پنجاب کی سب سے بڑی روزگار سکیم کا آغاز

 پنجاب کی سب سے بڑی روزگار سکیم کا آغاز

  

30 ارب روپے سے زائد کے قرضے آسان شرائط پر دیئے جائیں گے، 2 سال سے 5 سال میں واپسی ہوگی 

اس سکیم سے 16 لاکھ سے زائد لوگوں کو روزگار ملے گا،20 سے 50 سال تک کے مرد، خواتین، خواجہ سراء اور خصوصی افراد مستفید ہوسکیں گے 

پنجاب احساس پروگرام کے تحت  53 ارب روپے سے نئی زندگی اور ہیومن کیپٹل انسومنٹ پروجیکٹ کا آغاز 

نئی زندگی کے تحت تیز اب گردی کے شکار افراد کا سرکاری خرچے پر مکمل علاج ہوگا،بحالی روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے 

لاہور کی ثقافتی و سیاحتی سرگرمیوں کو بحال کرنے کا اعلان

ریلوے اسٹیشن سے بادشاہی مسجد تک اوورہیڈ برج تعمیر کیا جائے گا، زمانی مسجد اور رم مارکیٹ کی تاریخی شکل بحال کی جائے گی

لنگرخانوں کا دائرہ کار پنجاب کے دیگر شہروں تک بڑھایا جائے گا، پنجاب پناہ گاہ اتھارٹی جلد وجود میں آئے گی

 تحریر:- جاوید یونس

اپنے انتخابی منشور اور پالیسی کے مطابق ملک بھر میں تحریک انصاف کی حکومت نے بے روزگاری کے خاتمے، بے بس طبقے کی حفاظت، بے سہارا افرا دکو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور ہنر مند پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے جددجہد کا آغاز کردیاہے -وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطابات میں درد مندی کے ساتھ ہمیشہ عام آدمی کی مشکلات کا ذکر کیا ہے - سرکاری سطح پر بے روزگاری کے خاتمے اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھانے کو اپنی حکومت کی بنیادی پالیسی قرار دیاہے -اسی پس منظر میں سب سے بڑے صوبے پنجاب میں وزیراعلی سردار عثمان بزدار نے چاروں صوبوں میں سب سے پہلے اس سمت عملی اقدامات کئے ہیں - ایک اسلامی ملک میں جہاں حکمران جماعت کی قیادت ریاست مدینہ کے خاکے کو اپنی منزل سمجھتی ہو کیلئے ضروری ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے فرمودات کو پیش نظر رکھ کر عملی اقدامات اٹھائے جائیں -آپ ﷺ نے ایک سے زیادہ مرتبہ محنت کی عظمت اور اہمیت بیان فرمائی ہے - مانگ کر کھانے کی بجائے محنت کے کرکے جینے کو اصلی زندگی قرار دیا- آپ  ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص دن بھر محنت کرکے حلال روزی کماکر گھر واپس لوٹتا ہے تو اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں - آپ نے فرمایا”محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے“ ایک روز ایک صحافی ؓ آپ ﷺ کے پاس حاضرہوئے کہ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں اور کئی روز سے فاقہ ہے - آپ ﷺ نے فرمایاکہ گھر میں کیاہے؟ تو اس صحابی نے کہاکہ گھر میں ایک پیالہ ہے تو آپ ﷺ نے فرمایاکہ اس کو لے آؤ اور وہاں پر موجود دیگر صحابہ کرام سے کہاکہ اس کو کون خریدے گا - ایک صحابی نے اس کی قیمت دو درہم لگائی - آپ ﷺنے اس صحابی سے کہاکہ ایک درہم سے اپنے گھر والوں کیلئے کھانے پینے کی اشیاء لے جاؤاور دوسرے درہم کا کلہاڑاخرید لاؤ اس کلہاڑے سے جنگل میں جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کر اپنا کام چلاؤ- اس واقعہ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ مانگنے کی بجائے محنت مزدوری کرکے حلال رزق حاصل کرنا عین عبادت ہے-حضور پاک کے انہی فرمودات نے ریاست مدینہ کو اقوام عالم میں ایک مثالی ریاست بنادیا - آج پوری دنیا میں انہی فرمودات کی روشنی سے مختلف قوانین بنائے گئے اور ان پر عمل ہورہاہے -

