آگے کیا ہے؟

آگے کیا ہے؟
آگے کیا ہے؟

  

وزیر اعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی میں 27 ستمبر کی تقریر کا بہت ڈنکا بجا۔ اس دن پورے پاکستان میں خوب شادیانے بجائے گئے، بہت سے لوگ تو اتنے جذباتی تھے کہ لگتا تھا عمران خان کی ایک تقریر نے بھارت کو کشمیر میں چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ کہنے والے کہہ رہے تھے کہ عمران خان نے اپنی وزارتِ عظمی مضبوط کر لی ہے اور اگر کوئی متبال انتظام سوچا جا رہا تھا تو بھی اس تقریر کے بعد باقی کے تمام متبادل آپشن ختم کر دئیے جائیں گے۔ متبادل کے طور پر شاہ محمود قریشی کا نام کچھ مہینوں سے ڈرائنگ روموں اور سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا، لیکن ایک تو عمران خان کی دبنگ تقریر اور دوسرے شاہ محمود قریشی کی اپنی پرفارمنس نے اس آئیڈیا کو پنکچر کر دیا۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کشمیر کا کیس لے جانے کا دعوی 11 ستمبر کو کیا تھا جسے وزیر اعظم نے اسی دن اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ٹویٹ بھی کر دیا تھا کہ ہمیں 58 ملکوں کی حمائت حاصل ہے۔ اس کیس کو دائر کرنے کی ڈیڈ لائن 19 ستمبر تھی جو خاموشی سے گذر گئی۔ اس دن وزیر اعظم سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن سلمان کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

خیر، بعد میں پتہ چلا کہ اس کونسل کے اراکین کی کل تعداد ہی 47 ہے اس لئے 58 اراکین کی حمائت کا دعوی غالباً لا علمی کی وجہ سے تھا، یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان مطلوبہ 16 اراکین کی حمائت حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکا تھا اس لئے یہ کیس دائر نہیں کیا گیا۔ اس قضیہ میں شاہ محمود قریشی کی کریڈیبلیٹی کو دھچکا لگا۔ اقوام متحدہ میں جو ہونا تھا وہ تو ہوا، لیکن ملک کے اندر بھی شاہ محمود قریشی کا کلہ کمزور ہو گیا۔ پھر جب 27 ستمبر آئی تو وزیر اعظم کی تقریر نے بہت سے ناقدین کے منہ بھی بند کر دئیے اور متبال آئیڈیاز کو بریک لگ گئی۔ اس تمام عرصے کے دوران ملک کے اندرونی سیاسی اور اقتصادی حالات ویسے ہی رہے۔ دونوں بڑے اپوزیشن لیڈروں میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری سمیت اپوزیشن کے بہت سے لیڈر جیلوں میں بند رہے،ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کا بھی ریورس گئیر لگا رہا اور گاڑی آگے کی بجائے پیچھے کی طرف چلتی رہی۔ ہاں، البتہ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے متوقع سیاسی ہلچل میں ضرور اضافہ ہوا اور وہ 27اکتوبرکو اپنے لانگ مارچ پلان کی تیاری کرتے رہے۔

میرا اندازہ تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے سحر کی عمر ہفتہ دس دن یا زیادہ سے زیادہ دو تین ہفتے رہے گی کیونکہ تقریر جتنی بھی اچھی کیوں نہ ہو، ملکی مسائل تو جوں کے توں ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب جیسے جیسے دن گذر رہے ہیں، لوگ تقریر کو بھولتے جا رہے ہیں اور اپنے مسائل کے بارے میں زیادہ فکر مند نظر آتے ہیں۔ وہی تمام باتیں، کاروبار ٹھپ پڑے ہیں، لوگوں کا روزگار ختم ہو رہا ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، گورننس نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی، بے قابو پولیس شہریوں کے ساتھ ویسا ہی ناروا برتاؤ کرتی ہے، بیوروکریسی ٹس سے مس ہونے کے لئے تیار نہیں اس لئے کسی بھی کام کی فائل آگے نہیں چل رہی، وفاق تو ایک طرف،بزدارستان کے حالات اور بھی زیادہ خراب ہیں جہاں مریضوں سے سرکاری علاج کی سہولت تک چھین لی گئی ہے۔ ایسے حالات میں کسی نے اچھی تقریر کا کیا کرنا ہے، اس کا تعویز بنا کر پانی میں گھول کر تو نہیں پینا۔ لوگوں کو روٹی چاہئے،روزگار چاہئے، علاج معالجہ کی سہولیات چاہئیں، پولیس اور نیب سے تحفظ چاہئے، اپنے رکے ہوئے کام آگے چلتے ہوئے چاہئیں اور سب سے بڑھ کر عزت نفس چاہئے۔ عمران خان کی تقریر کے ٹھیک پانچ دن بعد ملک کے بڑے بزنس مین روتے دھوتے آرمی چیف کے پاس پہنچ گئے۔ ظاہر ہے جب حکومت، اس کے ادارے اور سسٹم فیل ہو جائیں تو لوگوں کا اعتماد ختم ہو جائے گا اور وہ ادھر ادھر دیکھیں گے کہ کہاں سے ان کی دادرسی ممکن ہے۔

