑچکی تھی۔ پتہ چلا کہ اسے سانپ نے ڈس لیا تھا۔ اس روز مجھے اس قلندر فلسفی کی بہت یاد آئی۔ مجھے وہ دن بھی یاد آیا جب ایک آدمی نے اس کے سامنے کہا تھا کہ میں صاحب علم ہوں کیونکہ میں عام لوگوں کی صحبت میں رہتا ہوں۔ دیوجانس نے اسے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’ میں امیر لوگوں کی صحبت میں رہا کرتا تھا مگر امیر نہیں ہوسکا۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 50پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

شروع شروع میں جب دیوجانس کلبی لوگوں میں گھل مل کر رہتا تھا تو اس کی عادت تھی کہ اس کی مجلس میں کوئی نووارد آتا تو اس سے اس کا نام پتہ اور حسب نسب پوچھنے کی بجائے صرف اتنا کہا کرتا ہے۔ ’’ بات کرو تاکہ مجھے معلوم ہوس کے کہ تم کون ہو۔‘‘

مجھے دیوجانس کی موت کا کوئی افسوس نہ ہوا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ شخص ساری زندگی موت کو گلے لگائے پھرتا رہا تھا بلکہ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ ساری زندگی موت اس کے آگے بھاگتی رہی اور وہ اس کی گھات میں رہا۔ اپنی فلسفیانہ زندگی کے ابتدائی ایام میں دیوجانس بھی کچھ فلسفے اور حکمت کی باتیں کیا کرتا تھا مگر اس کے بعد وہ کسی سے فلسفے کی کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ ایک تحقیر آمیز طنزیہ مسکراہٹ ہر وقت اس کے چہرے پر رہتی تھی۔ وہ بہت کم بات کرتا۔ جب بھی بات کرتا طنزیہ انداز میں کرتا۔ اس کی لاش رات بھر جنگل میں پڑی رہی۔ صبح درس گاہ کے کچھ طلبا لاش لینے جنگل میں گئے تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔

اس روز مجھے اپنا سانپ دوست قنطور بہت یاد آیا۔ اگر وہ میرے ساتھ مقدونیہ میں ہوتا تو اپنے سانپ کے مہرے کی مدد سے دیو جانس کی لاش کا زہر چوس سکتا تھا لیکن تاریخ میں ہوچکے حادثوں کو تو وہ بھی نہیں روک سکتا تھا شاید یہی وجہ تھی کہ میں اس کا مہرہ اپنے ساتھ نہ لا سکا تھا حالانکہ قنطور نے اصرار بھی کیا تھا کہ میں اس کا مہرہ اپنے ساتھ رکھ لوں۔ میں نے دیوجانس کی مارگزیدہ لاش کے پاس کھڑے ہو کر قنطور کے مہرے کی خوشبو لینے کی کوشش میں کئی بار لمبے سانس بھی لئے تھے مگر وہ وہاں نہیں تھا۔ خدا جانے وہ کس ملک میں اور کن حالات میں تھا۔ بہرحال اب میرے لئے مقدونیہ میں رہنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ چنانچہ ایک روز میں گھوڑے پر سوار ہوا اور اس کا رخ ایتھنز کی طرف کردیا۔ ایتھنز سے میں ایک بادبانی سمندری جہاز میں سوار ہوا جو ملک ہندوستان کی طرف تجارتی سامان لے کر جا رہا تھا۔

ہندوستان کا ملک اس زمانے میں بھی سونے کی چڑیا کہلاتا تھا۔ یہ ملک سیاحت و تجارت کا مرکز تھا لیکن اس ملک کے نام کے بارے میں ایک زبردست تاریخ غلط فہمی پیدا ہوچکی ہے جس کا میں ابتدا ہی میں واضح کر دینا چاہتا ہوں۔ اس ضمن میں مجھے کسی مورخ محقق یا کسی مستند کتاب کے حوالے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ میں نے خود تاریخ کے ہر دور میں سفر کیا ہے اور کئی غلط باتوں کو رواج پاتے دیکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم قدیم ہندوستان کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد ہندوستان نہیں ہوتا جو آج کا بھارت ہے بلکہ اس سے مراد آج کا پاکستان ہوتا ہے۔ جس زمانے کی میں موت کر رہا ہوں اور جس زمانے میں آج سے قریباً تین ہزار برس پہلے میں سفر کر رہا تھا اس وقت موجودہ بھارت کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اس زمانے کا بھارت یعنی آج کا جنوبی اور شمالی بھارت ایک ایسا گمنام علاقہ تھا کہ جہاں کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے شہروں کے راجہ بند قلعے بنا کر رہتے تھے اور ان کا شمار ترقی اور تہذیب یافتہ قوموں میں نہیں ہوتا تھا۔ اس زمانے کا ترقی یافتہ علاقے دریائے سندھ کی وادی تھی۔ جس میں موہنجودڑو اور ہڑپہ کی تہذیبی بھی شامل تھیں۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

