کشمیریوں کا آزادی مارچ کنٹرول لائن کی طرف رواں دواں، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمے اور گرفتار افراد کی رہائی کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالیں گے: امریکی سینیٹرز

  کشمیریوں کا آزادی مارچ کنٹرول لائن کی طرف رواں دواں، مقبوضہ کشمیر میں ...

  

چناری(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کا فریڈم مارچ چناری اور ہٹیاں بالا پہنچ گیا فریڈم مارچ کا فقید المثال استقبال۔ضلعی ہیڈ کوارٹر ہٹیاں بالا،چناری بازار مکمل بندتاجران نے ہزاروں کی تعداد میں شرکاء مارچ پرپھولوں کی پتیاں نچھاور کی۔فریڈم مارچ کے استقبال کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جسکی میزبانی لبریشن فرنٹ ہٹیاں بالا کے زمہ دار سید مختیار گیلانی۔ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ فورم کے چیئرمین سید احسان گیلانی۔ایڈمنسٹریٹر ضلع کونسل محمد فرید خان،انجمن تاجران کے صدر سید فیصل گیلانی اور دیگر پر مشتمل تھی استقبالیہ کیمٹی کی کال پر سول سوسائٹی انجمن تاجران خواتین وحضرات کی ہزاروں کی تعداد میں عوام نے استقبال کیا فریڈم مارچ پیدل سفر کے چناری علی گوہر ڈگری کالج گروانڈ پہنچ گیا جہاں جلسہ عام کی شکل اختیار گیا۔بتایا گیا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکاء  ہٹیاں بالا پہنچ گئے جہاں سے شرکاء نے پیدل مارچ شروع کر دیا ہے۔ آزاد ی مارچ کے شرکاء کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے کنٹرول لائن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔آزادی مارچ میں ہزاروں افراد شریک ہیں، منتظمین کا کہنا ہے کہ آزاد ی مارچ کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی طرف کرانی ہے جہاں گزشتہ 62 روز سے کشمیری عوام کو کرفیو کے نام پر تمام ضروریات زندگی سے محروم کر دیا گیا ہے، نہ انہیں کھانے پینے کی اشیا دستیاب ہیں نہ ہی وہ گھروں سے نکل کر کسی کے ساتھ مل سکتے ہیں، پوری وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاون 63 ویں روز بھی جاری ہے، کاروبارِ زندگی اور مواصلاتی نظام معطل ہے، کشمیریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع، کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت، گھروں میں طویل قید اذیت ناک ہو گئی۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل، لاکھوں افراد پانچ اگست سے گھروں میں محصور ہیں، پابندیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ موبائل فون، انٹر نیٹ، لینڈ لائن بند ہے، لوگوں کے پاس کھانے پینے کی اشیا ختم اور ادویات کا سٹاک ختم ہو گیا۔بھارتی فوج طاقت کے زور پر بھی کشمیریوں کی آواز دبانے میں ناکام ہے۔ سخت ترین پابندیوں کے باوجود کشمیریوں کا احتجاج جاری ہے، قابض فوج نے مظاہرین پر پیلٹ گن اور آنسوگیس کی شیلنگ کی۔ وادی میں تمام حریت رہنماؤں، سیاسی لیڈرز سمیت ہزاروں کشمیریوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔۔ مواصلاتی نظام کی مسلسل بندش کی وجہ سے گزشتہ دوماہ سے گرفتار کینسر کے مریض 33سالہ پرویز احمد پالا کے اہلخانہ کو ان کے بارے کوئی معلومات نہیں کہ آیا وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔دریں اثناء قابض انتظامیہ نے گزشتہ 9ہفتوں کے دوران سکول کھولنے کی بڑی کوششیں کیں لیکن طلباء سکول نہیں آئے۔ قابض حکام نے اعتراف کیا کہ طلباء سکول آنے کے لیے تیارنہیں۔ مواصلاتی نظام کی معطلی کی وجہ سے پیشہ وراانہ کورسز سمیت اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کشمیریوں پر بھارتی مظالم پر پوری دنیا میں آوازیں بلند ہورہی ہیں۔۔ٹیکساس میں ایک تقریب کے دوران پاکستانی سفیر اسد مجید نے کشمیر میں جاری انسانی بحران کے بارے میں دنیا کو آگاہ کیا،،لندن میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کینڈل لائٹ فریڈم واک کا اہتمام کیاگیا۔ ڈلاس میں پاکستانی برادری کے زیر اہتمام تقریب ہوئی جس میں سفیر اسد مجید نے خطاب کرتے ہوئے شرکا کو خطے کی صورتحال سے متعلق بتایا۔ انہوں نے کشمیر میں جاری انسانی بحران پر روشنی ڈالی۔ لندن میں بھی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کینڈل لائٹ فریڈم واک کا اہتمام کیا گیا۔ شرکا پارلیمنٹ اسکوائر سے بھارتی ہائی کمیشن تک گئے۔واک میں لندن سمیت مختلف شہروں سے آئے افراد نے بھارت اور نریندر مودی کے خلاف زبردست نعرے لگائے فرانس کے مختلف شہروں میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرے کیے گئے، جس میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے کا مونتلہ جولی شہر میں ریلی نکالی گئی اور احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔

کشمیر مارچ

مظفر آباد،اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، این این آئی)امریکی کانگریس کے وفد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ  بھارت  پر کرفیو ہٹانے اور زیرحراست قیدیوں کو رہا کرنے پر زور دیں گے۔امریکی کانگریس کے وفد نے مظفر آباد کا دورہ کیا،دورے کامقصد 5 اگست کے بھارتی غیرقانونی اقدام کے بعد زمینی حقائق اور عوام کے جذبات کو دیکھنا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وفد میں سینیٹر کریس وین، میگی حسن اور امریکی ناظم الامور پال جونز شامل تھے،میجرجنرل عامر نے وفد کو لائن آف کنٹرول کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔ترجمان کے مطابق وفد نے صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر سے ملاقاتیں کیں، امریکی سینیٹرز نے انسانی حقوق کے تحفظات پر بات کی۔امریکی وفد نے کہاکہ بھارت پر کرفیو ہٹانے اور زیرحراست قیدیوں کو رہا کرنے پر زور دیں گے۔ ترجمان کے مطابق صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کو بھارتی ظلم و ستم سے بچانے کے لیے کردار ادا کرنے کا کہا۔ کشمیری قیادت نے کہاکہ وفد مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے بھارت پر زور دے۔ ترجمان کے مطابق بھارت کی مبصرین کو مقبوضہ علاقے میں جانے کی اجازت نہ دینے کی پالیسی نے سب ٹھیک ہے   کا پراپیگنڈہ بے نقاب کردیا ہے، آزاد کشمیر کی قیادت نے امید ظاہر کی وفد کے دورے سے انسانی حقوق کی صورتحال سے آگاہی ملے گی۔ترجمان کے مطابق امریکی وفد مقبوضہ کشمیر میں بدترین صورتحال سے دنیا کو آگاہ کرے گا۔اس سے قبل آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے امریکی حکومت، کانگریس اور سینیٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیراور وہاں کے باسیوں کو بھارت کے انتہا پسند حکمرانوں سے بچانے کے لیے اپنا عالمی فریضہ ادا کریں۔ یہ بات انہوں نے ایوان صدر مظفرآباد میں سینیٹر کرس وان ہولن اور سینیٹر میگی حسن کی قیادت میں اعلی سطحی وفد کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔۔ صدر آزاد کشمیر نے امریکی وفد کی طرف سے آزاد کشمیر کا دورہ کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے سینیٹر ہولن اور ان کے تین دیگر سینیٹرز دوستوں کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھ کر مقبوضہ کشمیر کی صورتحا ل کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ صدر نے کہا کہ امریکی حکومت سے ریاست جموں و کشمیر کے عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ خطہ میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے اور وہاں قتل عام، تشدد اور مظالم بند کرانے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ غیر قانونی اقدمات کو واپس لینے پر وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر دباؤ بڑھا کر یہ اقدامات واپس لینے پر مجبور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ بھارتی حکومت کے کشمیریوں کے خلاف ظلم و جبر، آزاد کشمیر اور پاکستان کے خلاف جنگ کی دھمکیوں اور ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیوں اور خطہ میں ممکنہ جنگ کو رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی سینیٹر وان ہولن اور میگی حسن نے کہا کہ امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی  پہلے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر  میں انسانی حقوق کی پامالیوں، مواصلاتی ناکہ بندی اور سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کر چکی ہے اور اس سلسلہ میں امریکی سینیٹ میں ایک بھرپور بحث بھی شروع کرائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر کی صورتحال سے سینیٹ کو آگاہ کریں گے کیونکہ یہ  صورتحال کشمیریوں  کے حق خودارادیت سے براہ راست تعلق رکھتی ہے وزیراعظم ٓزادجموں وکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے بھی امریکی سینیٹ کے اراکین پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالیں۔دوطرفہ مذاکرات کے بجائے سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا پرامن حل کے لیے اقوام عالم اپنا کرداراداکرے۔مسئلہ کشمیر کوئی زمینی تنازعہ نہیں۔ پاکستان نے کشمیر پر کبھی اپنا حق نہیں جتایا بلکہ وہ ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آواز اٹھاتا رہا۔امریکی سینیٹرز کرس وان ہولن اور میگی حسن کو مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم پر بریفنگ دیتے ہوے کہا کہ مسئلہ کشمیراقوا م متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل طلب مسئلہ ہے جس پر اقوا م متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرادادوں موجود ہیں اور اس کا حل ان قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے ہونا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے گزشتہ سات دھائیوں کے دوران انسانی تاریخ کے بدترین مظالم ڈھائے گئے۔5اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور کرفیو ہے۔شہری گھروں میں محصور ہیں۔ ان کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں۔ وہاں خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔بھارت کے اقدامات کی وجہ سے بڑے انسانی المیہ کے پیدا ہونے کا 

امریکی وقد

مزید :

صفحہ اول -