آزادی مارچ نہیں، نااہل حکمرانوں کی تاریخ بدلیں گے: حافظ حسین احمد 

  آزادی مارچ نہیں، نااہل حکمرانوں کی تاریخ بدلیں گے: حافظ حسین احمد 

  

کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے کہا ہے جے یو آئی کاآزادی مارچ جھرلو انتخابات کے خلاف ہے، آزادی مارچ کی تاریخ نہیں بلکہ نااہل حکمرانوں کی تاریخ بدلیں گے،جے یو آئی کے مارچ میں کتنے لوگ آئیں گے اس کا اندازہ حکومتی وزراء کی بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ سے لگایا جاسکتا ہے، ہم پرامن لوگ ہیں ہمارا مارچ پرامن ہوگا ہم تحریک انصاف کی طرح پارلیمنٹ، پی ٹی وی اور سرکاری املاک پر حملہ آور نہیں ہونگے، ہمارا دھرنا شریفانہ ہوگا ناچ گانا نہیں بلکہ تلاوت ہوگی، کشمیر کے مسئلے پر آج کے نیازی نے کل کے نیازی کی طرح ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔ اتوار کے روز ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے کہا کہ ہمارا ایک نکاتی ایجنڈا ہے، آزادی مارچ 2018ء کے انتخابات میں ہونے والی بدترین دھاندلی کے خلاف ہے، ہم پرامن اور جمہوری انداز میں نکلیں گے حکومتی وزراء کہہ رہے کہ وہ طاقت کا استعمال کریں گے اگر طاقت کا استعمال کیا گیا تو اس کے بعد کی جو صورتحال ہوگی اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی اگر ہمارا راستہ روکا گیا تو پھر صرف اسلام آباد نہیں پورے ملک میں ہمارے دھرنے ہونگے، انہوں نے کہا کہ شیخ رشید شیخ چلی بنتے ہوئے کہہ رہے کہ وردی والے ان کے ساتھ ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ وردی والے پاکستان اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں اور آئین کے مطابق احتجاج کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ عمران نیازی نے اعلان کیا تھا کہ وہ کنٹینر اور کھانا دیں گے مگر ہم کہتے ہیں کہ ہمیں راستہ دو پھر دیکھتے ہیں کہ تمہارا حشر کیا ہوگا، انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ 27اکتوبرکو ہی ہوگا ہم آزادی مارچ کی تاریخ نہیں بلکہ نااہل حکمرانوں کی تاریخ بدلیں گے،انہوں نے کہا کہ اب انہیں ہمارا جمہوری مارچ غیر آئینی لگ رہا ہے جبکہ ان کے اپنے ”خٹک ڈانسر“ پرویز خٹک وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود جلوس لے کر اسلام آباد پہنچے تھے اور 126دن تک ڈی چوک پر ”خٹک ڈانس“ کرتے رہے اس وقت ان کو آئین کا خیال نہیں آیا تھا، انہو ں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ اور حکومتی وزراء ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن ہم ان کی گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والے نہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ابھی تک مارچ شروع ہی نہیں کیا تو مذہب کارڈ کیسے استعمال ہوا،حالانکہ تحریک انصاف والے خود کہہ رہے کہ عمران نیازی مذہب کارڈ استعمال کررہاہے اقوام متحدہ میں مذہب کارڈ استعمال کیا گیا اوریہاں ریاست مدینہ کی باتیں کی جارہی ہیں مذہب کارڈ وہ خود استعمال کررہے ہیں اور کہہ ہمارے لیے رہے ہیں، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے آزادی مارچ میں کتنے لوگ آئیں گے اس بات کا انداز میڈیا والے حکومتی وزراء کی گفتگو سے لگاسکتے ہیں کہ وہ کس طرح بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ عمران نیازی نے مظفر آباد میں جلسے کے دوران وہاں کے لوگوں کو کہا تھا کہ ابھی ایل او سی عبور نہ کریں میں اقوام متحدہ سے ہوکر آؤ اگر وہاں کچھ نہیں ہوا تو میں خود آپ کو لیکر ایل او سی کراس کرونگا لیکن آج انہوں نے اپنے بیان پریوٹرن لیا اورابھی وہ کہتے ہیں کہ اگر ایل او سی عبور کریں گے تو بھارت حملہ کردے گا کشمیر کے مسئلے پر آج کے نیازی نے کل کے نیازی کی طرح ہتھیار ڈال دئیے ہیں، انہوں نے کہا کہ نااہل حکمرانوں نے ملک کا معاشی دیوالیہ نکال دیا ہے، تاجر برادری اور صنعتکار ”نکے“ کی ناکامی کا رونا لیکر ”ابے“ کے پاس پہنچے ہیں۔

حافظ حسین احمد

مزید :

صفحہ آخر -