بک شیلف

بک شیلف
بک شیلف

  


کتاب: حضورؐ کا سراغ رسانی کا نظام (عہدِ نبوی میں)

مصنف: ونگ کمانڈر ڈاکٹر ناصر مجید ملک

پبلشرز: ادراک پبلی کیشنز،310بلاک C یونٹ نمبر7،لطیف آباد، حیدرآباد (سندھ)

صفحات:396

قیمت: درج نہیں

سالِ اشاعت: 2019ء

…………………………

اس کتاب کے مندرجہ ذیل سات ابواب ہیں:

1۔سراغ رسانی اور اس کی اہمیت

2۔عہدِ قدیم میں سراغ رسانی

3۔سراغ رسانی…… عہدِ نبویؐ میں

4۔سراغ رسانی…… مسلم ادوارِ حکمرانی میں

5۔موجودہ دور کے اہم سراغ رساں ادارے

6۔تقابلی و تجزیاتی موازنہ

7۔تعلیمات اور تقاضے

ونگ کمانڈر(آرمی میں لیفٹیننٹ کرنل کے برابر) ناصر مجید ملک حاضر سروس اور پروفیشنل سولجر ہیں جن کا تعلق پاک فضائیہ کے شعبہ ء ائر ڈیفنس سے ہے۔ میرے ایک عزیز نے حیدرآباد سے یہ کتاب مجھے بھیجی تو میں حیران بھی ہوا اور خوش بھی کہ ایک پروفیشنل حاضر سروس ائر فورس آفیسر اردو زبان میں سراغ رسانی کے موضوع پر لکھ رہا ہے۔ جب کتاب کھولی تو اس کی فہرست مضامین دیکھ کر بھی اطمینان ہوا کہ مصنف نے موضوعِ زیرِ بحث کا احاطہ کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ لیکن جب متن دیکھا تو خوشگوار حیرانی، پریشانی میں تبدیلی ہونے لگی۔ جب آپ کسی تکنیکی یا نیم تکنیکی عسکری موضوعِ کا مطالعہ کرتے ہوئے تفہیم کی مشکلات سے دوچار ہونا شروع کر دیں تو کوفت تو ہوتی ہے۔ اردو ہماری قومی زبان ہے لیکن اسے سروسز (آرمی، نیوی، ایئر فورس) کی سطح پر مروج کرنے کی کوئی ارادی یا سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ میں گزشتہ تین عشروں سے سعی کر رہا ہوں کہ اپنے قارئین کو دفاعی مضامین و موضوعات کو اپنی قومی زبان میں سمجھنے اور سمجھانے کی طرف راغب کروں۔ یہ ایک طویل داستان ہے، بیان کروں گا تو نہ چاہتے ہوئے بھی خودستائی کا لیبل لگ جائے گا۔ اس لئے ایسا کرنے سے گریزاں رہا ہوں اور اب مزید رہنے لگا ہوں۔

دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک نے اپنی افواج میں اپنی قومی زبان کے توسط سے جو ترقی کی ہے وہ قابلِ رشک ہے۔ صرف پاکستان اور بھارت دو ایسے ’بدنصیب ملک“ ہیں جو اب تک ذولسانیت (Bi-lingualism) سے چمٹے ہوئے ہیں۔ دونوں جوہری طاقتیں بن چکے ہیں۔ لیکن دونوں بین الاقوامی سطح پر وہ سٹیٹس حاصل نہیں کر سکے جو دوسری اقوام اور ممالک نے اپنی زبان میں اس باب میں حاصل کیا ہے۔ افواجِ پاکستان کے اربابِ اختیار کو یہ نکتہ ابھی تک سمجھ نہیں آیا کہ انسان کی قوتِ فکر و ایجاد کو جو بات مہمیز کرتی ہے وہ اس کی مادری زبان ہے۔ آپ مادری زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں نہیں سوچ سکتے۔ اگر ایسا کریں گے تو آپ کی سوچ اُس رِفعت کو نہیں پا سکے گی جو مادری زبان کے طفیل ملتی ہے بلکہ اس کا ایک گراں بہا عطیہ سمجھی جاتی ہے۔

زیرِ تبصرہ کتاب میں مصنف کا فون نمبر بھی درج تھا۔ میں نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں مبارک باد دی کہ ایک ٹیکنیکل موضوع پر انہوں نے اردو زبان میں یہ کوشش کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی کیاکہ ان کی سروس (ائر فورس) تو تحریر و تقریر میں ”شُدھ انگریزی“ کی عادی بنادی گئی ہے، اردو زبان میں اس ناقابلِ فہم جسارت کی وجہ کیا ہے، ائر ہیڈکوارٹر نے آپ کو یہ اجازت کیسے دی اور آپ کے اپنے شعبہ ء انٹیلی جنس نے اس کو شائع کرنے کی کلیئرنس کیوں دی؟…… ان کے جواب نے میری حیرانی بھی دور کر دی اور پریشانی بھی۔

معلوم ہوا کہ ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اور ظاہر ہے ان کی مادری زبان پنجابی ہے۔ انہوں نے اسلامک سٹڈیز (جسے اسلامیات بھی کہتے ہیں) ماسٹر کیا اور پھر شوق چرایا کہ پی ایچ ڈی بھی کیا جائے۔ اگر ایم اے اسلامیات، انگریزی زبان میں کیا ہوتا تو اور بات ہوتی لیکن چونکہ اردو میں کیا تھا اس لئے زیادہ شناسائی عربی زبان سے ہوئی، اردو سے نہیں۔ فرمانے لگے:”میں نے سوچا کہ ایک پروفیشنل موضوع کو فروغ دینے کے لئے ایک ایسا کام کروں جو باعثِ نجاتِ اخروی بھی ہو اور پاکستانی قارئین کی اکثریت کے لئے قابلِ فہم بھی ہو، اس لئے اس موضوع اور اس ذریعہ ء اظہار (اردو) کا سہارا لیا“۔

میں نے ان کے ’مقدمہ‘ (پیش لفظ) پر نظر ڈالی تو اس کا آخری پیراگراف ان کے دعوے کی توثیق کر رہا تھا جو اس طرح تھا: ”سیرتِ طیبہ کے کسی بھی پہلو پر کام ایک اعزاز اور قابلِ فخر عمل ہے۔ یہ سعادت اللہ کی رحمت اور اس کے رسولؐ کے صدقے سے ہی کسی کو حاصل ہوتی ہے۔ کتاب میں پیش کردہ مواد مصنف کی ذاتی ریسرچ پر مبنی ہے، اس سے کسی ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ تحریر ایک ناچیز اور کم علم فرد کی سنجیدہ کوشش ہے اور اس میں بشری کمزوریوں کی بناء پر جابجا خامیاں نظر آئیں گی جن کی تمام تر ذمہ داری مصنف کی ہے۔ کتاب میں اگر کوئی خوبی ہے تو وہ سیرتِ طیبہ کا فیض ہے اور کمزوریاں مصنف کی کم علمی کا باعث ہیں۔ کتاب کو بہتر بنانے کے لئے ہر تجویز اس میں جگہ پائے گی“۔

میں نے ونگ کمانڈر صاحب سے کہا کہ اسی موضوع پر اگر انگریزی زبان میں لکھا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ مغربی دنیاکو کم کم معلوم ہے کہ سراغ رسانی کے فن پر حضورؐ کے زمانے میں حضورؐ ہی کی طرف سے جو پیشرفت ہوئی اور اس سلسلے میں جو رہنما خطوط (Guide-Lines)دیئے گئے وہ اہلِ مغرب کے لئے نسبتاً زیادہ معلوماتی ہوتے…… اس کا جواب ان کی راست گوئی کا آئینہ دار تھا۔ کہنے لگے: ”مجھے پی ایچ ڈی کی ڈگری چاہیے تھی۔ اپنے نام کے ساتھ لفظ ڈاکٹر لکھنا مقصود تھا اس لئے اردو کا سہارا لیا۔ انگریزی میں لکھتا اور کسی پاکستانی یونیورسٹی سے رابطہ کرتا تو وہ یونیورسٹی کس کو میرا ”نگران“ مقرر کرتی؟ کسی بھی پاکستانی یونیورسٹی میں ’دفاع‘ کا موضوع شاذ ہی پڑھایا جاتا ہے؟…… ہاں اردو زبان میں ’نگران حضرات‘ کی کمی نہیں۔ میں نے سوچا ان نگرانوں کو دفاعی موضوعات کا شعور ہو نہ ہو اور میرے مقالے (Thesis) کی است و بود سے شناسائی ہو نہ ہو وہ فوراً اس بات پر صاد کر دیں گے کہ میں یہ مقالہ لکھوں اور ان کے سامنے پیش کروں، وہ اس میں ”حسبِ توفیق“ تھوڑی بہت کتربیونت کریں اور مجھے یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری مل جائے“……

میں ان کا پلان سن کر عش عش کر اٹھا اور سوچا:

ایں کار از تو آئد و مرداں چنیں کنند

تاہم مجھ سے نہ رہا گیا اور پوچھ ہی لیا کہ کتاب تو آپ نے اردو میں لکھی لیکن بیشتر اصطلاحات و تراکیب (Terms and Phrases)عربی زبان کی استعمال کی ہیں، ان کو کون سمجھے گا؟ میں نے مشتے نمونہ از خروارے یہ اصطلاحات گنوائیں:

1۔ مقدمہ (Introduction)

2۔استخبارات(Intelligence)

3۔ تزویراتی چال(Stratgic Move)

4۔قراولی(Recce)

5۔استفسار(Interrogation)

6۔استماع(Eves Dropping)

7۔مبارزت(Fighting)

8۔عملیاتی(Operational)