ہنداصل میں سندھ کی بگڑی ہوئی شکل ہے موہنجودڑو اور ہڑپہ اس ترقی یافتہ ملک ہند یعنی آج کے پاکستان کی قدیم ترین تہذیب کے مرکز تھے۔ چینیوں سے پاکستان کے قدیم زمانے ہی سے تعلقات چلے آرہے ہیں۔ چینی اس علاقے کو دریائے سندھ کی مناسبت سے یو این تو کہا کرتے تھے۔ جو بعد میں پن تو اور شن تو بن گیا۔ سنسکرت زبان میں اس علاقے کو سندھویا سپت سندھو کہا جاتا تھا۔ سپت سندھو سے مراد دریائے سندھ اور اس کے چھ معاونین تھے۔ سنسکرت کا لفظ سندھو جب فارس پہنچا تو وہاں سندھ کی ’’ س‘‘ کو ’’ ح ‘‘ میں بدل دیا گیا اور سندھ سے ہندو بن گیا اور یوں اسے سپت سندھو سے ہفت ہندو کہا جانے لگا۔ ایران سے یہ نام یونان پہنچا تو انڈو اور انڈیا کی شکل میں ڈھل گیا۔ ہندو سنسکرت لفظ نہیں ہے اور نہ سنسکرت کی کتابوں میں اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے۔ کئی صدیوں تک ’’ انڈیا ‘‘ کا نام وادی سندھ یعنی آج کے پاکستان کے لئے بھی استعمال ہوتا رہا۔ ایران کے بادشاہ سائرس اعظم کے عہد میں جب ایرانی سلطنت کی جدود بحر روم سے نکل کر وادی سندھ تک پھیل گئیں تو شمالی ہند یعنی پنجاب کے شمالی مشرقی علاقے کو ’’ سر ہند ‘‘ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ میں اس حقیقت کا عینی شاہد ہوں کہ آج سے ڈھائی تین ہزار سال پہلے بھی یہی علاقہ سر سبزو شاداب اور ترقی یافتہ اور خوش حال تھا جو آج کا پاکستان ہے۔

میری منزل بھی یہی ملک سر ہند تھا اس وقت یعنی آج سے تین ہزار سال پہلے سکندر اعظم کی قلمرو میں شامل تھا۔ اور جس کا یونانی گورنر ٹیکسلا میں رہائش پذیر تھا۔ آج کے زمانے میں تو آپ کراچی ایئر پورٹ سے جیٹ طیارے میں سوار ہو کر ہوا میں پرواز کرتے ہوئے مہینوں کا سفر ، گھنٹوں میں طے کر لیتے ہیں لیکن تین ہزار سال پہلے بادبانی جہاز سمندروں میں ہوا کے رحم و کرم پر چلا کرتے تھے۔ اگرچہ ہوا بند ہوجاتی تو جہاز بیچ سمندر میں کھڑے ہو جاتے اور کئی کئی دن کھڑے رہتے۔ کئی مہینوں کے بعد میں ہند کے ساحل پر اترا اور وہاں سے ایک قافلے میں شریک ہوگیا جو ٹیکسلا کی طرف جا رہا تھا۔ میرا دل اپنی محبوبہ روپا کو ایک نظر دیکھنے کے لئے بے تاب ہو رہا تھا۔ قافلہ اونٹوں اور گھوڑوں پر سفر کرتے ہوئے ایک مہینے میں ٹیکسلا پہنچا۔ راجہ پورس مجھے اپنے شاہی محل میں پاکر بہت خوش ہوا۔ وہ میرے جڑی بوٹیوں کے علم اور تجربے کا زبردست مداح تھا۔ اس نے اسی وقت مجھے اپنا شاہی طبیب نامزدہ کر دیا۔ میری آنکھیں اپنی سیاہ جشم محبوبہ روپا کو تلاش کر رہی تھیں۔ میں نے موقع پا کر اس کے بارے میں ایک درباری رتن سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ روپا کی شادی راجہ پورس نے اپنے ایک ضعیف العمر بھائی سے کردی تھی جو اس سے محبت کرتا تھا اور جس کی بات راجہ پورس نہیں ٹال سکتا تھا۔

