پولیس ہی کیوں، تمام اداروں کو سسٹم میں لانا ہوگا

پولیس ہی کیوں، تمام اداروں کو سسٹم میں لانا ہوگا
پولیس ہی کیوں، تمام اداروں کو سسٹم میں لانا ہوگا

  


معاشرہ ترقی کرتا ہے جب انصاف کا بول بالا ہو۔ جب قانون کی نظر میں سب برابر ہو جائیں۔ جب عدالتیں وقت پر فیصلے کرنا شروع کر دیں۔ لیکن شومئی قسمت کہ وطن عزیز میں اس وقت ان تینوں معاملوں میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ انصاف آپ کی دہلیز پہ ایک نعرہ تو ہے لیکن اس نعرے کی عملی سطح پہ افادیت منتقل کرنے میں شائد ابھی کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں کیوں کہ انصاف کی راہ میں سہولیات سے زیادہ ہمارے ہاں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، یہ آپ کو اخبارات و تقاریر میں سننے کو تو بکثرت ملتا ہے لیکن حقیقی معنوں میں صورتحال اس کے مکمل برعکس ہے۔ قانون طبقاتی تقسیم کے درمیان گھن چکر بنا ہوا ہے۔ عدالتیں وقت پہ فیصلے کریں، اس بات کی یقین دہانی بھی ہمیں بسا اوقات کروائی جاتی ہے۔ لیکن ایسا ہونانہ جانے کیوں ممکن نہیں ہو پا رہا اور ایسی مثالیں موجود ہیں ملزمان لقمہء اجل بننے کے بعد بے قصور ثابت ہوئے۔ نسلیں گزر جاتی ہیں کیسوں کے فیصلے نہیں ہوتے۔ بطور مجموعی یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ قانون و انصاف کی راہدرایوں میں راوی فی الحال چین کی صورتحال نہیں لکھ رہا۔ تقسیمِ ہند سے قبل انگریز دورِ حکومت میں 1860 میں پولیس میں اصلاحات لائی گئیں جس کے تحت صوبے کی پولیس کا انتظام آئی جی اور ضلع میں پولیس ڈسٹرکٹ سپرینٹنڈنٹ پولیس کے ماتحت مجسٹریٹ کے کنٹرول میں ہوتی تھی۔ان اصلاحات پر 1861 میں عمل درآمد شروع کیا گیا اور 1947 میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد 1861 میں کی گئی اصلاحات ہی لاگو رہیں۔

پاکستان کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ 2002 میں جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں پولیس کے نظام میں بہتری لانے کے لیے قانون سازی کی گئی جس میں ضلعی مجسٹریٹ کی طاقت کو ختم کر دیا گیا اور پولیس کو غیر سیاسی اور آزاد محکمہ بنانے کے لیے مزید اصلاحات کی گئیں۔اس کے بعد پی ٹی آئی نے خیبر پختونخواہ کی پولیس میں 2017 میں اصلاحات کیں جس کے بعد صوبائی حکومت کے نمائندے یہ دعوے کرتے دکھائی دیے کہ ان اصلاحات کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔اب پنجاب پولیس میں اصلاحات کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے اپنی تجاویز پیش کی ہیں اس میں دو رائے نہیں کہ پولیس ریفارمز وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس حوالے سے میڈیا ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ پولیس ریفارمز کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے۔ گزشتہ چند روز سے بیوروکریسی اور پولیس کے درمیان اس حوالے سے اہم اجلاس بھی ہوئے جن میں تحفظات اور تجاویز سمیت اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ یہ درست ہے کہ عوام روایتی پولیس اور تھانہ کلچر کی تبدیلی چاہتی ہے اور ایک عام شہری کی خواہش ہے کہ وہ کسی مشکل کا شکار ہو تو بلا جھجھک تھانے جا کر اپنی شکایت درج کروا سکے اور اس سارے عمل میں اس کازیادہ وقت نہ لگے۔ لوگ شفاف پولیس سسٹم چاہتے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ اگر کوئی پولیس افسر یا اہلکار کسی کے ساتھ بدسلوکی کا مظاہرہ ہی کرے تو اس سے اس عمل کا حساب لیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیں جن پولیس ریفارمز کی ضرورت ہے ان میں سے اکثر نافذ کی جا چکی ہیں اور کرائم آبزرور جانتے ہیں کہ ایسا کس طرح ممکن ہوا ہے۔ایک عرصہ سے پنجا ب پولیس میں دو طرح کی ریفارمز کی ضرو ر ت محسوس کی جا رہی تھی۔

