بغاوت کا مقدمہ اور پولیس کی پھرتیاں 

بغاوت کا مقدمہ اور پولیس کی پھرتیاں 

  

مسلم لیگ(ن)  کے تاحیات سپریم لیڈر نواز شریف،اُن کی صاحبزادی مریم نواز اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر سمیت43 رہنماؤں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تھانہ شاہدرہ پولیس نے یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات120، 121، 121اے، 123اے، 124اے،153 اے،505 اور سائبر ایکٹ کی شق10کے تحت درج کیا، جن رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اُن میں تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، فوج کے تین ریٹائرڈ جرنیل، دو سابق وزرائے دفاع، خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ گورنر اور16سے زیادہ سابق وفاقی وزراء شامل ہیں، دوسرے الفاظ میں مسلم لیگ(ن)  کی صف ِ اول کی ساری قیادت کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا،جن میں دس خواتین بھی ہیں، نواز شریف پر تقریر کرنے اور باقی خواتین و حضرات پر تقریر سننے کا الزام ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ مودی خوش ہو رہا ہو گا کہ سارا پاکستان ہی اس کا ایجنٹ بن گیا۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نواز شریف کے خلاف مقدمے کے اندراج سے لاعلم تھے، جب اُنہیں بتایا گیا تو انہوں نے اِس پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا، ہو سکتا ہے کہ کسی نے کارروائی ڈالنے کے لئے ایسا کیا ہو،بغاوت کے مقدمے بنانا ہماری پالیسی نہیں،یہ نواز شریف کے دور کی باتیں ہیں۔ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاست کی شطرنج پر ابھی ہماری چال باقی ہے۔وزیراعظم کے معاونِ خصوصی شہباز گل نے بھی کہا ہے کہ ہماری حکومت سیاسی لوگوں پر غداری کے مقدمے بنانے کے حق میں نہیں، یہ کام مسلم لیگ (ن) کیا کرتی تھی اور ہم اس پر اعتراض کرتے تھے، اِس ایف آئی آر میں غداری کی کوئی دفعہ شامل نہیں،اس میں بغاوت کی دفعات شامل ہیں، جس کا مطلب ہے اداروں کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑکانا، اس ایف آئی آر کی بھی میرٹ پر تفتیش ہونی چاہئے۔

جب سے نواز شریف کی تقریر ہوئی ہے، کرپشن کرپشن کی گردان پس منظر میں چلی گئی ہے اور غداری و بغاوت پیش منظر پر آ گئی ہیں اِس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کرپشن کے الزامات کو ایک ہی تقریر کی آندھی اُڑا لے گئی اور یہ خیال بھی باطل ثابت ہو گیا ہے کہ تقریر ٹی وی پر چلنے دو، نواز شریف خود ہی ”ایکسپوز“ ہو جائے گا۔ابھی ”ایکسپوژر“ کا عمل شروع ہی ہوا تھا،اس پر تو اظہارِ مسرت ہونا چاہئے تھا کہ لوگ حکومت کے بقول نواز شریف کی حقیقت جاننا شروع ہو گئے، لیکن اس کے برعکس اوسان خطا ہونا شروع ہوئے تو اسی حالت میں فیصلہ کیا گیا کہ ”مفرور اور اشتہاری مجرم“ کی تقریریں اب نہیں دکھائی جائیں گی، نواز شریف کی تقریر کروڑوں نہیں تو لاکھوں لوگوں نے براہِ راست اور پھر ریکارڈنگ کے ذریعے سنی ہو گی،ان میں وہ بھی شامل ہوں گے،جو اُن کے سیاسی خیالات سے اتفاق نہیں کرتے، بلکہ اُن کے شدید مخالف بھی ہیں،ایسا اِس لئے کیا گیا تاکہ وہ جان سکیں کہ اشتہاری مجرم اصل میں کہتا کیا ہے،تقریر میں جو کچھ کہا گیا آج تک کسی جانب سے اس کا جواب نہیں آیا، بس غداری اور بغاوت کی گرد اُڑا کر سارے معاملات کو  اس گھمن گھیری کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

