قسمت کا دھنی مگر……

قسمت کا دھنی مگر……
قسمت کا دھنی مگر……

  


محنت دیانت اور مہارت کو ہی کامیابی کے اجزائے ترکیبی سمجھا جاتا ہے مگر کبھی کبھی قسمت ان سب پر حاوی ہو جاتی ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ وطن عزیز کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ایوب خان کرپشن، ملاوٹ اور بد عنوانیوں کے خلاف سخت گیر مہم کی وجہ سے عوام میں مقبول ہو گئے مگر پھر وہ اقتدار کی طوالت کے باعث مقبولت سے عدم مقبولیت کی جانب لڑھکنے لگے۔ 1965ء کے صدارتی انتخابات میں مادر ملت جیسی مقبول رہنما کو ”ٹیکنیکل شکست“ دینے کے بعد وہ مزید غیر مقبول ہونے لگے تو قسمت نے ملک کو بھارتی جارحیت کی وجہ سے جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، اس جنگ میں بری اور فضائی افواج کے جرأت مندانہ کردار سے بھارتی عزائم خاک میں ملا دیئے۔ صدر جنرل ایوب خان مقبولیت کے نصف النہار پر پہنچ گئے پھر روس کے شہر تاشقند میں پاک بھارت معاہدہ ہوا جس کے تحت ایک دوسرے کے علاقے واپس ہوئے اور غلط یا صحیح تاثر یہ بنا کہ جیتی ہوئی جنگ میز پرہار دی گئی حالانکہ سترہ روزہ جنگ کے بعد اسلحہ اور ایمونیشن کم پڑ گیا تھا اور کہیں سے دستیاب بھی نہیں تھا۔

اس تاثر نے ایوب خان کی مقبولیت کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ قسمت نے ایسے حالات پیدا کئے کہ وہ پھر نہ سنبھل سکے اور احتجاجی تحریک کے نتیجے میں وہ کرسی چھوڑ کر گھر چلے گئے، اسی طرح 1977ء میں تمام خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو عوامی مقبولیت کے عروج پر تھے۔ ان کے مقابلے کا لیڈر دور دور تک کوئی نہیں تھا۔ 1973ء کے متفقہ آئین کے تحت انتخابات 5 سال بعد 1978ء میں ہونا تھے۔ بھٹو مرحوم نے فیصلہ کیا کہ بکھری ہوئی اپوزیشن کو سنبھلنے کا موقعہ دیئے بغیر ایک سال پہلے ہی انتخابات کرا کے پانچ سال کا مینڈیٹ لے لیا جائے۔ عقلی طور پر بظاہر یہ فیصلہ بہت اچھا تھا مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں دھاندلی کے الزامات کے تحت ایسی تحریک چلی جو ایک اور مارشل لاء پر منتج ہوئی اس طرح کرسی بھی گئی اور جان بھی۔

سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں

لگتا ہے کہ قسمت کا کھیل اب بھی جاری ہے۔ معمولی اکثریت سے بننے والی موجودہ مخلوط حکومت نے اپنے دور کے ابتدائی تیرہ ماہ میں اپنی کارکردگی میں عوام کو شدید مایوس کیا، مہنگائی، بیروزگاری، کساد بازاری نے چیخیں نکلوا دیں۔ تمام اشارے عمران خان جیسی مقبول شخصیت کو غیر مقبول ہوتا ہوا بتا رہے تھے۔ تحریک انصاف کے اپنے کارکن سوشل میڈیا پر بھی چوکڑی بھول گئے۔ ان کے لئے حکومت کا دفاع مشکل ہو گیا۔ لگتا تھا کہ لاوا پک رہا ہے۔ کوئی ایک واقعہ بھی عوام کو سڑکوں پر لے آئے گا۔ مختلف طبقات جن میں تاجر، اساتذہ، ڈاکٹر شامل ہیں اپنے اپنے مطالبات منوانے کے لئے احتجاجی مظاہرے کرنا شروع بھی ہو گئے تھے۔اگر کوئی عوامی تحریک شروع ہوتی تو یہ تمام طبقات اس میں جوش و جذبے سے شامل ہو جاتے۔ مولانا فضل الرحمن کی لاک ڈاؤن مہم کے لئے ایندھن تیار ہو رہا تھا۔ ماضی کی حکمران مقبول جماعت مسلم لیگ (ن) اس لاک ڈاؤن میں شرکت کا اعلان کر چکی تھی۔ ماضی کی ہی دوسری حکمران مقبول جماعت پیپلزپارٹی بحیثیت پارٹی انکاری ہوتے ہوئے بھی اپنے کارکنوں کو شرکت سے نہیں روک رہی تھی ایسے میں 5 اگست آ گیا۔ نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کو عملاً دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا۔

اس پر کشمیریوں اور پاکستان کا ردعمل فطری تھا۔ پاکستانی قوم نے محسوس کیا کہ شاہ رگ کشمیر پر بھارت نے چھری رکھ دی ہے۔ یہ ایسا عوامی جذبات کا معاملہ تھا کہ اس کے لئے قوم کو اپنے عوامی و سیاسی رہنماؤں سے بے مثال قومی ہم آہنگی کی توقع تھی، سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کو ضروری سمجھا جائے گا۔ چنانچہ مہنگائی وغیرہ کی بجائے ساری توجہ کشمیر کی طرف ہو گئی۔

