فضائی قوت، جمہوریت اور شخصی حکومت

فضائی قوت، جمہوریت اور شخصی حکومت
فضائی قوت، جمہوریت اور شخصی حکومت

  

آج سے تقریباً 117برس پہلے 17دسمبر 1903ء کو دو امریکی بھائیوں نے بنی نوع انسان کی زندگی میں ایک نئی تاریخ رقم کی اور نارتھ کیرولینا ریاست میں کِٹی ہاک کے مقام پر دنیا کا پہلا جہاز اڑایا۔ یہ ایک مشینی پرواز تھی جس نے ہوا سے بھاری جہاز کو ہوا میں بلند کیا۔ اس دور میں بحراوقیانوس کو بحری جہاز کے ذریعے عبور کیا جاتا تھا۔ یہ سفر کئی دنوں پر محیط ہوتا تھا۔ لیکن اندازہ کیجئے اس انقلابی ایجاد کا کہ یہ امریکہ کے ساحل سے نکلی اور چند گھنٹوں میں فرانس جا پہنچی۔ فرانسیسیوں نے بھی اس مشین پر بہت محنت کی۔ یہ داستان دراز تو بہت ہے لیکن اس تناظر میں بہت مختصر بھی ہے کہ صرف ایک عشرے میں اس ہوائی مشین نے ایک پاور فل ملٹری ویپن کا روپ دھارا۔ ٹرانسپورٹ طیارے، بمبار طیارے اور لڑاکا طیارے اتنی عجلت سے معرضِ وجود میں آئے کہ پہلی عالمی جنگ (1914ء سے 1918ء تک) میں اس نئے ہتھیار نے فریقینِ جنگ سے اپنا لوہا منوا لیا۔1904ء سے 1914ء تک کا عشرہ اس لحاظ سے بھی یادگار ہے کہ اس میں امریکہ اور فرانس کے علاوہ روس، برطانیہ، جرمنی اور اٹلی نے اس فضائی مشین کے امکانات پر بہت کام کیا اور زور دیا۔

جسے ہم آج ائر فورس کہتے ہیں وہ دوسری جنگ عظیم تک ایک الگ فورس / سروس شمار نہیں ہوتی تھی بلکہ آرمی کا ایک ماتحت شعبہ تصور کی جاتی تھی۔چین میں آج بھی یہ طریقہ مروج ہے۔ وہاں ائر فورس کو آرمی کے ساتھ منسلک کرکے ”پیپلزلبریشن آرمی ائر فورس“(PLAAF)کہا جاتا ہے۔فضائیہ کو ایک الگ سروس منوانے میں کتنا عرصہ لگا اور کتنے ہفت خواں طے کرنے پڑے، یہ بھی ایک لمبی داستان ہے۔ جنرل ہارلے آرنلڈ (H.Arnold) دوسری عالمی جنگ (1939-45ء) میں امریکی فضائیہ کا ائر چیف مارشل تھا۔ لیکن چونکہ اس جنگ کے دوران فضائیہ کو ایک الگ سروس کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا تھا اور وہ 1947ء تک ”آرمی ائر فورس“ ہی کہلاتی رہی اس لئے آرنلڈ کو فضائیہ کے اس رینک سے پکارا نہیں جاتا کہ جو آج کل (اور 1947ء میں باقاعدہ طور پر ”امریکی ائر فورس“ قائم ہونے کے بعد) دنیاکی تمام فضائی سروسز میں مروج ہے۔ چنانچہ آرنلڈ کو ائر چیف مارشل آرنلڈ کی جگہ جنرل آرنلڈ ہی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے حالانکہ اس نے ساری عمر فضائیہ میں گزار دی۔

آرنلڈ امریکہ کا پہلا اور آخری آرمی ائر فورس آفیسر تھا جس کو پانچ ستاروں والا جرنیل بنایا گیا۔ اور یہ رینک جیسا کہ ہم جانتے ہیں ”گراؤنڈ فورسز“ میں ’فیلڈ مارشل‘ کہلاتا ہے۔ وہ دوسری عالمی جنگ میں امریکہ کی آرمی ائر فورسز کا سینئر ترین جرنیل تھا۔ جنرل سپائز (Spaatz) اس کا نائب تھا کہ جو آرنلڈ کی ریٹائرمنٹ کے بعد 1946ء میں امریکہ کی نئی ائر فورس کا پہلا چیف (ائر چیف مارشل)بنایا گیا۔

جنرل آرنلڈ کو تحریر و تقریر پر یکساں قدرت حاصل تھی۔ اس نے دورانِ سروس اور ریٹائرمنٹ کے بعد، فضائی قوت کے ارتقاء، اہمیت، افادیت اور اس کے مستقبل پر بہت سے مضامین لکھے۔ لیکن اس سے بھی تقریباً نصف صدی پہلے اٹلی کے ایک جنرل نے اس موضوع پر جو بیش بہا تصنیفات قلم بند کیں وہ فضائی قوت کے موضوع پر الہامی کتب کا مقام رکھتی ہیں۔ اس جنرل کا نام گیلیو ڈوہٹ (Giulio Douhet) تھا!