ایک تو محکمانہ تبدیلی تھی جو کہ محکمہ پولیس کا کمانڈر کر سکتا ہے دوسری تبدیلی حکومتی یا ریاستی سطح پرہونی تھی۔ مثال کے طور پر پولیس فورس کو ڈسپلن میں لانے کا کام پولیس افسران خصوصا آئی جی پولیس کا ہے لیکن پولیس فورس کی کم تنخواہوں کا مسئلہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ محکمانہ بجٹ اور دیگر ساز و سامان کے لئے سرمایہ حکومت یا ریاست نے دینا ہے۔ موجودہ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کو بہرحال یہ کریڈیٹ جاتا ہے کہ وہ پولیس فورس کے کمانڈر کی حیثیت سے اپنے حصہ کا کام تقریبا مکمل کر چکے ہیں اور اس سلسلے کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے مزید اقدامات کر رہے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بھی پولیس کلچر کی تبدیلی کے لئے بھرپور اقدامات کرے اور پولیس کا فنڈ بڑھانے کے ساتھ ساتھ وسائل میں اضافہ کرے۔ پولیس میں ابھی کئی تبدیلیوں کی ضرورت ہے،خاص طور پر نفری کی کمی، وسائل کا محدود ہونا اور قلیل بجٹ ملنا اہم مسائل کی وجہ بنتے ہیں۔

اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب نے کیپٹن (ر) عارف نواز خان کو صوبے کا اور بی اے ناصر کو لا ہور پولیس کا سربراہ تعینات کر کے پولیس کلچر کی تبدیلی کی جانب بھرپور قدم اٹھایا ہے لیکن اس سفر کو منزل تک پہنچانے کے لئے حکومتی سطح پر پولیس کے دیگر مسائل کو حل کرنابہت ضروری ہے۔ اگر حکومت پولیس فنڈز میں اضافے سمیت محکمے کے تمام اختیارات کے پی کے طرز پر آئی جی کے حوالے کر دے تو یقینا بہت جلد پنجاب میں پولیس اور تھانہ کلچر مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا۔ آج محکمہ پولیس کو تو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے محکمہ صحت تعلیم سوئی گیس ریونیو جیسے محکموں میں بھی عوام اس سے کہیں زیادہ پریشان ہے حقیقت میں تمام اداروں کو سسٹم میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔ان دنوں سری لنکن کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر لاہور میں موجود ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی سکیورٹی کے لیے ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر انتہائی سخت اقدامات کا سامنا ہے جس کے لئے سی سی پی او لاہور بی اے ناصر ڈی جی اپریشن اشفاق احمد خان اور سی ٹی او کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔

ہماری جانباز فورس نے عالمی معیار کی شاندار فول پروف سکیورٹی فراہم کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک اور یہاں کی عوام مہمان نواز قوم ہے سی سی پی او لاہور بی اے ناصر ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان سمیت پوری فورس دن رات اپنا سکون برباد کرکے ملکی سالمیت اور وقار کی خاطر اجڑے ہوئے کھیل کے میدانوں اور کرکٹ کی رونقیں بحال کرنے پر مبارکباد اور سیلوٹ کی حقدار ہے اس موقعہ پر سی سی پی او لاہور نے بھی عوام کی جانب سے ٹریفک کے سنگین مسائل کے باوجود فورس سے بھرپور تعاون کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے اور دیگر دو میچوں کے دوران بھی فورس بالخصوص ٹریفک وارڈن سے تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...