دنیا بھر میں مروجہ طریقہ کار کے مطابق ایسے ہنگامی حالات میں قوم کو اپنی اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر حکومت وقت کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) سے وابستہ منتخب وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کو بھی تحریک انصاف کے وزیر اعظم کی قیادت میں کشمیریوں کے لئے جدوجہد کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ یوں قسمت نے حکومت کو ریلیف دیدیا۔ عوام کے جذبات اپنی حکومت کے خلاف ہونے کی بجائے بھارتی حکومت کے خلاف ہوتے چلے گئے۔ پھر قسمت سے ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 76 واں اجلاس آ گیا۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ امریکہ پہنچ گئے۔ وزیر خارجہ اپنے ہم منصبوں اور وزیر اعظم مختلف شخصیات، گروپوں اور نمائندوں میں ملاقاتیں کرتے رہے۔

ان ملاقاتوں سے لگ رہا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر عالمی رائے عامہ کے رہنماؤں کو ہم خیال بنایا جا رہا ہے مگر پھر ہوسٹن (ٹیکساس) کا جلسہ آ گیا بھارتی امریکیوں کے اس بڑے جلسے میں غیر روایتی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور متعدد و سینٹرز بھی شریک ہوئے۔ امریکی صدر کے خطاب اور بدن بولی سے یوں لگ رہا تھا کہ وہ نریندر مودی کے بچھڑے ہوئے جڑواں بھائی ہیں جو اس ملاقات میں جذباتی ہو رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنے خطاب میں جس طرح بھارت اور نریندر مودی کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان تھے اس سے خدشہ ہو رہا تھا کہ کہیں وہ اپنے لئے بھارتی شہریت کی درخواست نہ دے دیں۔ اس جلسہ سے امریکہ سے وابستہ پاکستانیوں کی توقعات دم توڑ گئیں اور شدید مایوسی کی لہر پھیل گئی۔ پھر عمران خان سے ملاقات میں صدر ٹرمپ نے پاکستان اور عمران خان کی بھی تعریف کی مگر ”وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی“ اس پھیکی پھیکی حمایت پر پاکستانی صحافیوں نے تابڑ توڑ سوالات کئے جھنجھلا کر صدر ٹرمپ نے عمران خان سے کہا کہ ”آپ کو ایسے رپورٹر کہاں سے مل جاتے ہیں؟“

اس صورتحال میں جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ عالم اسلام کے بیشتر ممالک نے کشمیری عوام کی حمایت میں کچھ نہ کہا صرف ملائشیا، ترکی اور ایران کی باتیں پاکستان کا حوصلہ بڑھانے والی تھیں۔ ایسے میں جب وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کیا تو انہوں نے ساری کسر نکال دی۔ ان سے پہلے بھارتی وزیر اعظم مودی نے 15 منٹ خطاب کیا مگر کشمیر پر بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔عمران خان نے فی البدیہہ تقریباً پون گھنٹہ خطاب کیا اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کمیشن میں قرارداد پیش کرنے میں پاکستان کی ناکامی سے جو خفت ہوتی تھی اسے بھی اس خطاب نے دور کر دیا۔ قسمت نے عمران خان کو قوم بلکہ عالم اسلام خصوصاً کشمیریوں کی نمائندگی کا موقع دیا اس سے انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ملک کے اندر ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا مل گیا۔ انہوں نے خود کو دلیر اور اعلیٰ پائے کا عوامی مقرر بھی ثابت کر دیا۔ سلامتی کونسل میں ذوالفقار علی بھٹو کے خطاب کے بعد یہ مقبول ترین خطاب کہلا سکتا ہے جس نے ملک کے اندر عمران خان کے حق میں تازہ لہر پیدا کر دی ہے۔

سوشل میڈیا پر تو ان کے حق میں ٹویٹس اور پیغامات کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ فی البدیہہ تقریر کر کے عمران نے ثابت کیا کہ ان کا حافظہ اچھا ہے۔ چار نکاتی خطاب کا آغاز عالمی مسئلہ ماحولیات سے اور اختتام انسانی مسئلہ کشمیر پر کر کے عالمی رائے کی تفسیات سے آگاہی اور اپنی سفارتکارانہ مہارت کا ثبوت دیا۔ اگرچہ ان کے خطاب کے دوران بجنے والی تالیاں لابی میں بیٹھے پاکستانیوں کی تھیں ا ور خطاب میں اٹھائے گئے نکات بھی نئے نہیں تھے وہ اپنے دورہئ امریکہ میں مختلف مواقع پر ان کا اظہار کرتے بھی رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کا خطاب اور جارحانہ انداز قوم کے دلوں میں نقش ہو گیا ہے۔ یہ مقام ان کو قسمت نے دیا ہے تاہم انہیں ذہن میں رکھنا چاہئے کہ خطاب ہی سب کچھ نہیں اب بھی انہیں ہر ہر قدم، پھونک پھونک کر، قومی جذبات، احساسات اور توقعات کے مطابق اٹھانا ہوگا۔ ورنہ

ڈوبنے کے واسطے کافی ہے اک ہلکی سی موج

اور ابھرنے کے لئے لہروں کا طوفاں چاہئے

مزید : رائے /کالم


loading...