تجاوزات کی وباء مریدکے نارووال

تجاوزات کی وباء مریدکے نارووال
تجاوزات کی وباء مریدکے نارووال

  

پنجاب کے تمام شہروں میں ٹریفک کی بے شمار مشکلات درپیش ہیں جس کی طرف انتظامیہ اور ارباب اختیار بہت کم توجہ دیتے ہیں۔ اس میں پولیس کے علاوہ دوسرے محکمے بھی ذمہ دار ہیں جس میں لوکل گورنمنٹ بھی شامل ہے،مگر بد قسمتی سے ان اداروں میں عوام کو ٹریفک کی مشکلات سے نکالنے کے لئے آپس میں کوئی کوارڈینیشن نہیں ہے جس جس ادارے کے اہل کار کا داؤ لگتا ہے، جس کا اختیار ہے وہ تجاوزات کرنے والوں، فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر اور دوکانوں کے آگے تھڑے بنانے والوں،ریڑیاں لگانے والوں سے اپنا حصہ وصول کر لیتا ہے۔لاہور، پنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان، ڈی جی خاں، نارووال، سیالکوٹ، شکر گڑھ غرضیکہ آپ پنجاب کے کسی بھی شہر میں چلے جائیں،وہاں تجاوزات کی بھرمار ہے،ستر فٹ سڑک ہے، لیکن ایک گاڑی گزارنا بھی مشکل ہے، کیونکہ شاہراؤں پر تجاوزات، ناجائز پارکنگ کے ٹھیکے، موٹر سائیکل، گاڑیاں کھڑی نظر آئیں گی۔ دکانداروں نے اپنی دکانوں کے آگے ریڑیاں لگوائی ہیں، وہ روزانہ کی بنیاد پر ان سے کرایہ لیتے ہیں، ان تمام پریشانیوں اور مشکلات کی وجوہات سرکاری اہل کاروں، ذمہ دار محکموں کے کرپٹ اور رشوت خور ملازمین ہیں۔یہ خود دکانداروں کو طریقے بتاتے ہیں۔ لاہور کی بہت پرانی دو مثالیں ہیں، لاہور میں بہت بدمعاشیاں اور جرائم ہوتے تھے جنرل (ر) موسیٰ خاں گورنر نے ایک رات کو حکم جاری کیا کہ کل سے لاہور شہر میں بدمعاشی اور شراب بند۔ اس وقت کے لوگوں نے دیکھا کہ مال روڈ اور شہر کی نالیوں میں رات کو شراب بہائی گئی اور لاہور کے نامور بڑے بڑے بدمعاش توبہ کر کے سیدھے ہو گئے۔ رائل پارک، مصری شاہ، ہیرا منڈی، اندرون شہر دو تین دن میں بدمعاشی کے واقعات ختم ہو گئے اور بھتہ بند ہو گیا۔

لاہور میں موجودہ دور سے بھی زیادہ تجاوزات تھیں، میاں محمد اظہر سابق گورنر پنجاب نے چند دنوں میں لاہور کی تمام تجاوزات ختم کروا دیں۔لاہور شہر کی رونق اور خوبصورتی بحال ہو گئی،پنجاب کے شہروں میں تجاوزات کا حوالہ تو نہیں دیا جا سکتا، لیکن اگر پنجاب کے آٹھ شہروں،سب سے پہلے لاہور اور اردگرد کے علاقوں سے تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے تو جس طرح کہتے ہیں کہ ہر طرح کی تبدیلی کے لئے لاہور سے ہوا چلتی ہے۔ یہ تجاوزات ختم کرنا کوئی مشکل نہیں، تجاوزات قائم کرنے میں غیر قانونی رہائش پذیر غیر ملکی  بھی شامل ہیں۔ انتظامیہ اور متعلقہ ادارے عوام کے حقوق ان کو دلوائیں،یہ سڑکیں اور فٹ پاتھ عوام کے لئے بنائے گئے ہیں نہ کہ اداروں کے اہلکاروں کے بھتہ وصول کرنے کے لئے۔ لاہور مال روڈ وی آئی پی سڑک ہے، لیکن اس پر آپ کو اسمبلی ہال چوک پر وی آئی پی بھکاری بھیک مانگتے نظر آئیں گے۔ ریگل چوک، انارکلی چوک غرضیکہ تجاوزات نے بازاروں اور سڑکوں کو عوام کے لئے دردِ سر بنا دیا ہے اور تجاوزات کرنے والے بڑے رعب اور دبدبے سے کہتے ہیں کہ مفت نہیں بیٹھے۔ ہاں بھکاریوں کی بات کر رہا تھا، اس وی آئی پی سڑک پر بھی بھکاری ہیں تو باقی شہر کی ہر سڑک، ہر چوک پر بھکاریوں نے گروہ بنا رکھے ہیں اور وہ باقاعدہ ٹھیکے دار کو ٹھیکہ دے کر مختلف اوقات میں شہر کے علاقے تبدیل کرتے رہتے ہیں۔

لاہور کے 9 زون ہیں،ان زونوں کے انچارج اگر رشوت نہیں لیتے، بھتہ نہیں لیتے تو پھر اپنے ماتحتوں کو سختی سے آرڈر جاری کریں کہ تجاوزات کو ختم کریں، تجاوزات ختم کرنے اور ریڑھیوں کو اٹھانے والے ٹرک کو ایک جگہ کھڑا کر دیتے ہیں، اس کے اہل کار اتر کر تجاوزات کرنے والوں کو آگاہ کرتے ہیں اور ریڑھی والا تعاون نہیں کرتا،اس کی ریڑی اٹھا کر ٹرک میں ڈال لیتے ہیں۔میری رہائش ٹاؤن شپ میں ہے ماشاء اللہ فیصل ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سڑکیں ہیں،لیکن تجاوزات نے سبزی منڈی اور اکبری منڈی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ خدا پناہ جس طرح ٹاؤن شپ کی سڑکوں اور بازاروں میں تجاوزات قائم کی گئی ہیں، ان کی مثال ملنا مشکل ہے۔ سڑکوں پر موٹر سائیکلوں کی ناجائز پارکنگ، ایک بیماری چنگ چی موٹر سائیکل رکشا  ہے، نہ رجسٹریشن، نہ ٹوکن نہ ڈرائیوروں کے لئے لائسنس، 9,10 سواریاں لوڈ کرتے ہیں، ان کے بے شمارحادثات ہوتے ہیں،ان کو رجسٹرڈ ہونا چاہئے، ڈرائیوروں کے پاس لائسنس ہونے چاہئیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صاحب سے گزارش ہے کہ شہروں سے تجاوزات کو ختم کرنے کا حکم جاری کریں بلکہ اپنے حکم پر عمل کروائیں۔ چند لوگوں کی خاطر جو بھتہ وصول کرتے ہیں (ان کی نہ مانیں)، بلکہ پنجاب کے عوام کی اس مشکل کو دور کریں اور اپنا نام پیدا کریں۔دوسرے نمبرپر شہریوں کو بھکاریوں سے نجات دلوائیں اپنے چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی مشورہ میں شامل کریں۔یہ تجاوزات ختم کروانے میں بیورو کریٹ بھی شامل ہوں گے، اس لئے چیف سیکرٹری صاحب کو بھی شامل کریں تاکہ بیورو کریٹ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

 مریدکے سے نارووال تک جو سڑک جاتی ہے۔یہ تین ضلعوں کے ماتحت آتی ہے۔ شیخوپورہ، سیالکوٹ اور نارووال۔ پچھلے سات سال سے ان ضلعوں کے متعلقہ اداروں نے اس سڑک کے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں اورجس جس کو موقع ملا کوئی دس کلومیٹر، کوئی بیس کلو میٹر، کوئی 50 کلومیٹر سڑک کی مرمت کے نام پر کھاتے رہے، کسی بھی اہل کار کو شرم نہیں آئی کہ اس سڑک کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے۔سات سال تک اس سڑک کی مرمت تک نہیں کی گئی، لیکن کاغذوں میں لاکھوں کروڑوں کے فراڈ کئے گئے۔چند سیاست دانوں نے اس سڑک کو دو رویہ بنانے کے نام پر بہت فراڈ کیا، سب نے اپنے اپنے حصے کی سڑک پر لوٹ مار کی۔ چند ہفتے پہلے کسی معزز پاکستانی شہری نے نیب اور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔درخواست گزار نے میرے خیال کے مطابق اس سڑک پر سفر کرنے والوں پر احسان کیا۔ نیب اور ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت شروع کی تو اسی سڑک کا تقریباً 80 فیصد حصہ تقریباً چار ہفتوں (ایک ماہ) میں مرمت کر دیا گیا۔ گو وہ مرمت معیار کے مطابق نہیں، لیکن نہ ہونے سے بہتر ہے جو سڑک بڑے بڑے کھڈوں اور آبادیوں میں جوہڑ کا نقشہ پیش کرتی تھی،اب قدرے بہتر ہو گئی ہے، اگر متعلقہ محکموں کے اہل کار بے عزتی کروانے، جوتے کھانے یا پولیس سے حصہ وصول کرنے سے پہلے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تو پھر نہ عوام پریشان ہوں اور نہ ہی عدالتوں کو نوٹس لینا پڑے۔

مزید :

رائے -کالم -