نواز شریف کے جن سیاسی مخالفین نے تقریریں سنی ہیں اُن میں سے کسی کو بغاوت کا مقدمہ درج کرانے کا خیال تک نہیں آیا، حتیٰ کہ مقدمے کے اندراج کی اطلاع جب وزیراعظم تک پہنچی تو وفاقی وزیر کے بقول انہوں نے اِس پر اظہار ناپسندیدگی کیا، جس پر جناب وزیر نے یہ گرہ لگائی ہے کہ ایسے مقدمے درج کرنا ہماری پالیسی نہیں،ایسی پالیسی تو نواز حکومت کی تھی، اِن حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر ایف آئی آر لکھوانے والا مدعی کس کی دریافت ہے؟ ایک اخبار کے مطابق وہ تو خود کو مسلم لیگ(ن) کا کارکن کہتا ہے، لیکن پھر یہ خبر سامنے آئی کہ وہ تحریک انصاف سے تعلق رکھتا  ہے،اور اس کے ایک یونٹ کا صدر ہے۔ تلاش بسیار کے باوجود ابھی تک وہ شخص منظر عام پر نہیں آیا، تاکہ وہ اپنی پوزیشن خود واضح کر سکے۔ اب ضرورت تو یہ ہے کہ شہباز گل کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش بھی میرٹ پر ہو، لیکن جس طرح ”سو فیصد میرٹ پر“ یہ مقدمہ درج ہوا ہے اُسی طرح اس کی تفتیش بھی ہو گی،پورے پاکستان کے تھانوں میں جرائم کی جو بھی ایف آئی آر درج ہوتی ہے اس میں ایک روایتی لفظ ہمیشہ درج ہوتا ہے،”بلا  توقف“ جس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے میں کسی تامل اور تاخیر سے کام نہیں لیا،حالانکہ دُنیا جانتی ہے کہ تھانوں میں ایف آئی آر درج کرانے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں،کتنے ہفت خوان طے کرنے پڑتے ہیں اور کتنے پولیس والوں کے منت ترلے کرنے پڑتے ہیں،کبھی کبھار مٹھی بھی گرم کرنا پڑتی ہے تب کہیں جا کر ایف آئی آر درج ہوتی ہے اور اس میں بھی اکثر و بیشتر مرضی کا فرق وقوعہ بنایا جاتا ہے تاکہ من پسند فیصلے کے حصول میں مدد مل سکے،لیکن یہ شہری خوش قسمت ہے کہ وہ تھانے گیا اور پولیس نے بلا توقف اس کی ایف آئی آر درج کر لی اور کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا، ایف آئی آر بھی اتنی رازداری سے درج کی گئی کہ وزیراعظم تک اس سے بے خبر رہے اور انہیں باقاعدہ ایک وزیر کی وساطت سے اظہارِ ناراضی کرنا پڑا، سوشل میڈیا کے بعض ایکٹوسٹوں نے درخواست دھندہ کی ایک تصویر بھی اَپ لوڈ کی ہے، جس میں درخواست گزار گورنر پنجاب کے ساتھ موجود ہیں گورنر ہاؤس کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ لوگ گورنر صاحب کو ملنے کے لئے آتے رہتے ہیں اور اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اُن کے ساتھ تصویر بنائیں یہ تصویر بھی کسی ایسے ہی موقع پر بنی ہو گی،گورنر ان صاحب کو نہیں جانتے۔

اس مقدمے کے اندراج سے ایک روز پہلے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ نواز شریف نے لندن میں بھارتی باشندوں سے ملاقات کی تھی، اُن کے صاحبزادے کی بھی ایسی ملاقاتوں کا تذکرہ ہوا۔یہ بھی بتایا گیا کہ مریم نواز نے کھوکھر پیلس میں ایک بھارتی باشندے سے ملاقات کی، جس کا جواب کھوکھر پیلس سے یہ آیا کہ یہاں ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی، تو جواب دیا گیا کہ لاہور میں ایک ہی کھوکھر پیلس تو نہیں ہے، گویا بالواسطہ طور پر اصرار کیا گیا کہ ملاقات ہوئی ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کو پہلے سے علم تھا کہ کوئی بھارتی باشندہ کسی کھوکھر پیلس میں مریم نواز سے ملاقات کر رہا ہے تو پولیس کے چند سپاہی جا کر اسے گرفتار کر لیتے،ایسا کیوں کیا  گیا کہ ملاقات ہونے دی گئی اور بعد میں اسے سیکنڈلائز کرنے کی کوشش کی گئی، اس کا جواب بھی کوئی دے دے تو بہتر ہو گا۔تقریر سننے والوں کے خلاف بھی اگر بغاوت کا مقدمہ بنتا ہے تو کیا پتہ کل کلاں ان سب نامعلوم لاکھوں لوگوں کے خلاف بھی مقدمہ درج ہو جائے،جنہوں نے اپنے ٹیلی ویژنوں پر یہ خطاب سُنا اور دیکھا، جتنی تیزی سے مقدمہ درج ہوا ہے، تفتیش کی ضمنی میں بعید نہیں یہ سارے لوگ بھی دھر لئے جائیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -