حقیقی شعورِ محنت

حقیقی شعورِ محنت
حقیقی شعورِ محنت

  


ابتدائے آفرینش سے لے کر اب تک انسانی محنت کی کار فرمائیوں میں انسانی زندگی اپنی تمام رعنائیوں سمیت رواں دواں ہے ۔ انسانی محنت ہمیں ہر جگہ ٹمٹماتی جگمگاتی نظر آتی ہے انسان نے محنت سے زمین کو سنوارا پہاڑوں پر گھر بناۓ آسمانوں سے مصنوعی بارش برسالی آرٹ اور سائنس کے میدان میں انسانی محنت نے کامیابیوں کے جھنڈے گھاڑ دئے زمین و آسمان کے فاصلے محدود کر دئے وقت کے فاصلے سمیت دئے سمندروں میں چھپے خزانے دریافت کر لئے انسان نے اپنی محنت سے اپنے مقصد کو پایہ تکمیل تک  پہنچایا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقیقی شعورِ محنت ہے کیا۔ ایک جواری بھی تو محنت کرتا ہے ایک سیاستدان بھی محنت سے پیسے لوٹتا ہے ایک قاتل بھی سو لوگوں کا قتل محنت سے کرتا ہے ،ایک استاد بھی محنت سے اپنے طالب علم کو تراش کر ہیرا بناتا ہے محنت تو ابلیس نے بھی انسان کی پیدائش سے پہلے کی محنت سے خدا کی بے انتہا عبادت کی لیکن آخر وہ کون سی محنت  ہے جو ہمیں آخرت میں سرخرو کرے گی بےجہت اور بے سمت محنتیں کیا انسانی ترقی کا راز پا سکتی ہیں۔کیا واقعی ہماری محنتیں اشرف المخلوقات کا منصب رکھنے کا حق ادا کرتی ہیں وو محنتیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں جو انسانی فلاح و بہبود کے لئے نہ کی جائیں جو اپنے بعد زندہ انسانوں کا قبرستان چھوڑ کر جایئں جو صحرا کی ویرانیوں میں زندگی کو تڑپتا نہ چھوڑ جائیں ۔وہ محنتیں جنہوں نے بحر و بر میں فساد برپا کر دیا جن کے پیچھے انسانی نفس اپنی خواھشات کے بے لگام گھوڑے پر سوار رہا جن کی وجہ سے انسانیت جیسے الفاظ مہدوم ہو گئے اور انسان کے چہرے پر سیاہی مل دی گی جن محنتوں کی وجہ سے زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود بد صورتی کی عملی تصویر بن بیٹھی ایسی تمام محنتیں  بنی نوع انسانی کی تباہی کا ہمیشہ سے موجب بنی رہی ہیں ایسی مہنتیں دنیا میں عبرت کدوں کی لائبریری میں دفن ہیں آج کے دور میں ہم بے مقصد محنت کر رہے ہیں ۔ہمیں شعور ہی نہیں ہے کہ ہم کیوں دن رات مشین کی طرح محنت کر رہے ہیں بامقصد محنت نہ صرف دنیا بلکہ  آخرت کی کامیابیوں سے  بھی سرفراز کرتی ہے اللّه اپنے راستے میں محنت کرنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور یہ راستہ انسانوں سے ہو کر گزرتا ہے کاش ہمیں بار گاہ الہی میں منظور اور مقبول ہونے والی محنتوں کا شعور ہو جاۓ کاش ہم اپنی محنتوں کا قبلہ درست کر لیں۔ کاش ہم دلوں کو مسخر کرنے والی محنت کے طلبگار بن جائیں کیونکہ دل ہی واحد  راستہ ہے جس سے گزر کر مومن اللّہ تک پہنچتے ہیں  کاش ہم دلوں  پر حکمرانی کرنے کا ہنر سیکھ لیں۔ ان مہنتوں پر بھی توجہ دیں اوں ان مہنتوں کو انسانی  دلوں کو فتح کرنے میں صرف کر دیں ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...