شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد ن لیگ 5 گروپوں میں تقسیم

شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد ن لیگ 5 گروپوں میں تقسیم
شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد ن لیگ 5 گروپوں میں تقسیم

  


لاہور (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی نیب کی طرف سے ہونی والی گرفتاری اور دس روزہ ریمانڈ ملنے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں ان دونوں عہدوں کو حاصل کرنے کے لیے پارٹی پانچ گروپوں میں تقسیم ہوگئی سب سے بڑا گروپ جس کی قیادت میاں نواز شریف ، مریم نواز اور خواجہ آصف کر رہے ہیں دوسرے اندرونی گروپ کی قیادت پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز اور رانا ثناء اللہ کر رہے ہین مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین اور قائد حزب اختلاف سینٹ راجہ ظفر الحق مسلم لیگ (ن) کے صدارتی امیدوار ہیں اس طرح بلوچستان میں سردار یعقوب ناصر اور خیبرپختونخوا سے سابق گورنر ظفر اقبال جھگڑا اور امیر مقام صدارتی امیدوار ہیں جبکہ رانا تنویر بھی اپنے آپ کو مسلم لیگ (ن) کا صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بننے کے لیے موزوں سمجھتے ہیں ۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے حلقوں میں یہ بھی افواہیں گرم ہیں کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی تشستوں سے بطور احتجاج مشترکہ طور پر ایک دم استیفے دے کر حکومت کو بحران کا شکار کر دیا جائے تاکہ حکومت کسی قسم کی پکڑ دکڑ کے معملات کو چھوڑ کر اپنی حکومت بچانے کے لیے نکل پڑے۔

روزنامہ خبریں کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے زیادہ تر ارکان اسمبلی اس مستعفی ہونے کی بات پر متفق نہیں ہین کیونکہ وہ ساری جنگ سڑکوں کی بجائے ایوان کے اندر رہ کر لڑنا چاہتے ہیں جبکہ کچھ ارکان کا خیال ہے میاں نواز شریف اور شہاز شریف پر الزامات ہیں کہ انہوں نے ملکی دولت کو لوٹا ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش ہون کر اپنے اپر لگائے گئے الزامات کا جواب دینا چاہیے جس سے پارٹی بیانیہ کو تقویت ملے گی میاں شہباز شریف کی نیب عدالت کی پیشی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف گروپ کے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور کارکن سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے جبکہ نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں سے کوئی بھی نظر نہیں آیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح میاں نواز شریف کی لاہور ایئر پورٹ پر لندن سے آمد کے بعد میاں شہباز شریف ریلی نکالتے رہے اور ملنے کے لیے بھائی کو نہ پہنچ سکے بلکل اسی طرح میاں نواز شریف بذات خود نیب میں پیشی کے موقع پر تشریف نہ لائے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں دھونی لگی ہوئی ہے اور وہ سلگ رہی ہے کہ اختلاف رائے کہاں تک ہیں۔

 لاہور میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے حلقوں این اے 131 جہاں سے تحریک انصاف کے ہمایوں اختر خان اور مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہونے کی توقوں تھی وہ شہباز شریف کی گرفتاری اور خواجہ سعد رفیق کی نیب میں طلبی نے ٹھنڈی کر دی ہے اس طرح لاہور کے حلقہ این اے 124 سے تحریک انصاف کے نامزد امیدوار غلام محی الدین دیوان اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے درمیان ہونے والا سیاسی دنگل بھی مدھم ہوگیا ہے اور مسلم لیگ (ن) کے انتخابی دفاتر میں ووٹوں کی آمد کا سللہ وہ نہیں رہا جو تحریک انصاف کے دفاتر میں دیکھا جا رہا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ این ایل جی کیس میں شاہد خاقان عباسی بھی نااہل ہوجائے گے اور اس طرح لاہور میں ضمنی انتخابات کے موقع پر دنگل تحریک انصاف جیتنے کی پوزیشن میں ہوگی۔

مزید : قومی /سیاست /علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...