”ہم مہاجروں کی بستی اور اس کے کیچڑ سے زیادہ دور نہ تھے ، مکھیوں نے ہمیں گھیرلیا اور....“ انگریز نرس کی زبانی وہ قیامت خیز لمحے جب قائد اعظم کراچی کی سڑک پر دم توڑ رہے تھے، حقیقت جان کر آپ بھی تڑپ اٹھیں

”ہم مہاجروں کی بستی اور اس کے کیچڑ سے زیادہ دور نہ تھے ، مکھیوں نے ہمیں ...
”ہم مہاجروں کی بستی اور اس کے کیچڑ سے زیادہ دور نہ تھے ، مکھیوں نے ہمیں گھیرلیا اور....“ انگریز نرس کی زبانی وہ قیامت خیز لمحے جب قائد اعظم کراچی کی سڑک پر دم توڑ رہے تھے، حقیقت جان کر آپ بھی تڑپ اٹھیں

  


لاہور(ایس چودھری)بانی پاکستان کی وفات کراچی کی سڑک پر کن حالات میں ہوئی ،اس پر کئی طرح کی آراپائی جاتی ہیں ۔اگرچہ اس پر آپ کے معالج کرنل ڈاکٹر الٰہی بخش نے بھی روشنی ڈالی تھی تاہم انگریز مورخ ہیکٹر بولائتھو نے اس پر کافی تحقیق کی اور اس نرس کی زبانی قائد اعظم کے آخری سانسوں کی کہانی پوری دنیا کو سنا دی تھی ۔انگریز محقق نے سسٹر ڈنہم کی زبانی کراچی کی سڑک پر قائداعظم کی ایمبولینس کی خرابی کے بعد اس قیامت کی گاڑی کے بارے یوں لکھا ہے

”مہاجروں کی بستی اور اس کے کیچڑ سے زیادہ دور نہ تھے اور مکھیوں نے ہمیں گھیر لیا تھا۔ میں نے گتے کا ایک ٹکڑا ڈھونڈ نکالا اور اس سے مسٹر جناح کے منہ پر پنکھا جھلنے لگی تاکہ مکھیاں نہ بیٹھنے پائیں۔ چند منٹ تک ان کے پاس میرے سوا کوئی نہ تھا اور اس اثنا میں انہوں نے میری دلجوئی اس انداز سے کی کہ میں ساری عمر نہیں بھول سکتی۔ انہوں نے اپنا بازو چادر میں سے نکالا اور اپنا ہاتھ میرے بازو پر رکھ دیا۔ وہ زبان سے کچھ نہ کہہ سکے لیکن ان کی آنکھوں سے ان کے جذبہ تشکر کا پوری طرح اظہار ہورہا تھا۔ میں ان کی جو کچھ خدمت کرسکی تھی یہ ایک نگاہ اس کا مکمل صلہ تھی۔ اس سے بہتر صلہ مجھے کیا مل سکتا تھا۔ اس وقت یوں معلوم ہوتا تھا کہ قائداعظم کی ساری روح ان کی آنکھوں میں اتر آئی ہے۔“

دوسری ایمبولینس پر سفر کی آخری منزل شروع ہوئی۔ اس وقت بہت سے لوگ ہوا خوری کیلئے سڑک پر نکل آئے تھے، لیکن چونکہ ایمبولینس پر کوئی پرچم نہ تھا، اس لئے کسی نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ چھ بجکر دس منٹ پر ایمبولینس گورنمنٹ ہاﺅس پہنچ گئی اور قائداعظم کو اوپر ان کے کمرے میں پہنچادیا گیا۔ ڈاکٹروں اور نرس نے انہیں ایک مقوی قلب دو اپلانے کی کوشش کی لیکن دوا حلق میں اترنے کے بجائے ان کے دہانے سے بہہ کر باہر گرگئی۔

کراچی کے گرجا گھر نے سات کا گھنٹہ بجایا، پھر چند منٹ بعد شہر بھر کے مو¿ذن اپنی اپنی مسجدوں کے میناروں پر سے مسلمانوں کو مغرب کی نماز کیلئے بلانے گئے۔ڈاکٹروں نے قائداعظم کے پلنگ کی پائنتی ذرا اونچی کردی تاکہ دل کی طرف دوران خون تیز ہوجائے۔ پھر انہوں نے ایک انجکشن لگانا چاہا، لیکن قائد کے جسم کی رگیں بے جان ہوچکی تھیں۔ نوبجکر پچاس منٹ پر کرنل الہٰی بخش نے جھک کر آہستہ سے کہا”جناب! ہم نے آپ کو طاقت کا انجکشن لگایا ہے اور انشاءاللہ آپ ٹھیک ہوجائیں گے۔“ اس پر قائداعظم نے اپنے سر کو جنبش دی اور پھر آخری مرتبہ ان کی آواز سنائی دی”نہیں، اب میں نہیں بچوں گا۔“ اس گفتگو کے تیس منٹ بعد وہ اس دنیا سے سدھار گئے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /روشن کرنیں


loading...