ڈوہٹ بنیادی طور پر رسالے (گھڑ سوار رسالہ) کا آفیسر تھا اور ساری عمر اسی شعبے میں گزار دی۔ لیکن جب اس نے امریکہ کے دو بھائیوں (ولبررائٹ اور آرویل رائٹ) کی فضائی مشین کا نام سنا تو اس کے افکار کے گھوڑے زمین کی بجائے فضا میں دوڑنے لگے! اس نے 1909ء میں (یعنی پہلی فضائی مشین کی ایجاد کے صرف  6برس بعد) یہ پیشگوئی کر دی تھی کہ مستقبل کا میدانِ جنگ زمین یا سمندر نہیں ہوگا، فضا ہو گی۔ وہ 1930ء میں انتقال کر گیا لیکن مرنے سے پہلے تین ایسی کتابیں تحریر کیں جو فضائیہ کی بائبل کہلاتی ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں:

1۔کمانڈ آف دی ائر (1921ء)

2۔فیوچروار (1928ء)

3۔Re-Capitulation(1929ء)

ڈوہٹ نے دعویٰ کیا کہ ایک خود مختار (Independent) ائر فورس ہی، مستقبل کی جنگ میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا کر سکے گی۔ اس کے نزدیک جنگی طیارہ (فائٹر، بمبار یا ٹرانسپورٹ) آنے والی کسی بھی جنگ میں ایسا جارحانہ کردار ادا کرے گا کہ اس کا مقابلہ کوئی زمینی یا سمندری ہتھیار نہیں کر سکے گا…… ہم جانتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں ڈوہٹ کی یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔

شاید قارئین اسے میرے پاگل پن سے تعبیر کریں لیکن جب کئی برس پہلے میں نے ڈوہٹ کی ”دی کمانڈ آف دی ائر“ پڑھی تھی تو مجھے اردو اور فارسی کی کلاسیکل نوعیت کی اکثر تصانیف اس کے سامنے ہیچ محسوس ہوئی تھیں۔ میری دلی آرزو تھی کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ ہو جائے اور میرے وطن کے قارئین بھی اس موضوع کی سحر طرازیوں میں اسی طرح کھو جائیں جس طرح میں نے محسوس کیا تھا! حالانکہ میں نے اردو اور فارسی لٹریچر میں ایم اے کر رکھا تھا اور دونوں میں ڈویژن بھی فرسٹ آئی تھی اور مزید برآں میں اردو اور فارسی ادب میں ناول اور افسانہ کے ارتقاء کا کافی و شافی شعور رکھتا تھا اور اسی دور میں اردو اور فارسی کے بہت سے کلاسیکل ناول نگاروں اور افسانہ نویسوں کی تصانیف دیکھ اور پڑھ چکا تھا اور ان کی جادوبیانی اور دلچسپ حکائت  نگاری کا دل و جان سے معترف تھا۔ لیکن ”دی کمانڈ آف دی ائر”جیسی تصانیف ناول یا افسانہ نہیں، حقیقت تھیں۔ اور یہی حقیقت مجھے عسکری ادب کی ’صفات‘ و ’برکات‘ تک لے گئی اور جن سے آج تک میں پیچھا نہیں چھڑا سکا!

میں ایامِ جوانی میں بھی پاکستان کی اوورآل ترقی کی اساس اس کی دفاعی قوت میں دیکھا کرتا تھا اور آج بھی روز اول والا معاملہ ہے۔ ہم جس جمہوری طرزِ حکومت کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے وہ مغرب کی جمہوریت ہے اور اسی کے تحت ہم نے اپنا آئین مرتب کر رکھا ہے۔لیکن اگر آپ مغربی جمہوریت کا مطالعہ کریں تو آپ کو یورپ میں جتنے ممالک نظر آتے ہیں، اتنی ہی تعداد کی جمہوریتیں نظر آئیں گی……”عوام کی حکومت، عوام کے لئے اور عوام کے توسط سے“…… ایک دلفریب سلوگن ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی، پولینڈ، ڈنمارک، سویڈن، اٹلی کس کس کا نام لوں۔ ان تمام ممالک کے دستوروں (Constitutions)کا سرسری مطالعہ کیجئے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ ان میں وہی طرزِ حکمرانی رائج ہے جو اس کے عوام کے سوادِ اعظم کا تقاضا ہے۔ پاکستان کا سواد اعظم کیا چاہتا ہے، اس کا موازنہ یا مقابلہ مغربی ممالک کے سوادِ اعظم سے نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ان تمام مغربی جمہوری ممالک میں ایک قدرِ مشترک ایسی ہے جو آپ کو بدیہی طور پر نظر آئے گی وہ ان کی دفاعی قوت ہے۔20ویں صدی کی دونوں عالمی جنگوں نے مغرب کو بہت کچھ سکھایا۔ لیکن ان جنگوں کا آخری سبق یہی تھا کہ جس ملک کی فوج مضبوط ہے، جس کادفاع قوی ہے، جس کے عوام اپنی فوج کے ساتھ ہیں اور جن کی معیشت مستحکم ہے، وہی ملک آزاد اور خود مختار رہ سکتا ہے۔ اب تو مغرب کی جمہوریتوں نے ایک دوسرے کا سہارا بننے کا گُر سیکھ لیا ہے۔ اسی لئے تو NATO وجود میں آئی اور اسی سبب سے وارسا پیکٹ تشکیل ہوا۔ ناٹو کی افواج ایک دوسرے کی پشت پناہ تھیں (اور ہیں)۔ اور جب تک ان کو باہمی دفاعی پشتیبانی میسر ہے، ان کا کوئی بال تک بیکا نہیں کر سکتا۔

