شہباز کی گرفتاری پر حیرانی کی ضرورت نہیں ، سوچا سمجھا اقدام ہے

شہباز کی گرفتاری پر حیرانی کی ضرورت نہیں ، سوچا سمجھا اقدام ہے
شہباز کی گرفتاری پر حیرانی کی ضرورت نہیں ، سوچا سمجھا اقدام ہے

  


تجزیہ :ایثار رانا

شہباز شریف کی اچانک گرفتاری پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں ، یہ ایک سوچا سمجھا اقدام ہے ، میری نظر میں یہ بزدار ریسکیو آپریشن ہے اور وزیراعلیٰ کی حکومت بچانے اسے مستحکم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان تک اطلاعات آتی تھیں کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ بزدار کی کمزور سیاسی پوزیشن اور پاکستان تحریک انصاف میں اس کی کشمکش کا فائدہ اٹھانے کیلئے شہباز شریف اور ان کی جماعت کے کچھ لوگ میدان میں اترے تھے۔ انہیں پاکستان کے کچھ طاقتور لیکن فی الحال کمزور عناصر کی کسی حد تک فائید و حمایت بھی حاصل تھی ، اطلاعات یہ تھیں کہ شہباز شریف پنجاب میں بزدار حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کے تحریک انصاف کے ان ارکان اسمبلی سے بھی رابطے ہیں جو کچھ وہ وجود کی بنائ پر بد دل ہوچکے تھے۔ سابق وزیر رانا مشہور کے ٹی وی انٹرویو میں کچھ باتیں کسی حد تک درست ہیں۔ لیکن وہ یہ باتیں کرنے میں ذرا جلدی کر گئے ، انکا پیٹ اتنی بڑی باتوں کو ڈائجسٹ نہ کر سکا۔ وفاقی حکومت کے پاس ایسی اطلاعات آئیں تو اس کے پاس افراتفری میں شہباز شریف کی گرفتاری کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ شہباز شریف کی گرفتاری کی دوسری اہم وجہ میاں نواز شریف اور دیگر کی ضمانت پر رہائی بھی تھی۔ ان کی رہائی کو اس بات کی جانب اشارہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ موجود نظام میں اداروں کے اندر بہرحال ایک طاقتور طبقہ موجود ہے جو ایک دوسری رائے رکھتا ہے۔ نواز شریف کی ضمانت پر رہائی اس رائے کا ایک اظہار ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں سیاسی شخصیات کے حوالے سے انصاف اور قانون کے فیصلے خاصی حد تک سیاسی ہوتے اور ان میں سیاسی کشمکش اور ذاتی نظریات کی جھلک نظر آتی ہے۔ نواز شریف کی ضمانت پر رہائی اور شہباز شریف کی گرفتاری اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔

مزید : تجزیہ


loading...