اخباری شہہ سرخیوں کے مطابق کاروباری برادری اور بڑے تاجر آرمی چیف کے سامنے ’پھٹ‘پڑے۔ بتایا جا رہا ہے کہ آرمی چیف نے دادرسی کی یقین دہانی تو کرادی لیکن ساتھ ہی اونٹ کے گلے میں حکومت سے تعاون کرنے کی بلی بھی باندھ دی۔ خیر، ہمارے بڑے کاروباری حضرات یہ بلی گلے میں لٹکائے بہت خوش خوش آرمی چیف کے پاس سے نکلے، یقینا ان کے بہت سے مطالبات پر ہمدردانہ غور اور مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی ملی ہو گی۔ لیکن بنیادی سوال وہیں ہے، اگر بڑے کاروباری آرمی چیف کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لئے جا رہے ہیں تو پھر حکومت کہاں ہے؟شنید ہے کہ ان کی دیکھا دیکھی اب دوسرے لوگ بھی اپنے اپنے مسائل کے حل کے لئے آرمی چیف سے ملنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ویسے یہ کاروباری وفد 30 ایسے بڑوں پر مشتمل تھا جو پہلے ہی اربوں کھربوں کی مراعات حکومت سے لیتے رہتے ہیں۔

ابھی حالیہ ایک دو مہینوں میں ان لوگوں نے 220 ارب کے برآمدی ریفنڈ بھی لئے ہیں اور 300 ارب کا گیس GIDC بھی معاف کروا لیا تھا جو شور مچ جانے کی وجہ سے فی الحال رک گیا ہے اور اب اس کا دارومدار سپریم کورٹ میں چلنے والے کیس کے فیصلہ پر ہے۔ ان میں پاکستان کے ان لاکھوں تاجروں، کارخانہ داروں اور چھوٹے درمیانے بڑے کاروباری طبقہ کی نمائندگی نہیں تھی جن سے لاکھوں لوگوں کا روزگار اور کروڑوں کی روٹی وابستہ ہے۔ بالفرض آرمی چیف سے ملاقات کے بعد ان بڑے ٹائکونوں کے مسائل حل ہو بھی گئے (جو ہردور حکومت میں حل ہوتے ہیں اور موجودہ حکومت میں بھی ہو رہے ہیں) تو بھی کاروباری بندش کا پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا۔ فواد چوہدری جب وزیر اطلاعات تھے تو ان کا ایک مشغلہ ہر دوسرے چوتھے دن باہر کی کسی بڑی ملٹی نیشنل کی طرف سے پاکستان میں کروڑوں یا اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی خوش خبری دینے کا ہوتا تھا۔ ان کے منصب سے ہٹائے جانے کے بعد یہ خوش خبریاں نہ ہونے کے برابر رہ گئیں اور اب تو اگر کوئی خبر آتی ہے تو وہ یہی ہوتی ہے کہ فلاں بڑی ملٹی نیشنل نے پاکستان میں فلاں بڑی انویسٹ منٹ کا فیصلہ واپس لے لیا ہے یا فلاں پلانٹ بند کردیا ہے۔

