معصوم لڑکی جس کا 500 مردوں نے ریپ کیا

معصوم لڑکی جس کا 500 مردوں نے ریپ کیا
معصوم لڑکی جس کا 500 مردوں نے ریپ کیا

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کے شہر ٹیلفرڈ میں کم عمر لڑکیوں کو جنسی استحصال کا شکار بنائے جانے کا ایک سکینڈل منظرعام پر آیا تھا جس میں ہوس کے پجاریوں کے ہاتھوں لٹنے والی ایک خاتون کی کہانی اب منظرعام پر آئی ہے جسے سن کر ہر شخص حیرت سے مبہوت کھڑا رہ جائے۔ میل آن لائن کے مطابق جینیفر نامی اس خاتون کی عمر اب 40سال ہے۔ اسے 11سال کی عمر میں لڑکوں کے ایک گروہ نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور پھر 19سال کی عمر تک اس سے جسم فروشی کا دھندہ کروایا جاتا رہا۔ اسے برطانیہ کے مختلف شہروں میں گاہکوں کے پاس بھیجا جاتا رہا لیکن حیران کن طور پر پولیس نے الٹا جینیفر کے خلاف ہی کئی مقدمات درج کیے اور اسے عدالت سے سزائیں دلوائیں۔

رپورٹ کے مطابق 19سال کی عمر تک جینیفر پر جسم فروشی اور منشیات رکھنے کے 52جرائم ثابت ہوئے۔ جینیفر کی زندگی سے کھلواڑ کرنے والا یہ گینگ 40سال تک علاقے کی لڑکیوں کی زندگیاں برباد کرتا رہا اور سینکڑوں لڑکیاں اس کے ہتھے چڑھیں۔ یہ گروہ لڑکیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور انہیں منشیات کا عادی بنا کر جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیتا۔ اس گروہ کے دھندے میں 5لوگ مختلف اوقات میں قتل بھی ہوئے۔

جینیفر نے بتایا کہ ”ان دنوں میں اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں تھی۔ کئی بار وہ لوگ اسلحہ لیے میرے گھر میں بھی آئے۔ 14سے 16سال کی عمر تک ہر رات 10سے زائد مرد مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔19سال کی عمر تک اس گروہ نے مجھے سینکڑوں گاہکوں کے پاس جسم فروشی کے لیے بھیجا۔ ان کی تعداد 500سے زائد تھی۔ ان دنوں میں سوچتی تھی کہ موت ہی اس اذیت سے نجات کا واحد راستہ ہے۔ میں پولیس کے پاس بھی گئی تھی لیکن انہوں نے میری کوئی مدد نہیں کی۔ الٹا بعد میں انہوں نے میرے ہی خلاف کئی مقدمات قائم کیے۔“

مزید : برطانیہ


loading...