ڈینگی کے پھیلاؤ کی وجہ، ناکافی اقدامات

ڈینگی کے پھیلاؤ کی وجہ، ناکافی اقدامات

ملک بھر میں ڈینگی وبائی صورت اختیار کر چکا اور اب تک مچھر کاٹنے سے ہونے والے بخار کی وجہ سے 30سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے۔وفاقی مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں مرض کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ اب تک ملک بھر میں 16ہزار سے زائد افراد ڈینگی کا شکار ہوئے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ ہر روز سو سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں روزانہ 16سو افراد اس وباء کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وزارت قومی صحت کے اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عالمی اداروں اور ماہر ممالک کے تعاون سے تحقیقات کرائی جائے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ، امریکہ اور سری لنکا سے درخواست کی جا رہی ہے۔ دریں اثناء ڈاکٹر ظفر مرزا نے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ مقامات پر اینٹی ڈینگی سپرے کرایا جائے۔ حیرت ہے کہ اب تک سپرے ہی نہیں کرایا گیا اور اس مقصد کے لئے مشیر صاحب کی ہدایت درکار تھی۔ متعلقہ اداروں نے خود اپنا فرض کیوں نہیں نبھایا۔ ڈینگی کا پھیلاؤ سنگین صورت اختیار کر گیا اور کمی آنے کی بجائے اس میں اضافہ ہو رہا ہے یہ وائرس قابو نہیں آ رہا، اس سلسلے میں جو بھی جواز دیا جائے وہ اس کے وبائی صورت اختیار کرنے کے تاثر کو کم نہ کر سکے گا اور نہ ہی انسداد ڈینگی مشینری بری الذمہ قرار دی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق وبائی شکل غفلت کی وجہ سے ہوئی کہ اس سال مون سون تاخیر سے تو شروع ہوا لیکن بارشیں غیر معمولی ہوئیں کہ جب بھی بارش آئی، زوردار اور تیز ہوئی مجموعی طور پر زیادہ مقدار میں پانی برسا، جو نشیبی علاقوں اور مقامات پر ٹھہرا رہا، اسی طرح گرمی بھی شدید پڑی۔ بجلی مہنگی ہونے کے باعث لوگ ڈیزرٹ کولر بھی زیادہ استعمال کرنے لگے۔ اس طرح ڈینگی لاروا کی افزائش ہوئی اور روک تھام پر توجہ نہ دی گئی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ برسات کے ساتھ ہی نکاسی آب اور نشیبی مقامات سے بھی برساتی پانی خارچ کرنے کا اہتمام کیا جاتا اور ساتھ ہی معمول کا سپرے بھی شروع کر دیا جاتا تاکہ ڈینگی لاروا پیدا ہو کر اس کی افزائش نہ ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا اور جب مریضوں کی تعداد سینکڑوں سے ہزاروں میں پہنچی تو پھر توجہ دی گئی، اس پر بھی ہنگامی انتظامات نہ ہوئے۔ مختلف اضلاع کی انتظامیہ اپنے اپنے طورپر لاروا کا پتہ لگانے لگیں ہوٹلوں اور دکانوں کو جرمانے کئے گئے مقدمات درج کرائے گئے۔ تاہم اس طرف توجہ نہ دی گئی کہ پارکوں،گڑھوں اور گرین بیلٹوں میں سے پانی نکالا جائے اور شہروں، دیہات میں وسیع پیمانے پر اینٹی ڈینگی سپرے شروع کر دیا جائے۔ساتھ ہی مکمل آگاہی مہم کی ضرورت تھی۔ یہ سب اب تک نظر نہیں آیا، اگر لاروا اور مچھر تلف نہ ہوگا تو یہ وباء قابو آنے کی بجائے بڑھ جائے گی، بیرون ملک سے ماہر بلا کر ضرور تحقیق کرائیں تاہم عوام کو یہ تو بتائیں کہ اس تحقیق کا مقصد کیا ہوگا۔ جب تک مربوط اور تیز تر اقدامات نہ ہوں گے یہ مرض بڑھتا جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...