اس کی حالیہ ترین مثال کار سازی کے بڑے ادارے نسان موٹرز کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا فیصلہ ختم کرنے کا اعلان ہے۔ ظاہر ہے جس ملک کے اپنے سرمایہ کار اپنا سرمایہ پاکستان کی بجائے دوسرے ملکوں میں لگا رہے ہیں وہاں کسی اور ملک سے سرمایہ کاری کی توقع رکھنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ہماری ماضی کی فوجی حکومتیں معیشت چلانے کے لئے بڑے ٹائکونوں کی طرف دیکھتی تھیں۔ جنرل ایوب خان اور جنرل یحی خان کے دور کے بڑے خاندان سب کو یاد ہوں گے۔جنرل ضیاء الحق اورجنرل مشرف دور میں بھی ساری پلاننگ اور فائدے چند مخصوص لوگوں کے گرد ہی گھومتے رہے۔

حکومت کے اپنے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس حکومت کے آنے سے پہلے اندرونی اور بیرونی قرضوں کی کل مالیت 24 کھرب تھی۔ حکومتی اندازے کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے پانچ سالوں (اگر یہ اپنی مدت پوری کرتی ہے) میں اس میں 20 کھرب کا اضافہ ہو گا، یعنی جتنے قرضے 71 سالوں میں لئے گئے، لگ بھگ اتنے ہی قرضے پی ٹی آئی حکومت اپنے پانچ سالوں میں لے گی۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف خود حکومت کر رہی ہے۔ اسی طرح ایف بی آر چئیرمین شبر زیدی نے بھی موجودہ مالی سال کی پہلی سہہ ماہی میں 120 ارب کے ریونیو شارٹ فال کا اعتراف کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مالی سال مکمل ہونے پر شارٹ فال تقریباً 500 ارب کا ہو گا جو ظاہر ہے مزید قرضے لے کر ہی پورا کیا جائے گا۔

ڈوبتی ہوئی معیشت اور ہاتھ سے نکلی جاتی سیاست اپنی جگہ، اس وقت عمران خان حکومت کو دو بڑے مارچوں کا سامنا بھی ہے۔ ایک مارچ وہ ہے جو مولانا فضل الرحمان 27 اکتوبر کو کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے تاثر دیا جا رہا ہے کہ مولانا صاحب اپنے ہونے والے مارچ میں تنہا ہیں کیونکہ اپوزیشن پارٹیاں یا تو ان کے مارچ میں شریک نہیں ہیں یا پھر تذبذب کا شکار ہیں۔ اس حقیقت سے قطع نظر کہ مولانا ایسے بھی نہیں کہ کچی گولیاں کھیلیں، بالفرض اگر دوسری اپوزیشن پارٹیاں اس مارچ میں شامل نہیں بھی ہوتیں تو بھی مولانا فضل الرحمان کے پاس اتنی نفری ضرور موجود ہے کہ وہ اسلام آباد جیسے چھوٹے شہر کو لاک ڈاؤن کر سکیں۔ اگر حکومت نے اس مارچ کو زبردستی روکا تو یہ ملک بھر میں پھیل جائے گا اور اگر مولانا اسلام آباد تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو اسے کنٹرول کرنا آسان نہیں ہو گا اور حکومت کے لئے بڑے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ غالباً حکومت کی بہتر پالیسی یہی ہو سکتی ہے کہ وہ مولانا سے کوئی ڈیل کر کے اس مارچ کو ہونے ہی نہ دے۔

ابھی تک تو حکومتی وزرا اسے میڈیا پر مولانا فضل الرحمان کی تضحیک کرکے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسرا مارچ جو حکومت کے لئے مسائل کھڑے کر سکتا ہے وہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی طرف سے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کا ہے۔ وزیر اعظم کشمیری نوجوانوں کو اس جذباتیت سے باز رہنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں بھی ایسی صورت حال پیدا ہونے جا رہی ہے کہ نوجوانوں کو روکنے سے ان کا اشتعال بڑھتا ہے اور نہ روکنے سے پاکستان کو عالمی برادری میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ دونوں مارچ ایسے ہیں جنہیں حکومت نہ نگل اور نہ ہی اگل سکتی ہے۔ عمران خان نے دھرنوں، لاک ڈاؤن، سول نافرمانی اور لاقانونیت کا جو جن بوتل سے نکالا تھا اب وہی ان کی حکومت نگلنے کے درپے ہے۔ پچھلی حکومتوں میں اتنی قابلیت تو تھی کہ ان حالات میں بھی انہوں نے معیشت سنبھالی ہوئی تھی۔ موجودہ حکومت میں تو یہ صلاحیت سرے سے مفقود ہے۔ لو اپنے دام میں صیاد آ گیا۔

مزید :

رائے -کالم -