اخبارات نے عمران خان کے بیان کی سرخیاں غلط لگائیں :خورشید قصوری

اخبارات نے عمران خان کے بیان کی سرخیاں غلط لگائیں :خورشید قصوری
اخبارات نے عمران خان کے بیان کی سرخیاں غلط لگائیں :خورشید قصوری

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصور ی نے کہاہے کہ عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نہ جانے کا فیصلہ دانشمندانہ تھا ،سعودی عرب نے سی پیک میں سرمایہ کاری کرکے امریکی پالیسی سے اختلاف کیاہے ، سی پیک کے حوالے سے وزیر اعظم عمران ان کے بیان کی اخبارات میں سرخیا ں غلط لگیں ،چائنہ میں آرمی چیف کا جس طرح استقبال کیا گیا ،وہ کوئی چھوٹی بات نہیں، مذاکرات سے انکار کرکے بھارت کو نقصان پہنچا ۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”نوٹائٹ ودھ معید پیرزادہ “ میں گفتگو کرتے ہوئے خورشید محمود قصوری نے کہا کہ عمران خان کا اقوام متحدہ میں نہ جانے سے نظر آتاہے کہ پاکستان کو اقتصادی چیلنج سے نبرد آزما ہونا ان کی اولین ترجیح ہے ، اگر وہ چلے جاتے تو جتنی پبلسٹی ان کو ملتی کسی اور کو نہ ملتی ، اب یہ لگتا ہے کہ عمران خان کے نہ جانے کی بات میں وزن تھا ، انہوں نے انتخابی مہم میں کشکول توڑنے اور امریکہ کے بارے میں بات کی تھی اور یہ بات انہوں نے دل سے کی تھی ، عمران خان جب اقتدار میں آئے تو ان کو پتہ چلا کہ جس قسم کا جنرل اسمبلی میں بیانیہ چلے گا وہ اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ا س وقت جان ملٹن نے کہاہے کہ ان کی وزیر خارجہ شا ہ محمود قریشی سے ملاقات مفید رہی ہے اور یہ بات پاکستان کا دفتر خارجہ نہیں کہہ رہا، اس لئے عمران خان کی بات میں وزن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے دعوت شا ہ محمود قریشی کودی تھی عمران خان کو نہیں دی تھی ۔ اس لئے عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نہ جانے کا فیصلہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا ۔انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی اس حوالے سے کامیاب رہی ہے کہ سعودی عرب نے سی پیک میں سرمایہ کاری کی ہے جس سے امریکہ خوش نہیں ہے ، سعودی عرب نے امریکی پالیسی سے اختلافات کرتے ہوئے سی پیک میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے یہ پیغام دیاہے کہ یہ منصوبہ اچھا ہے ، اب سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں جو آئل ریفائنری لگانے کا فیصلہ کیاہے وہ بھی اربوں ڈالر میں ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ چائنہ کے حوالے سے وزیر اعظم عمران کے بیان کی اخبارات میں سرخیاں غلط لگ گئی ہیں، انہوں نے بلوچستان کے پراجیکٹس کے حوالے سے بات کی ہے ، سی پیک کے حوالے سے بات نہیں کی ، چائنہ میں آرمی چیف کا جس طرح استقبال کیا گیاہے وہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے ۔ عمران خان کے نریندر مودی کو خط لکھنے اور ان کی جانب سے منفی جواب دینے سے نقصان بھارت کو ہواہے ، عالمی برادری میں شاہ محمود قریشی کا ہاتھ مضبوط ہوا ہوگا ، انہوں نے ذاتی طور پر عالمی رہنماﺅں کوکہا ہوگا کہ ہم نے معقول بات کی تھی لیکن بھارتی اس کا کوئی مثبت جواب نہیں دے رہے اور اس بات کا نقصان پاکستان کو نہیں انڈیا کوہواہوگا ۔

مزید : قومی


loading...