عوام کو اور فریب نہ دیجئے

عوام کو اور فریب نہ دیجئے
عوام کو اور فریب نہ دیجئے

  

ہماری سیاسی تاریخ میں ایسی سیاسی کشتیاں پہلے بھی ہو چکی ہیں جن میں کون ہارا کون جیتا یہ سب تو رہا ایک طرف، لیکن اس میں نقصان ہمیشہ عوام کا ہی ہوا۔ سیاستدان ہر دور میں فتح یاب رہے۔ ہم کہتے ہیں نوازشریف جیل کی دیواریں پھلانگ کر رات کے اندھیرے میں ملک سے نہیں بھاگے بلکہ انہیں تمام قانونی تقاضے پورے کرکے علاج کے لئے جانے دیا گیا اور ہم اس بحث میں بھی جانے پر آمادہ نہیں کہ نواز شریف کا بیانیہ اس وقت غلط ہے یا صحیح اور عام آدمی کو اس سے کچھ غرض بھی نہیں انہیں تو دو وقت کی روٹی سے غرض ہے جسکے اب لالے پڑ چکے ہیں مہنگائی۔ بے روزگاری۔لاقانونیت کے مہیب سائے بڑھتے جاتے ہیں حکمرانوں نے تو جیسے عوام کا گھیراؤ ہی کر لیا ہو کہ اب عوام کے حلق سے ہی سب کچھ نکالنا ہے۔ ادویات سے لے کر بجلی چینی آٹے تک اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ کر دیا گیا ہے کہ عوام گھٹ کررہ جائیں اور انکے منہ سے آہ تک نہ نکلے۔دن بھر محنت کی بھٹی میں جلنے والا بھی اپنے بچوں کا پیٹ پالنے سے معذور ہے پی ٹی آئی کی حکومت کا تیسرا سال ہے اور عوام اپنے لئے مشکلات میں اضافہ ہی دیکھ رہے ہیں انہیں کہیں سے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی ہر کوئی ایک ہیجانی کیفیت کا شکار ہے۔

تحریک انصاف جب دھرنوں پر تھی تو عوام کے لئے کیا کیا وعدے نہیں کئے گئے ایسے ایسے سہانے خواب دکھائے جاتے کہ عوام چشم تصور سے دیکھنے لگ گئے کہ دنیا پاکستان میں کام کی تلاش میں آرہی ہے پاکستانیوں کی کایا ہی پلٹ گئی ہے انکے گھروں میں تو جیسے دولت کے انبار لگ رہے ہیں بینکوں میں ڈھیر سونا ہے روپے کی قدر ایسی! کہ لوگ ڈالر اور دینارلئے روپے کے لئے مارے مارے پھررہے ہیں۔ جناب عمران خان نے جب سول نافرمانی کا اعلان کیا تو بجلی کے بلوں کو سرعام جلایا گیا کارکنوں کو اداروں پر چڑھ دوڑنے پر اکسا کر خان اعظم اپنی قیادت میں حملہ آور ہوئے اسلام آباد کے انتہائی اہم حصے میں قبریں کھودی جانے لگیں۔کپڑے دھوئے جانے لگے۔ اس وقت کے منتخب وزیر اعظم نواز شریف سے کن کن الفاظ سے استعفی نہ مانگا گیا، لیکن آج جب جناب عمران خان سے مستعفی ہونے کی بات کی جاتی ہے تو آپ  فرماتے ہیں کس کی جرأت ہے کہ مجھ سے استعفی مانگے دیکھئے صاحب عمل کا رد عمل ہوتا ہے یہ مکافات عمل ہے ۔

عالیجاہ! آپ قانون اور انصاف کی بالا دستی کی بات کرتے رہے اور آپکی حکومت میں قانون و انصاف کو پامال کیا جارہاہے جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا جاتا ہے سانحہ کراچی اور لاہور سیالکوٹ موٹر وے کے بعد جنسی تشدد اغواء اور قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہو چکا ہے ایک لڑکی نے تو اپنی عزت گنوانے کے بعد پولیس کے روئیے سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی ہی کرلی اور آپ قانون کی حکمرانی کی بات کررہے ہیں۔

 خان اعظم! آپ سے ایک ٹی وی انٹریو میں پوچھا گیا کہ کیا آپ دوسری جماعتوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں گے تو آپ نے فرمایا تھا کہ اگر میں نے دوسری جماعتوں کو ہی ساتھ لینا ہے تو میری بائیس سالہ جدوجہد کا مقصد ہی کیا ہے اور پھر اقتدار کے لئے آپکو دوسری جماعتوں کے رہین منت ہی ہونا پڑا ایک طرف آپ صحت کارڈدے رہے تو دوسری جانب سرکاری ہسپتالوں میں آؤٹ ڈور چیک اپ کی فیس میں اضافہ ہو چکا ہے۔ مفت پرچی کو 50 روپے اور تشخیصی ٹیسٹوں کی فیس میں 200 روپے کا اضافہ کرکے آپ نے کونسا معرکہ مارا ہے۔ 

عالیجاہ آ پ وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد مسلسل کہتے آئے ہیں میں این آر او نہیں دوں گا درست ہے آپ این آر او دے بھی نہیں سکتے یہ، قومی مفاہمتی آرڈیننس ’این آر او‘ (National Reconciliation Ordinance) ایک صدارتی آرڈیننس ہے جسے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007 میں جاری کیا۔اس صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پرویز مشرف صاحب نے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے ان تمام مقدمات کو ختم کرنے کا اعلان کیا جو یکم جنوری 1986 سے لے کر 12 اکتوبر 1999 کے درمیان سیاستدانوں سیاسی کارکنوں پر ’سیاسی بنیادوں‘ پر درج کئے گئے تھے،لیکن دو سال بعد اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری نے اس آرڈیننس کو مفاد عامہ اور آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد یہ مقدمات دوبارہ کھل گئے تھے، لیکن اس وقت بینظیر بھٹو شہید ہو چکی تھیں اور آصف زرداری کو صدر مملکت ہونے کی وجہ سے ان مقدمات سے استثناٰ حاصل ہو چکا تھا۔بنیادی طور پر یہ قانون اس وقت پیلز پارٹی کی جلا وطن سربراہ بینظیر بھٹو کی پاکستان اور یہاں سیاست میں واپسی کو ممکن بنانے کے لئے جاری کیا گیا تھا۔ عدالت سے مسترد ہونے کے بعد این آر او کا تو باب ہی بند ہو چکا۔

جناب! ملکی مسائل کے حل تلاش قومی ایشوز پر بات چیت کیجئے۔ وزیر اعظم صاحب آپ ہی فرمایا کرتے تھے اوپر ٹھیک بندہ بیٹھا ہو تو نیچے سب ٹھیک ہوجاتا ہے جناب اس وقت آپ اوپر بیٹھے ہیں، لیکن نیچے کچھ بھی تو ٹھیک نہیں ہماری گذارش ہے کہ مصلحت اور مفاہمت کی راہ اپنایئے،کیونکہ انتشار ملکوں کے زوال کا پیش خیمہ ہوا کرتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -