سوشل میڈیا پروائر ل ہونے والے آزادی مارچ کیلئے جمعیت علماءاسلام کے لیٹر ہیڈ پر درج ہدایت نامے کی اصل حقیقت سامنے آ گئی

سوشل میڈیا پروائر ل ہونے والے آزادی مارچ کیلئے جمعیت علماءاسلام کے لیٹر ہیڈ ...
سوشل میڈیا پروائر ل ہونے والے آزادی مارچ کیلئے جمعیت علماءاسلام کے لیٹر ہیڈ پر درج ہدایت نامے کی اصل حقیقت سامنے آ گئی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کا اعلان کر چکے ہیں اور ڈٹ گئے ہیں تاہم اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جے یو آئی ایف کے لیٹر ہیڈ پر جاری کردہ شرکاءکیلئے ہدایت نامہ وائرل ہو رہاہے تاہم اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق اس ہدایت نامے پر 4 اکتوبر 2019 کی تاریخ درج کی گئی ہے اور اس کا مولف سیکریٹر جنرل جمعیت علماءاسلام کو لکھا گیاہے ، ہدایت نامے پر ریفرنس نمبر یا کوئی دستخط موجود نہیں ہیں جبکہ مذہبی جماعت کی جانب سے اسے جعلی قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا گیاہے ۔اس ہدایت نامے میں اراکین سے دھرنے کے لئے چندے کی اپیل کی گئی ہے، ساتھ لانے کے لئے سامان کی فہرست دی گئی ہے، امیر کی اطاعت کے احکامات دیے گئے ہیں، مولانا فضل الرحمان کی تقریر کے دوران جھنڈے لہرانے کا حکم دیا گیا ہے اور میڈیا سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔سوشل میڈیا پر اس خط کے وائرل ہونے کی وجہ اس میں موجود پوائنٹ نمبر چھے ہے جس میں اسلام میں ممنوع اور غیر اخلاقی قرار دیے جانے والے فعل کو امیر کی اجازت سے جائز قرار دینے کا لکھا گیا ہے۔

نجی نیوزویب سائٹ’ ہم سب‘ کا کہناہے کہ جب اس ہدایت نامے کے بارے میں معلوم کرنے کیلئے جمعیت علماءاسلام کی مرکزی شوریٰ کے ممبر رسالہ الجمعیت کے ایڈیٹر مفتی زاہد شاہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اسے جعلی قرار دیتے ہوئے اظہار لاتعلقی کیا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سیاسی مخالفین مولانا فضل الرحمان کے اعلان کردہ دھرنے سے گھبرا کر ایسے اوچھے ہتھکنڈوں پر اترا آئے ہیں۔ انہوں نے رائے ظاہر کی کہ دھرنے تک سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے کے ماہرین کی جانب سے ایسی مزید جعلسازیاں دیکھنے میں آئیں گی اور عوام کو صرف جمعیت علمائے اسلام کے آفیشل اکاونٹ کی جانب سے جاری کردہ خبروں پر بھروسا کرنے کی تاکید کی۔

مزید :

قومی -