مولان فضل الرحمن نے 27اکتوبر کا دن ایک بار پھر یاد گا ر بنا دیا

مولان فضل الرحمن نے 27اکتوبر کا دن ایک بار پھر یاد گا ر بنا دیا

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

27اکتوبر کا دن دس سال تک بڑی آن، بان اور شان سے منایا جاتا رہا، یہ جنرل ایوب خان کے ”انقلاب“ کی یاد دلاتا تھا اور نام بھی اس کا ”یوم انقلاب“ رکھا گیا۔ سکندر مرزا نے 7اکتوبر کو ملک میں مارشل لا اس امید پر لگایا تھا کہ وہ کمانڈر انچیف کے ساتھ مل کر جیسے چاہیں گے حکومت کریں گے، لیکن صرف بیس دن بعد یہ صداقت ایک بار پھر سامنے آگئی کہ ایک اقلیم میں دو بادشاہ نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ ایوب خان نے سکندر مرزا کو جلاوطن کردیا جو تادم آخر لندن میں رہے اور وہیں سے تدفین کے لئے ایران لے جایا گیا جہاں کے آب و گل سے ان کی اہلیہ ناہید کا تعلق تھا، انہیں پاکستان میں دفن ہونے کی اجازت بھی نہیں ملی تھی۔ اقتدار کے کھیل ایسے ہی ہوتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے 27اکتوبر کو ایک بار پھر اہم دن بنا دیا ہے۔ کم ازکم اگلے دو ہفتوں کے لئے تو اس دن کا ڈنگا بجتا رہے گا، مولانا اپنے دعوے کرتے رہیں گے اور حکومت کے وزیر مشیران کا بطلان کرتے رہیں گے، چند دن پہلے تک تو حکومت کا خیال تھا کہ مولانا فضل الرحمن کسی نہ کسی بہانے اپنا آزادی مارچ ملتوی کر دیں گے، حالانکہ آزاد ذرائع کی اطلاعات یہی ہیں کہ وہ اپنے پروگرام پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی حلیف یا حریف کی بات اس سلسلے میں ماننے کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔ چند روز پہلے تک ان سے کہا جا رہا تھا کہ وہ اپنا پروگرام ایک ماہ کے لئے ملتوی کردیں۔ یہ مسلم لیگ بھی کہہ رہی تھی اور پیپلز پارٹی بھی، لیکن مولانا فضل الرحمن اپنے پروگرام کے مطابق آگے بڑھتے رہے، حتی کہ انہوں نے اپنے آزادی مارچ کے لئے 27اکتوبر کا دن پسند کیا، جو اگرچہ اب ایک بھولا بسرا اور عام دنوں جیسا ایک دن ہے، لیکن 27اکتوبر ہمیشہ ایسا نہ تھا، ایوب خان کی پوری حکومت میں اس دن کو بڑے تزک و احتشام سے منایا جاتا تھا، آخری بار ”عشرہ ترقی“ بھی اس دن سے شروع ہوا، لیکن ترقی کا یہ عشرہ تنزلی کا بہانہ ثابت ہوا اور 1969ء کا اکتوبر آنے سے چھ ماہ پہلے ہی جنرل ایوب خان ایوان اقتدار سے رخصت ہوگئے۔ الطاف گوہر راوی ہیں کہ ایوب خان استعفا کے بعد بھی تین ماہ تک ایوان صدر میں رہنا چاہتے تھے، لیکن اگلے ہی روز جنرل یحیی خان نے پیغام بھیج دیا کہ اب ایوان صدر بھی خالی کردیں۔ الطاف گوہر نے اس ایوان سے رخصتی کا منظر بڑے دلگداز انداز میں لکھا ہے، لیکن حکمرانی کا نشہ لوگوں کو اس جانب متوجہ ہی نہیں رہنے دیتا۔

بات تو ہم مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی کر رہے ہیں۔ درمیان میں محض 27اکتوبر کے حوالے سے چند باتیں یاد آگئیں، وزراء کے بیانات پر جائیں تو یہ دھرنا پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے اور شیخ رشید تو حسب عادت مضحکہ خیز حد تک اس کی ناکامی کے قائل ہیں، لیکن حکومت کے سنجیدہ حلقوں کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ دھرنا کے اثرات آخر کیا ہوں گے۔ دعوے تو بہت ہیں، 15لاکھ افراد کی بات کی جارہی ہے جن افراد کا اپنا دھرنا آخر میں سو دوسو تک محدود ہو کر رہ گیا تھا، اور وہ بھی گانا سننے کے شوقین لوگ تھے جو گھر سے روٹی شوٹی کھا کر رات کے دس بجے شو میں آجاتے تھے اور ایک دو گھنٹے لطف اندوز ہوکر گھروں کو چلے جاتے تھے، انہیں بھی حیرت ہو رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا دھرنا کامیاب کیسے ہوگا؟ جس میں نہ گانا بجانا ہے اور نہ کوئی نغمہ سرائی۔ ماڈرن خواتین ایسے دھرنے میں کیونکر آسکتی ہیں جو کامیابی کا بڑا وسیلہ خیال کی جاتی ہیں۔ وہ ان کا موازنہ بعض ایسے علما سے کرنے کی جسارت بھی کرتے ہیں جن کی سیاست میں انٹری ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن کی تھی اور ان کی مقبولیت کے غبارے میں نامعلوم افراد نے جو ہوا بھری تھی ان کے خیال میں مولانا فضل الرحمن بھی کسی ایسے ہی سانحہ سے دو چار ہونے جارہے ہیں۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمن کے پائے کا سیاستدان اس وقت خال خال ہی دستیاب ہے، جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ دھرنا کوئی سنجیدہ عمل نہیں، ان کی سیاسی بصیرت اور سیاسی نظریات کی عدم پختگی پر افسوس کے سوا کیا عرض کیا جاسکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ حکومت خود ہی مستعفی ہو جائے گی، لیکن اگر اس دعوے میں مبالغہ ہے تو بھی اتنا ضرور ہے کہ اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی حکومت کے وجود میں ایک بڑا ڈینٹ پڑ جائے گا۔ عین ممکن ہے جو وزیر اس وقت بیان بازی کے مزے لے رہے ہیں کل کو اپنی بصیرت کی بے مائیگی پر کفِ افسوس مل رہے ہوں۔

یادگار دن

مزید : تجزیہ


loading...