’’ لیکن روپا کا بوڑھا خاوند بستر مرگ پر ہے۔ اسے کوئی ایسا مرض لاحق ہوگیا ہے جو لاعلاج ہے۔ وہ آج کل میں مرجائے گا اور یہاں کی رسم کی مطابق اس کی پتنی روپا اس کی لاش گود میں رکھ کر چتاکی آگ میں جل کر ساتھ ہی مر جائے گی۔ ‘‘

میرے قدموں تلے کی زمین نکل گئی۔ میں روپا کے خاوند کا علاج کرنے کے بہانے اس کے محل میں پہنچا۔ میں اس کے علاج کر کے اسے پھر صحت مندر کرنا چاہتا تھا تاکہ روپا کی زندگی بچائی جا سکے۔ روپا مجھے دیکھ کر منہ چھپا کر آنسو بہانے لگی۔ وہ پہلے سے بہت کمزور ہوگئی تھی۔ اس کے ضعیف العمر خاوند کی حالت بہت خراب تھی۔ کثرت شراب نوشی نے اس کے جگر کو چھلنی کردیا تھا۔ دنیا کی کوئی دوا اس کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی تھی لیکن میں روپا کو اس بڈھے شرابی کی تلاش کے ساتھ ستی ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میں نے پہلے تو یہ کوشش کی کہ کس طرح روپا کو اپنے ساتھ مشرقی ہندوستان کی طرف بھاگ چلنے پر آمادہ کروں مگر وہ بڑی سخت مذہبی عورت تھی کہنے لگی۔

’’ میں اپنے بیمار پتی کے ساتھ بے وفائی نہیں کر سکتی۔ میں اس کے ساتھ چتا کی آگ میں جل کر مرجاؤں گی مگر اس سے بے وفائی نہیں کروں گی۔ ‘‘

اس کی طرف سے مایوس ہو کر میں نے اس کے خاوند کا علاج کرنا شروع کردیا۔ لیکن اس بڈھے رقیب روسیاہ کی حالت بہت خراب تھی۔ میں نے اس پر ہر قسم کی جڑی بوٹی آزمائی۔ اس کی بیماری میں کوئی افاقہ نہ ہوا۔ حالت روز بہ روز خراب تر ہوتی چلی گئی۔ مجھے ایک دم سے ایک نادر بوٹی کا خیال آگیا جو جگر کے مرض کے لئے بڑی اکسیر ہوتی ہے اور وہ عام طور پر سنگلاخ میدانوں میں تھوہر کی خار دار چھاڑیوں کے پاس لگی ہوئی ملتی ہے۔ ٹیکسلا کے باہر سنگلاخ میدانوں کی کمی نہ تھی۔ آج کا ٹیکسلا تو ایک جدید شہر ہے مگر اس زمانے میں جب سکندر اعظم کا یونانی گورنر سلیو کس وہاں ایک عالی شان محل میں رہتا تھا اور راجہ پورس کی برائے نام حکمرانی تھی، ٹیکسلا سنگلاخ میدانوں کے درمیان ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ ابھی بدھ مت کا نام و نشان بھی نہیں تھا اور وہاں کوئی یونیورسٹی قائم نہیں ہوئی تھی۔ خود گوتم بدھ ابھی ایک شہزادہ تھا جو کپل وستو کے چھوٹے سے محل کی چار دیواری میں غور و فکر میں غلطاں رہتا تھا۔ اس روز تھوڑی دیر پہلے دوپہر کے وقت بڑے زور کی آندھی چڑھی تھی اور آسمان پر کالی گھٹا چھائی ہوئی تھی اور کسی وقت بھی بارش شروع ہوسکتی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ جس میں کیکر کے پھولوں کے مہک رچی ہوئی تھی۔ میں شہر کے باہر ایک پہاڑ کے دامن میں آگیا۔ یہاں میں نے تھوہر کی خاردار جھاڑیوں میں جگہ جگہ اس کی ناور زمانہ بوٹی کو تلاش کیا جو بابل اور مصر کے ویرانوں میں عام پائی جاتی تھی مگر میں کامیاب نہ ہوسکا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار


loading...