9۔شبکات(Network)

10۔عیون(Agents)

میں نے یہ چند مثالیں قارئین کے سامنے رکھی ہیں وگرنہ پوری کتاب اسی طرح کی ثقیل اور نامانوس عربی اصطلاحات سے بھری پڑی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ چونکہ مصنف نے اسلامیات میں ماسٹر کیا تھا اس لئے ”سراغ رسانی“ کے موضوع پر عربی زبان کی اصطلاحات ہی سے استفادہ کیا گیا۔ میں نے کہا اردو زبان، عربی سے نہیں، فاسی سے نکلی ہے۔ یعنی اردو کی ماں، عربی نہیں، فارسی ہے۔ کاش آپ نے ’عربی انگلش ملٹری ڈکشنری‘ کی بجائے ’فارسی انگلش ملٹری ڈکشنری‘ سے استفادہ کر لیا ہوتا اور آرمی کے GHQ میں باقاعدہ انگلش اردو ملٹری ڈکشنری جو ایک سرکاری اور مصدقہ جنرل سٹاف پبلی کیشن (GSP) ہے اور میں نے دورانِ ملازمت ترتیب دی تھی، اب شائع ہو کر آرمی کی تمام یونٹوں اور فارمشینوں میں تقسیم ہو چکی ہے،اس کو دیکھ لیا ہوتا۔ یہ جاب، میرے لئے ایک اعزازی جاب تھا جو میں نے کسی معاوضہ کے بغیر انجام دیا اور جو میرے مروجہ فرائضِ منصبی (بطور GSO-1 ڈاکٹرین ڈائریکٹوریٹ) سے ہٹ کر تھا۔

میں نے اس طویل ٹیلی فونک گفتگو میں ڈاکٹر صاحب کو ایران کی مثال دی اور کہا کہ ایران کی قومی اور ملٹری زبان فارسی ہے لیکن اس نے گزشتہ 40برسوں (1979ء تاحال) میں جدید عسکری اسلحہ جات کی ترویج اور اس کو اپنی افواج میں انڈکٹ کرنے میں جو نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ ہمارے سامنے ہیں۔ اپنے ’رعد‘ میزائل سے گزشتہ دنوں امریکہ کے جدید ترین دیوہیکل ڈرون (گلوبل ہاک) کا مارگرانا ایرانیوں کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس کا امریکہ بھی معترف ہے اور باقی دنیا بھی۔ مجھے ذاتی طور پر ایرانیوں سے انٹرایکشن کے مواقع ملتے رہتے ہیں اور میں نے اس موضوع پر ان سے تفصیلی بات چیت کی۔ میرے اس سوال پر کہ انہوں نے زبان و بیان کی اجنبیت اور جدید انگریزی اصطلاحات کی مغائرت پر کیسے قابو پایا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک آسان سی بات تھی۔ ہم نے انگریزی اصطلاحات و تراکیب کو جوں کا توں اپنا لیا۔ اس کا فارسی میں ترجمہ نہیں کیا کیونکہ ایسا ممکن ہی نہ تھا۔ جدید اسلحہ جات کے حصوں پرزوں کے نام انگریزی میں ہیں، اس لئے ان کو ہم نے جوں کا توں اختیار کر لیا اور فارسی میں املا کر دیا…… اللہ اللہ خیر سلّا!

میں نے سوچا ہم اردو میں بھی اسی طرزِ تحریر کو اپنا سکتے ہیں۔ انٹیلی جنس کو استخبارات لکھنے کی بجائے اگر انٹیلی جنس ہی لکھ دیا جائے تو کیا ہرج ہے۔ اس سے یہ آسانی بھی ہو جائے گی کہ آپ کو انگریزی میں اس موضوع کے مواد کا مطالعہ کرتے ہوئے زیادہ سر کھجانے اور ڈکشنریاں الٹنے پلٹنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے 72برس گزر چکے۔ میں اگلے روز چین کی اس مسلح پریڈ کو دیکھ رہا تھا جو اس نے یکم اکتوبر کو 70ویں سالگرہ منانے کی تقریبات کے موقع پر منعقد کی۔ چین نے جدید اسلحہ جات میں جس تیزی سے ترقی کی ہے اس کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام پروڈکشن اور پراگرس اس نے انگریزی زبان کو کام میں لاتے ہوئے کی؟اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو اس کا اثبات کیا ہے؟…… کیا پاکستان ایسا نہیں کر سکتا؟…… میں نے بارہا اس موضوع پر اربابِ اختیار کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی ہے لیکن عسکری نقارخانے میں میرے جیسے طوطی کی صدا کون سنتا ہے؟…… کاش اب بھی ہم اپنا قبلہ درست کر لیں!…… کاش اب بھی انگریزی کو یکسر ترک تو نہ کریں لیکن اس مصرع کو گنگنانا بھی نہ بھولیں!!

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر، آہستہ آہستہ

مزید : رائے /کالم


loading...