انوکھا واقعہ

انوکھا واقعہ
انوکھا واقعہ

  

پہلی بار ایسے واقعات ہو رہے ہیں کہ ملک کی صف ِ اول سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت پر غداری کے مقدمات درج ہو رہے ہیں،مگر ملک کے وزیراعظم کو اُس کی خبر ہی نہیں۔اِس کا مطلب ہے اب پاکستان کوئی عجوبہ ئ روزگار ملک ہے۔ پولیس کی کیا جرأت کہ وہ خود اپنے آپ ایسا چونکا دینے والا مقدمہ درج کرے،جس میں تین بار وزیراعظم رہنے والا شخص،تین  ریٹائرڈ جرنیل، ایک حاضر سروس وزیراعظم(آزاد کشمیر) اور درجنوں سیاسی رہنما شامل ہیں اور کسی کو اُس کی کانوں کان خبر نہ ہو۔ پولیس کا ایس ایچ او تو عام پرچہ درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتا ہے، چہ جائیکہ سنگین دفعات کے تحت  چالیس بڑی شخصیات کو ایک ہی پرچے میں نامزد کر دیا گیا ہو۔ اب حکومتی وزیروں، مشیروں کا یہ بیانیہ جاری ہے کہ غداری کے مقدمات درج کرنا مسلم لیگ(ن) کی روایت تھی، تحریک انصاف اس پر یقین نہیں رکھتی۔ ایسی ڈھٹائی بھی شاید ہی پہلے کسی نے دیکھی ہو۔ ایک حکومت غداری کے مقدمے سے مکر رہی ہے، حالانکہ اُس کی ایف آئی آر سامنے آ چکی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اس مقدمے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ اگر کام غلط ہوا ہے تو اُس پر صرف ناراضی کا اظہار کیوں؟یہ حکم کیوں جاری نہیں کیا کہ بے بنیاد مقدمہ خارج کیا جائے،کیونکہ ایسی سیاسی باتوں اور خطابات پر غداری کے الزامات لگانا قصہ ئ ماضی ہے،جس کی حال کے تناظر میں کوئی گنجائش نہیں۔

جس کسی نے بھی اس مقدمے کا مشورہ دیا یا اُس کے لئے راہ ہموار کی،وہ نہ تو حکومت کا دوست ہے اور نہ پاکستان کا خیر خواہ۔ایسی حرکتوں سے انتشار ختم نہیں ہوتا،بلکہ مزید بڑھ جاتا ہے۔یہ کیا بے تکی بات ہے کہ جن لوگوں نے نواز شریف کی تقریر سنی وہ بھی غداری کے مرتکب ہوئے ہیں، اگر فارمولا یہی ہے تو نواز شریف کی تقریر تو کروڑوں لوگوں نے سنی، کیا انہیں بھی مجرم گردانا جائے گا۔ اگر واقعی یہ انہونی ہوئی ہے کہ وزیراعظم کے علم میں لائے بغیر ایک سنگین نوعیت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تو وزیراعظم عمران خان کو فوراً ایک انکوائری کمیٹی بنانی چاہئے،جو اس امرکا جائزہ لے کہ اتنا اہم مقدمہ درج کرتے ہوئے ملک کے وزیراعظم کو باخبر کیوں نہیں کیا گیا؟ایسے مقدمات تو شاذو نادر ہی ہوتے ہیں، پھر اُن کے چونکہ سیاسی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں،اِس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کے نوٹس میں لائے بغیر اتنا بڑا قدم اُٹھا لیا جائے۔

بالفرض یہ مقدمہ عمران خان کے علم میں تھا تو انہوں نے اسے رکوانے کے لئے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا؟ آج اُس کے بارے میں ایسی باتیں کرنے کا مقصد کیا ہے کہ وزیراعظم اس مقدمے پر اظہارِ افسوس کر رہے ہیں،حالانکہ وہ نواز شریف کی تقریر کے بعد خود یہ کہہ چکے ہیں کہ نواز شریف بھارتی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور یہ ملک سے غداری کے مترادف ہے۔اُن کے اس بیانیہ کے بعد وفاقی و صوبائی وزراء نے غدار، غدار کہہ کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ نواز شریف کو غدار ثابت کرنے کے لئے سب ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ اُس وقت بھی سنجیدہ حلقوں نے یہی کہا تھا کہ نواز شریف کو غدار نہ کہیں،سیاسی مخالفت کو ملک کی مخالفت نہ سمجھیں،لیکن اچانک ایک شخص منظر عام پر آیا،اُس نے اندراجِ مقدمہ کی درخواست دی اور اہم ترین پرچہ ایسے درج ہو گیا، جیسے دکان سے سگریٹ چرانے کا کوئی مقدمہ ہو۔اگر یہ مقدمہ وزیراعظم کے علم میں نہیں تھا، تو پھر وزیراعلیٰ پنجاب کے علم میں بھی نہیں ہو گا،کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ وزیراعلیٰ اِس اہم ترین مقدمے کو اپنے وزیراعظم سے اوجھل رکھیں ……تو پھر یہ مقدمہ درج کیسے ہوا؟

تحریک انصاف کی حکومت کو یہ مان لینا چاہئے کہ اس مقدمے کے اندراج سے اُس کی ساکھ بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔اب وزراء جتنا مرضی یہ کہتے رہیں کہ یہ مقدمہ غداری کا نہیں یا اس کا تو وزیراعظم کو علم ہی نہیں تھا، حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں اُس دورِ حکومت کا یہ واقعہ ایک سیاہ داغ کے طور پر رقم ہو چکا ہے۔نواز شریف نے اپنی تقاریر میں جو موقف اختیار کیا ہے،اُس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ضروری نہیں کہ جو لوگ نواز شریف کی تقریر سنتے ہوں،وہ اُن کے بیانیہ سے متفق بھی ہوں،لیکن صرف اس وجہ سے کہ اُن کے کانوں میں نواز شریف کی آواز کیوں گئی،انہیں غداری کے مقدمے میں ملوث کر دینا اپنی نوعیت کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔عموماً ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی ایس ایچ او کسی وجہ سے جھوٹا مقدمہ درج کرتا ہے تو حکام کے علم میں آتے ہی اُسے نہ صرف معطل کر دیا جاتا ہے، بلکہ اس کے درج کردہ مقدمے کو  فوری خارج کرنے کی ہدایت بھی جاری کی جاتی ہے۔حکومت خیر سگالی کے طور پر اس مقدمے کے اخراج کا حکم بھی جاری کر سکتی ہے، مگر اس کی بجائے اُلٹی سیدھی تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ غداری کا نہیں، بلکہ قومی اداروں کے خلاف عوام کو اُکسانے کا مقدمہ ہے۔آخر ہم اور ہمارے ادارے عوام پر بھروسہ کیوں نہیں کرتے، کیوں اُن کے دِل میں یہ خدشہ جنم لیتا ہے کہ نواز شریف جیسے بیانیہ کو نہ روکا گیا تو ایک طوفان آ جائے گا؟کسی بھی سیاسی بیانیہ کا توڑ مضبوط سیاسی موقف کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف اگر قومی مفاد کا خیال نہیں رکھتے اور وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی باتیں قومی مفاد کے خلاف ثابت ہوتی ہیں تو قوم اُن کے بارے میں خود فیصلہ کرے گی۔آج تک مقدمات کے اندراج اور اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر ہم نے جتنے غدار بنائے ہیں، تاریخ یہ ثابت کر چکی ہے کہ وہ غدار نہیں،بلکہ جمہوریت پسند اور انسانی آزادیوں کے علمبردار تھے۔

مزید :

رائے -کالم -