کیا کپتان یہ پریشر لے سکے گا؟

کیا کپتان یہ پریشر لے سکے گا؟
کیا کپتان یہ پریشر لے سکے گا؟

  


ملک میں بڑھتی مہنگائی،روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اونچی اڑان، ہر طرف بے روزگاری کا راج، صنعتوں کی تباہ حالی، کاروبارکی بندش، ٹیکسوں کی بھرمار، نیب کی مٹر گشتیاں اور اس کے نوٹسوں پر بلیک میلروں کی بلیک میلنگ،آمدن کے سکڑتے ذرائع، دکانوں، مکانوں اور شاپنگ پلازوں پر آویزاں ’برائے فروخت‘کے بینر، لان کے سوٹوں کے لئے مڈل کلا س خواتین میں چھینا جھپٹی کے مناظر کا خاتمہ جیسے عوامل مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کے لئے آئیڈیل سچوایشن نہیں تو اور کیا ہے۔

حکومت میں ایک سال گزارنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے لئے معیشت اور ترقیاتی کاموں کے محاذ پر اپنی ناقص کارکردگی کو یہ کہہ کر چھپانا مشکل ہوگیا ہے کہ انہیں خراب حالات ورثے میں ملے تھے، وہ معیشت درست کرنے کے لئے سخت اقدامات کر رہے ہیں، وہ کرپشن، لوٹ مارکرنے والوں، ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو پکڑ رہے ہیں تاکہ بیرون ملک پڑا دو سو ارب ڈالر واپس آسکے وغیرہ وغیرہ۔ لوگ اب یہ قوالی سننے کے روادار نہیں ہیں۔ اب عمران خان کے اپنے بارے میں اور ان کی حکومت کے بارے میں نااہلی کا تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ عام تاثر ہے کہ حکومت نہ تو ڈیلیور کرسکی ہے اور نہ ہی کرسکتی ہے، خاص طور پر آرمی چیف سے صنعتکاروں اور تاجروں کی حالیہ ملاقات نے تو حکومت کی ساکھ کو زبردست دھچکا لگایا ہے اور عوام میں پائی جانے والی بددلی مزید بڑھ گئی ہے۔

اب سے چھے ماہ بعد اگر حالات درستگی کی جانب مائل ہو بھی جائیں تو بھی عوام میں پائی جانے والی بددلی کا مداوا نہ ہو سکے گا۔ ایسے میں یہ تاثر بھی کام نہیں کرے گا کہ سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے، اوراگر اس فلم کو چلانے کی کوشش کی گئی تو عام آدمی ’ان‘سے بھی بددل ہونا شروع ہو جائے گااور اپوزیشن باہر نکلے نہ نکلے، وہ چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت سڑکوں کا رخ کرے گا۔

یہ الگ بات کہ آئین میں کسی لانگ مارچ یا دھرنے کی صورت میں حکومت کے خاتمے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ اس لئے جو سمجھتے ہیں کہ مولانا کے آزادی مارچ یا دھرنے سے حکومت کو پیک کردیا جائے گا انہیں علم ہونا چاہئے کہ اگر اس کی اجازت مل گئی تو ہر حکومت کے خلاف دوسرے دن ہی لانگ مارچ اور دھرنا دے دیا جا یا کرے گا۔

حکومت کے خاتمے کے لئے ایوان کے اندر سے تبدیلی ہوسکتی ہے یا پھر اتفاق رائے سے نئے انتخابات کا ڈول ڈالنا ضروری ہوگا۔ مولانا کا آزادی مارچ اس ضمن میں ایک بڑے پریشر کا کام تو کرسکتا ہے لیکن اس سے حکومت کے ختم ہونے کا تاثر لینا درست نہیں ہوسکتا۔ خاص طور پر جب اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ یعنی اگر آج عام انتخابات منعقد ہوں تو کوئی بھی نون لیگ کی جیت کو نہیں روک سکتا۔ جب کہ پیپلز پارٹی ایک ہی صورت اقتدار میں آسکتی ہے کہ کسی طرح اِن ہاؤس تبدیلی کے ذریعے اس کا امیدوار وزیر اعظم بن جائے۔ ان دونوں جماعتوں کی علیحدہ علیحدہ سیاسی حیثیت ہی انہیں ایک پیج پر لانے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ وہ دونوں اپنے اپنے مفادات کے تابع مولانا کی قیادت میں نماز پڑھنے کا ارادہ باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جب نون لیگ کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور دھرنا ہوا تھا تب ٹی وی کیمروں کے ہیرو عمران خان تھے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا تو جلسہ بھی ڈھنگ سے نہیں دکھایا جاتا، کی تقریر لائیو نشر کون خبرنامہ رکوایا کرے گا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر ان کے جلوسوں کو اسلام آباد روانہ ہونے سے پہلے ہی روکا گیا تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں دھرنا دیں جس کی ڈھیلی ڈھالی ٹی وی کوریج اس آزادی مارچ کا رہا سہا اثر بھی ختم کردے گی۔ اس لئے مولانا کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنے آزادی مارچ اور دھرنے کی عوامی سطح پر دھاک بٹھاسکیں۔ اس حوالے سے وہ کس قدر کامیاب ہوں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

عمران خان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ پریشر میں کھیلنے کا ہنر رکھتے ہیں، جوں جوں پریشر بڑھتا ہے توں توں ان کی قائدانہ صلاحیتیں دوچند ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ مگر یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ کرکٹ گراؤنڈ اور میدان صحافت میں فرق ہوتا ہے، کرکٹ میں میچ ختم ہوجائے تو بھی لوگوں کو گراؤنڈ میں داخلے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن سیاست میں تو میچ شروع ہی تب ہوتا ہے جب لوگ میدان میں اتر آئیں اور ہر قاعدے قانون کو درہم برہم کرکے رکھ دیں۔ کیا کپتان یہ پریشر لے سکے گا؟

مزید : رائے /کالم


loading...