ایران اور قطر نے سعودی عرب کی جاسوسی کے لئے بعض خواتین کو خصوصی طور پر تیار کیا ،یمن میں ایک اور حزب اللہ کی اجازت نہیں دے سکتے:سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 

ایران اور قطر نے سعودی عرب کی جاسوسی کے لئے بعض خواتین کو خصوصی طور پر تیار ...
ایران اور قطر نے سعودی عرب کی جاسوسی کے لئے بعض خواتین کو خصوصی طور پر تیار کیا ،یمن میں ایک اور حزب اللہ کی اجازت نہیں دے سکتے:سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 

  


ریاض(ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے انکشاف کیا ہے کہ قطر اور ایران نے سعودی عرب کی جاسوسی کے لئے بعض خواتین کو خصوصی طور پر تیار کیا تھا جنہیں ٹھوس شواہد کی روشنی میں گرفتار کیا تھا اور یہ اب بھی زیر حراست ہیں ،2019تک سعودی عرب کے20 سرکاری تجارتی اداروں جن میں پانی ،زراعت ،توانائی اور سپورٹس سمیت دیگر شامل ہیں کی نجکاری کر دیں گے ، سعودی عرب نے ترسیل زر پر کوئی پابندی نہیں لگائی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تشویش کی کوئی بات ہے،یمن میں ایک اور حزب اللہ کی اجازت نہیں دے سکتے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کا غیر ملکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ سعودی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے گرفتار ہونے والی بعض وہ خواتین بھی شامل ہیں جنہیں قطر اور ایران نے باقاعدہ طور پر تیار کیا تھا، زیر حراست افراد میں کچھ ایسے تھے جنہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ انہیں سراغرسانی کیلئے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،اسی وجہ سے انہیں رہا کردیاگیا۔ جہاں تک ان افراد کا تعلق ہے جو جا ن بوجھ کر سعودی عرب کیخلاف سرغرسانی کررہے تھے اور ان کی بابت شواہد اور تحقیقات ریکارڈ پر آچکی ہیں وہ ابھی تک زیر حراست ہیں۔ سعودی ولی عہدکا کہنا تھا کہ زیر حراست بعض خواتین ایران کیلئے بالواسطہ کام کرنے والی ایجنسیوں اور قطر سے منسلک تھیں،یہ خواتین سرکاری عہدیداروں کے ساتھ بھی رابطے میں تھیں اور انہوں نے اپنے نیٹ ورک قائم کئے ہوئے تھے، یہ جاسوس عورتیں قطر اور ایران کی حکومتوں کیلئے معلومات بھیج رہی تھیں اور یہ معلومات ایسی تھیں جو سراغرسانی کے دائرے میں آتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت 2019ء تک 20 سے زیادہ سرکاری تجارتی اداروں کی نجکاری کردے گی، ان اداروں کا تعلق پانی، زراعت، توانائی اور سپورٹس وغیرہ سے ہے،اس حوالے سے سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں بیروزگاری کی شرح 2019ء سے کم ہونا شروع ہوگی اور 2030ء تک 7 فیصد رہ جائے گی، تیل کے بڑھے ہوئے نرخ سرکاری اخراجات کا دائرہ بڑھانے میں معاون ثابت ہونگے۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے کہاکہ فوج ، سیکیورٹی اداروں، تعلیم اور سپورٹس سمیت مختلف شعبوں میں ہمیں بہت ساری آسانی فراہم کرنا ہونگی۔ محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بجٹ 2015۔16ء کا پچاس فیصد چٹ کر گئی تھیں، اب 2018ء کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر بجٹ کا 42 فیصد خرچ کیا جارہا ہے، 2020ء میں یہ تناسب مزید کم ہو کر 40 فیصد رہ جائے گا، ہماری کوشش ہے کہ 2030ء تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا بجٹ 30 فیصد تک کم کردیا جائے۔ایک سوال کے جواب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ترسیل زر پر کوئی پابندی نہیں لگائی اور اس حوالے سے تشویش کی کوئی بات نہیں، سعودی مارکیٹ دولت کی گردش کی آزادی کی پالیسی پر قائم ہے، خلیج جنگ کے دوران بھی مملکت نے ترسیل زر کی ممانعت نہیں کی تھی، سعودی عرب اپنے اس عہد پر قائم تھا، ہے اور رہے گا۔انہوں نے کہا کہ یمن میں ایک اور حزب اللہ کی اجازت نہیں دے سکتے،اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ جزیرہ نما ئے عرب میں نئی حزب اللہ کا وجود نہیں چاہتے، یہ سعودی عرب ہی نہیں پوری دنیا کے حوالے سے سرخ نشان ہے۔انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جلد یمنی بحران حل ہوجائے گا اور یمنی فریق بہت جلد مذاکرات اور معاہدے کیلئے تیار ہونگے۔

مزید : عرب دنیا


loading...