بلاول سے اسفند یار کی ملاقات، آزادی مارچ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال 

بلاول سے اسفند یار کی ملاقات، آزادی مارچ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال 

  

 اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے آزادی مارچ کی تاریخ کے اعلان کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں میں رابطے تیز ہوگئے ہیں اس سلسلے میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی اسلام آباد میں اے این پی کے  سربراہ اسفند یار ولی سے ملاقات ہوئی۔ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں مولانا فضل الرحمن کے آزادی لانگ مارچ، مسئلہ کشمیر اور افغانستان کی صورتحال سمیت خطے کی صورت حال زیر بحث آئی۔ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے آزاد ی مارچ سے قبل اے پی سی یا رہبر کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مخالف احتجاج سے متعلق متفقہ طور پر چلا جائے۔ انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹوز رداری کی اسفند یار ولی سے ملاقات کا مقصد آزادی مارچ کو کیسے لیکر آگے چلنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن پوری طرح متحدہ ہے حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی معاشی صورتحال اب تر ہوتی جا رہی ہے،ملک میں شفاف اور منصفانہ الیکشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ الیکشن فوج کے ذریعے نہ کرائے جائیں۔انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ دھرنے سے متعلق اے پی سی طلب کی جائے یا رہبر کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت مخالف احتجاج سے متعلق متفقہ طور پر چلا جائے۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن سے اے پی سی بلانے کی گزارش کریں گے ہم میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم فوج کی مداخلت سے پاک انتخابات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ  27 اکتوبر حزب اختلاف کے تمام جماعتوں کی تاریخ بن جائے گی اور وہ مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دیں گے۔میا ں افتخار حسین نے کہاکہ عمران خان نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے،،عمران خان نے اقوام متحدہ میں ملک بگڑی اچھال دی۔ انہوں نے کہاکہ القاعدہ، اسامہ بن لادن اور تمام باتوں کا اعتراف کر کے قوم کو مشکل میں ڈال دیا۔

بلاول،اسفند ملاقات

مزید :

صفحہ اول -