دوسری طرف ہم پاکستانی ایک طویل عرصے سے اس سوال کے گورکھ دھندے میں گرفتار ہیں کہ ملک کی باگ ڈور فوج کے ہاتھ میں ہو یا سویلین حکومت کے؟…… پاک افواج لاتعداد بار اعتراف کر چکی ہیں کہ وہ اپنی سویلین حکومت کے تابع ہیں لیکن نجانے سویلین حکومت کے کارپردازوں کو یہ وہم کیوں  ہے کہ ان کی من مانیوں پر کسی کو حرف گیری کی اجازت گناہ ہے۔ ان کی جمہوریت یہی ہے کہ ان کی آل اولاد ان کے بعد حکومت کی باگ ڈور سنبھالے۔ کیا اس طرح کی جمہوریت یورپ اور امریکہ میں بھی ہے؟……

ان ممالک میں فوج اپنا کام کرتی ہے اور دوسرے جمہوری ادارے اپنا کام کرتے ہیں۔ حضرت اقبال نے اس صورتِ حال کو ایک ’بہشت‘ قرار دیا اور فرمایا ہے:

بہشت آبخا کہ آزارے نباشد

کسے را با کسے کارے نباشد

(بہشت اس کو کہا جاتا ہے کہ جہاں کوئی غم اور کوئی فکر نہ ہو اور کسی ایک طبقے کو دوسرے طبقے سے کوئی سروکار نہ ہو!)۔ لیکن ہمارے ہاں جمہوریت کا مطلب، مطلق العنانی لیا جاتا ہے…… شاید ہمیں بھی یورپ کی طرح کی دو عظیم اور خونریز جنگوں کی ضرورت ہے جن میں کروڑوں افراد مارے گئے اور کروڑوں زخمی ہو گئے، تب جا کر معاشرے کو ہوش آیا کہ خاندانی، نسبی اور شخصی حکومت، جمہوری حکومت نہیں ہوتی، وہی پرانی خاندانی وراثت اور بادشاہت ہوتی ہے۔

معذرت خواہ ہوں کہ دفاع سے بات نکلی تو شخصی حکومت اور طرزِ جمہوریت تک چلی گئی۔ مغربی عوام داخلی سیاسیات سے ہی نہیں، خارجی سیاسیات سے بھی لاتعلق ہو چکے ہیں۔ ان کو اپنے کام سے کام ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ ہر چار پانچ برس بعد الیکشن ہو جائیں گے اور موجودہ حکومت تبدیل ہو جائے گی۔حکومت کے عمّال اور عہدیدار اپنا تخت و تاج نہیں بچائیں گے، اپنی آل اولاد کا تحفظ نہیں کریں گے، اپنے عزیز و اقربا کی فکر ان کی دامنگیر نہیں ہو گی اور وہ جوکچھ بھی کریں گے، قوم اور وطن کے لئے کریں گے…… ذرا ذہن پر زور دے کر بتائیں، برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی، روس یا ناٹو ممالک میں سے کسی ایک ملک کی بھی کوئی سیاسی شخصیت پاکستان میں آکر اپنے ملک کے اداروں کو نشانے پر رکھتی ہے؟ کیا کسی کی جرات ہے کہ وہ اپنی دفاعی فورسز کو بدنام کرے اور اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کی راہ میں ان کے کردار کو بیچ میں لا کر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنائے؟…… یہ ہم پاکستانی ہی ایسے شیر دلیر ہیں کہ صبح و شام و شب اسی بحث میں الجھے رہتے ہیں کہ تین بار کا وزیراعظم کرپٹ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہمارا دشمن نمبر ایک چِلّا چِلّا کر کہہ رہا ہے کہ پاکستان کی فوج اس کی اصلی قوت ہے، عوام نہیں۔ فوج کو ٹارگٹ کرو، باقی راکھ کا ڈھیر ہے،کچا گھروندا ہے اور نقش برآب ہے!…… ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ محض ڈھکوسلا ہے!!!

فضائی قوت کے ارتقائی مراحل کا ذکر ہو رہا تھا۔ دوسرے لفظوں میں پاک فوج کی اس کششِ ثقل کا بیان ہو رہا تھا جس کو ہندو بنیا نشانے پر رکھنے کا پروگرام رکھتا ہے۔ اس فضائیہ کا آخری مرحلہ ڈرون کی شکل میں سامنے آ چکا ہے۔ اس ڈرون کی امکانی قوت کہاں تک ہے، اس کا ذکر انشاء اللہ کسی اور کالم میں ……!!

مزید :

رائے -کالم -