آصف ہارون کو امن اور پی ٹی آئی  دشمنوں نے قتل کیا،حلیم عادل شیخ

  آصف ہارون کو امن اور پی ٹی آئی  دشمنوں نے قتل کیا،حلیم عادل شیخ

  

کراچی(آن لائن) انصاف ہاؤس کراچی میں پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ کل امن اور پی ٹی آئی دشمنوں نے ہمارے کارکن کو قتل کیا، آصف ہارون کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ اس وقت سندھ میں جو حق و سچ کی بات کرنے والے کو موت کے منہ سلا دیا ہم ٹارگٹ کلنگ والا پرانا کراچی واپس نہیں چاہتے۔وہ  اہم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ان کے ہمراہ  پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری محفوظ ارسانی اور سیکریٹری اطلاعات و رکن سندھ اسمبلی صدیقی، فنانس سیکریٹری سندھ ارسلان مرزا بھی موجود تھے۔    اس سے قبل فردوس شمیم نقوی کے کو آرڈینیٹر کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی،  متعلقہ ادارے آصف کے قاتلوں کو گرفتار کر کے پیش کریں۔ سندھ پولیس کو پیپلزپارٹی کی حکومت نے گھر کی لونڈی بنا لیا ہے، طلبہ مصباح کو بھی دن دہاڑے قتل کردیا گیا،سندھ میں لا اینڈ آرڈر کے حالات بہت خراب ہیں، پولیس کسی بھی دباو کا حصہ نہ بنے، پیپلز پارٹی نے پہلے سندھ کو ایڈز لگایا، تھر میں بچے مارے،سندھ میں کتا مار ویکسین ختم کر دہ گِی، اب بلاول بھٹو پورے ملک میں چل رہا ہے،  بلاول صاحب آپکے ووٹر کے پیروں میں کیڑے پڑ گئے ہیں وہاں بھی دھیان دیں سب کا علاج وفاق کروارہی ہے۔ مولانا فضل رحمن مودی و بھارت کی ایما پر یہ کام کر رہا ہے، جب نواز شریف و زرداری ملک لوٹ رہے تھے تب مولانا نے جنگ نہیں کی، عوامی مفاد کے لیے کبھی جنگ نہیں کی، عمران خان نے کشمیر کا مقدمہ اچھے سے لڑا ہے، مولانا فضل الرحمان کو تو جماعت اسلامی بھی سپورٹ نہیں کر رہی۔ مولانا فضل الرحمان خود بتائیں کہ مولانا طارق جمیل سے زیادہ لوگ آپکو چاہتے ہیں؟ کشمیرکے مقدمے پر علما کرام بِھی عمران خان کی حمایت کرے رہے ہیں،قانون کسی کو بھی ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دینگے، مولانا اپنے ساتھ ورکر لے کر آئے، لیکن مدارس کے بچوں کو لانے نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ایک آزاد اور خودمختار اداراہ ہے،نیب کی کاروائی میں تحریک انصاف شامل نہیں ہے،عمران خان نیکہا تھا کہ سب چوروں کے خلاف کاروائی ہوگی، اپنے وقت پر سب کا اصل چہرہ سامنا آئے گا، میرے تمام اثاثے ظاہر ہے، حلیم عادل کی آواز بند کرنے کی کوشش ناکام ہوگی، یہ تمام ایک نہیں 20 درخواستیں دائر کریں، سندھ اسمبلی کے یومیہ اجلاس پر 50 لاکھ سے زائد لاگت آتی ہے، پروڈکشن آرڈر کے ذریعے بلایا جاتا ہے، مخصوص لوگوں کو، اجلاس میں کسی بھی قسم کی قانون ساِزی۔نہیں کی، میڈیا سے جبری برطرفیوں کی۔شدید مزمت کرتیہیں،اس میں قانون سازی کی ضرورت ہے، اِیم کیو ایم لندن کا وجود اب بھی باقی ہے، ڈی جی رینجرز شہر میں کاروائی کریں، اور جرائم۔سے پاک کریں۔

حلیم عادل

مزید :

پشاورصفحہ آخر -