معاشی اقدامات اور بے لاگ احتساب

معاشی اقدامات اور بے لاگ احتساب
معاشی اقدامات اور بے لاگ احتساب

  

اب شاید یہ موضوع ہی فرسودہ ہو گیا ہے کہ موجودہ حکومت معاشی زبوں حالی پر گرفت کرنے سے قاصر ہو چکی ہے۔ ایف بی آر کے اندازے کے مطابق اس مرتبہ بھی مطلوبہ ٹیکس حاصل نہیں ہو سکا۔ تقریباً ایک سو ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری نہ صرف رک چکی ہے، بلکہ چلتے ہوئے کارخانے اور کاروبار بھی خوفناک مندی کا ذکر کر رہے ہیں۔ آصف علی زرداری نے ٹھیک کہا تھا کہ حفیظ شیخ نے جو ہماری جماعت کو دیا۔ شاید وہی کچھ پی ٹی آئی بھی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ پی ٹی آئی کی تمام معاشی ٹیم ایک ہولناک ناکامی کا شکار ہو چکی ہے، لیکن شبرزیدی اور نعیم الحق جیسے دانشور نہ جانے کیوں بضد ہیں کہ ملک بہتری کی جانب رواں دواں ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی کھل کر سامنے آ چکی ہے، لیکن ہم ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اور وزیر خارجہ بضد ہیں کہ یہ اجلاس ہمارے ”حق“ میں بہتر رہا اب اس کا علاج کسی کے پاس نہیں، دوسری طرف پاکستان کے عوام کو اردگرد کی حقیقتوں سے بے خبر رکھنے کا کام میڈیا کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ایوب خان سے لے کر یحییٰ خان اور جماعت اسلامی تک بنگال کو غدار کام چور کاہل اور متعصب گردانتے تھے۔

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے دنیا کو بتایا کہ ان کا ملک جنوبی ایشیا میں بھارت سمیت ترقی کی رفتار میں سب سے آگے ہے۔ سالانہ شرح نمو آٹھ فیصد ہے، جبکہ پاکستان اڑھائی فیصد پر ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، بنگلہ دیش کے زرِمبادلہ کے ذخائر تقریباً تینتیس بلین ڈالر ہو چکے ہیں اور ہم صرف چھ ارب ڈالر کے لئے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ چکے ہیں جو 39 ماہ کی قسطوں میں ملیں گے میں یہ بات طنزاً نہیں کر رہا۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کے ایک ملازم کو اپنے ملک کے قومی خزانے کا نگران اور سربراہ بنا دیا ہے۔

عمران خان نے اپنے جلسوں اور جلوسوں میں جس آزادی اور حریت پسندی کا بار بار اظہار کیا تھا۔عملاً اس سے انتہائی مختلف رویہ اختیار کر لیا ہے اور افسوس کی بات ہے کہ اس کی معاشی ٹیم اس صورت حال کو انتہائی کامیابی شمار کرتی ہے۔ بنگلہ دیش کے زرِ مبادلہ کے ذخائر ہم سے تین گنا زیادہ ہیں۔ اس کا مطلب بہت واضح ہے کہ بنگلہ دیش کی سیاسی قیادت نے اپنے ملک کو ایک قومی جذبہ، دور اندیشی اور حقیقت پسندانہ انداز میں استوار کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی دو خاتون وزرائے اعظم میں کسی ایک کے پاس غیر ملکی جائیداد نہیں، جبکہ ہمارے سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ہمارے سابقہ کمانڈو صدر نے بھی غیر ملکی جائیدادیں بنانے میں پوری مہارت استعمال کی۔ بھارت اور سری لنکا کی سیاسی قیادت بھی بے چاری پاکستان کے سول اور فوجی حکمرانوں کے ہم پلّہ نہیں ہے۔ نہرو جیسا خاندان بھی برطانیہ میں کسی جائیداد کا مالک نہیں، لیکن ہمارے حکمرانوں کے ٹھاٹھ باٹھ ہی اور ہیں۔ وزراء، قومی اسمبلی کے اراکین، سیاسی جماعتوں کے عہدیدار، تاجر، صنعتکار، ن لیگ، پیپلزپارٹی،تحریک انصاف، ق لیگ، کوئی بھی کسی سے پیچھے نہیں، ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں اور خود بیرونِ ملک سرمایہ لے جاتے ہیں۔

بے لاگ احتساب کی بات کرنے والوں نے واضح کر دیا ہے کہ اب تاجروں اور سرکاری عہدیداروں کو نیب طلب نہیں کرے گی۔ معاملہ اب صرف سیاسی رہنماؤں سے ہو گا اور شاید وہ بھی پسند کے سیاسی رہنماؤں سے، میرا مطلب ہے سرمایہ کاروں اور تاجروں کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے کہ آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ ایک برس سے سرمایہ کاروں اور تاجروں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اس کا نتیجہ ریونیو ہدف میں سو ارب روپے کی کمی ہے۔ کیا اس سے پہلے کی اعتماد سازی ناکام ہو چکی ہے اور بار بار اعتماد سازی کی ضرورت ہے، مگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو آہستہ آہستہ اہداف میں مزید کمی بھی ہو سکتی ہے۔ حالت یہ ہے کہ ایک سرکاری ہسپتال، شیخ زید ہسپتال کے کارکنوں کو دو ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوئی۔ ایف بی آر نے اس ماہ تمام ملازمین کو ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی دھمکی دی ہے۔ ان کو بھی جو بے چارے ٹیکس نیٹ کے اہل ہی نہیں۔وگرنہ مزید تنخواہوں کی ادائیگی بھی روک دی جائے گی۔ ہر سرکاری ملازم کو اگر زبردستی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا تو سال کے بعد جناب زیدی اعلان کریں گے گزشتہ سال کی نسبت اس سال فائلر کی تعداد میں اتنے لاکھ کا اضافہ ہو چکا ہے، لیکن کیا اس ڈرامہ بازی سے اہداف پورے ہو جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -