فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے  20نکاتی ضابطہ اخلاق کی منظوری 

فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے  20نکاتی ضابطہ اخلاق کی منظوری 
 فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے  20نکاتی ضابطہ اخلاق کی منظوری 

  

 اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلامی نظریاتی کونسل میں پیغام پاکستان کانفرنس کا انعقاد، کانفرنس میں   فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے 20نکاتی ضابطہ اخلاق کی منظوری دے دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو اسلامی نظریاتی کونسل  اسلام آباد میں  پیغام پاکستان کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے جید علما ء کرام نے شرکت کی، کانفرنس میں شرکت کرنے والوں میں وزیر مذہبی امور نورالحق قادری، مفتی تقی عثمانی،مفتی منیب الرحمان،علامہ ساجد میر، حنیف جالندھری، قبلہ ایاز ،ڈاکٹر محمد راغب نعیمی، سید افتخار حسین نقوی، راجہ ناصر عباس،فقیر محمد نقیب الرحمان،عارف واحدی، سید ضیااللہ بخاری  سیمت دیگر علمائے کرام شریک ہوئے۔

کانفرنس کے اختتام پر  ملک میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے 20نکاتی ضابطہ اخلاق کی منظوری دی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تمام شہری ریاست کے ساتھ اپنی وفاداری کے حلف کو نبھائیں، آزادی اظہار اسلام اور ملکی قوانین کے ماتحت ہے، فرقہ ورانہ نفرت اور پاکستان کی اسلامی شناخت کے منافی کوئی پروگرام نشر نہ کیا جائے،کوئی شخص مسجد، امام بارگاہ، منبر و محراب اور مجلس میں نفرت انگیزی پر مبنی تقریر نہیں کرے گا، فرقہ ورانہ موضوعات کے حوالے سے ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا پر متنازع گفت گو نہیں کی جائے گی، اسلام خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے، ان کی تعلیم، روزگار اور ووٹ کے حق کا تحفظ کیا جائے گا۔

ہر فرد غیرت کے نام پر قتل، قران پاک سے شادی، ونی، کاروکاری اور وٹہ سٹہ سے باز رہے، پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کاحق ہے کہ وہ اپنے مذہب اور مذہبی رسومات کی ادائیگی اپنے عقائد کے مطابق کریں، ضابطہ اخلاق  کے نکات میں کہا گیا ہے کہ سرکاری، نجی اور مذہبی تعلیمی اداروں کے نصاب میں اختلاف رائے کے آداب کو شامل کیا جائے گا، کوئی شخص نہ دہشت گردی کو فروغ دے گا نہ ذہنی و جسمانی تربیت کرے گا اور نہ ہی بھرتی کرے گا، کسی کے بارے میں کفر کے مرتکب ہونے کا فیصلہ صادر کرنا عدالت کا دائرہ اختیار ہے، ضابطہ اخلاق کے مطابق مسلمان کی تعریف وہی معتبر ہے جو دستور پاکستان میں درج ہے۔

اپنے مسالک اور عقائد کی تبلیغ حق ہے لیکن کسی شخص، ادارے یا فرقے کے خلاف نفرت انگیزی یا بے بنیاد الزام لگانے کی اجازت نہیں ہوگی،ہر فرد  لسانی، علاقائی، مذہبی اور فرقہ ورانہ تحریکوں کا حصہ بننے سے گریز کرے، علما، مشائخ اور ہر شعبہ زندگی کے افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کی بھرپور حمایت کریں تاکہ معاشرے سے تشدد کا خاتمہ کیا جاسکے،کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ حکومتی، مسلح افواج یا دیگر سیکیورٹی اداروں کے افراد کو کافر قرار د ے، اسلام کے نفاذ کے نام پر جبر، ریاست کے خلاف مسلح کارروائی، تشدد اور انتشار کی تمام صورتیں بغاوت سمجھی جائیں، پاکستان کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شریعت کے نفاذ کے لیے پرامن جدوجہد کریں، ضابطہ اخلاق میں واضح کیا گیا ہے کہ دستور پاکستان کی اسلامی ساخت اور قوانین پاکستان کا تحفظ کیا جائے گا۔

مزید :

قومی -