 پنجاب میں وزیراعلی سردار عثمان بزداربھی انہی اصولوں کو مد نظررکھتے ہوئے پنجاب میں بے روزگار افراد کو روزگارکی فراہمی کیلئے 30 ارب روپے سے زائد صوبے کی تاریخ کی سب سے بڑی روزگار سکیم کا آغاز کیاہے -اس سکیم سے 16 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے اور آسان شرائط پر ایک لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک کے قرضے دیئے جائیں گے -جبکہ قرضے کی واپسی 2 سال سے 5 سال تک ہوگی -یونیورسٹی گریجوایٹ اور کاروباری مہارت کے حامل،ٹیکنیکل،ووکیشنل تربیت کے ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ ہولڈرقرضہ کیلئے درخواست دے سکتے ہیں -اسی طرح دست کار او رہنر مند او رموجودہ کاروبار کو وسعت دینے کے خواہش مند بھی قرضہ لے سکتے ہیں -اس سکیم سے 20 سے 50سال تک کے مرد، خواتین، خواجہ سراء اور خصوصی افراد قرضہ لے سکتے ہیں -کروناسے متاثرہ افراد کوکاروبارکے لئے قرضہ ترجیجی بنیادوں پر دیاجائے گا - نوجوان پی ایس آئی سی بینک آف پنجاب کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن درخواست فارم جمع کراسکیں گے -درخواست گذارپنجاب روزگار ایپ کے ذریعے بھی اپلائی کرسکتے ہیں - وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے روزگار کی فراہمی کے وعدوں کی تکمیل کیلئے عملی اقدامات شروع کردیئے ہیں - روزگار سکیم کے ذریعے لاکھوں نوجوان معاشی طور پر خود مختار ہوں گے اور دوسروں کو بھی روزگار فراہم کرنے کے قابل ہوں گے - وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے تحت پنجاب روزگار سکیم کے اجراء کا مقصد پڑھے لکھے اور ہنرمند نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر قرضے فراہم کرنا ہے - چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے مالکان اپنے کاروبار کو وسیع کرسکیں گے - انہوں نے کہاکہ کہ پنجاب روزگار سکیم کے ذریعے ٹیکسٹائل کے 26 سب سکیٹر ز سمیت 23 مختلف شعبوں کے 339 سب سیکٹرز کیلئے کاروبار، تجارت اور مینوفیکچرنگ کیلئے چھوٹے قرضے دیئے جائیں گے -ان قرضوں سے خاص طور پر کاٹیج انڈسٹری کو فروغ ملے گا - وزیراعلی نے کہاکہ پنجاب روزگار سکیم کے تحت قرضے کے اجراء کے عمل کو آسان سے آسان بنانے پر توجہ دی گئی ہے -پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ویژن نوجوانوں کو معاشی خود مختاری کی راہ پر گامزن کرنا ہے -انہو ں نے کہاکہ سب سے بڑا سرمایہ ہنر ہے اور ہم ہنر کو سرمایہ میں بدل رہے ہیں -صوبائی وزیر صنعت میاں اسلم اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے صنعتی عمل کو تیز کرنے کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں - وزیراعظم  پاکستان عمران خان کے ویژن اور وزیراعلی کی ہدایت پر کمزور طبقے کی بہتری کیلئے کام کررہے ہیں او رروزگار سکیم ایک گیم چینجرثابت ہوگی -جس سے عام آدمی کے حالات بدلیں گے اور وہ معاشی طور پر مضبوط ہوگا -

 پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے زیر اہتمام پنجاب احساس پروگرام کے تحت صوبے میں سوا 53ارب روپے کے ”نئی زندگی“اور”ہیومن کیپٹل انوسٹمنٹ پراجیکٹ“ کاآغازکر دیا گیاہے، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب احساس پروگرام کے تحت ”نئی زندگی“ اور”پنجاب ہیومن کیپٹل انوسٹمنٹ پراجیکٹ“کا اجراء بے حد اہمیت کاحامل ہے اورپنجاب احساس پروگرام ریاست مدینہ کے خواب کی عملی تعبیر کیلئے پہلا قدم ہے-احساس ہی انسانیت ہے اور انسانیت ہمیں ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست کے قیام کی ضرورت کااحساس دلاتی ہے جہاں ہر فرد کو بلاامتیاز تمام ترسہولیات میسر ہوں اورنادار،مظلوم اورمستحق طبقے کی دادرسی ہو-فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دینے کے لئے آج پنجاب احساس پروگرام کا اجراء کیا ہے- ماضی میں جائز حقوق سے محروم طبقات کے احساسات کومجروح اورضروریات کونظرانداز کیا جاتارہا۔محروم طبقات کے مساوی حقوق اورضروریات کی ادائیگی اور معاشرے میں ان کی سربلندی کا وقت آگیا ہے-”نئی زندگی“پروگرام کے تحت تیزاب گردی کاشکار مردو خواتین کا علاج اور بحالی شامل ہے-  تیزاب گردی کے شکارافرادکے سماجی حقوق کا تحفظ کیاجائے گا اورانہیں باوقار زندگی کے مواقع فراہم کئے جائیں گے- تیزاب سے متاثرہ خواتین و مرد کا سرکاری خرچ پر مکمل علاج کرایا جائے گا- لاہور کے جناح اور میوہسپتال،بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال،ملتان نشترہسپتال،فیصل آباد الائیڈ ہسپتال اورراولپنڈی ہولی فیملی ہسپتال میں جدید ترین برن یونٹ قائم ہو چکے ہیں -متاثرہ افراد کے لئے ہنر مندی اور خودروزگارکیلئے بلاسود قرضوں کا اہتمام کیا جائے گا-

 تیزاب گردی کا شکارہونے والے افراد مکمل طور پر ریاست کی ذمہ داری ہوں گے او رحکومت ان کا مکمل علاج کرائے گی-ابتدائی طورپر نئی زندگی پروگرام کیلئے 20کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں - پنجاب ہیومن کیپٹل انوسٹمنٹ پراجیکٹ اپنی نوعیت کا بہترین اورمنفرد منصوبہ ہے- پنجاب کے 11پسماندہ اضلاع میں عوام کو صحت اور تعلیم کی بہترین سہولتیں اور معاشی ترقی کے مواقع دیئے جائیں - پہلے مرحلے میں مظفرگڑھ اور بہاولپور، دوسرے مرحلے میں راجن پور، ڈی جی خان، رحیم یار خان، بھکر اور میانوالی میں پراجیکٹ شروع ہو گا- تیسرے مرحلے میں بہاولنگر، لودھراں، لیہ اور خوشاب میں ہیومن کیپٹل انوسٹمنٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا جائے گا- پنجاب میں 166بنیاد ی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن کی جائے گی-17 بنیادی مراکزصحت کوبی ایچ یو پلس اپ گریڈکیاجائے گا-OTPS166مراکزقائم ہوں گے- مراکز صحت میں 24 گھنٹے ہیلتھ سروسز کیلئے 1148 اضافی سٹاف ممبرزتعینات ہوں گے- 669مراکز صحت میں الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈEMR شروع کیاجائے گا-5 لاکھ 64 ہزار افراد کے لئے مشروط کیش ٹرانسفر پروگرام کا آغاز کیا جارہاہے -انہوں نے کہاکہ نادار خواتین کو بچوں کے پیدائش کے دو سال بعد تک 16 ہزار روپے مالی امداد دی جائے گی-پنجاب کے 9 اضلاع میں ویسٹ مینجمنٹ سسٹم لائیں گے- ہیومن کیپٹل انوسٹمنٹ پراجیکٹ کے تحت غریب اور نادار خاندانوں کے معاشی مسائل حل کرنے پر بھی توجہ دی گئی ہے- 

والدین اور بالغ بچوں کو روزگار کے لئے پیداواری اثاثے، چھوٹے قرضے اور معاونت اور رہنمائی کی جائے گی اور اس اقدام سے 75 ہزار سے زائد نوجوان اپنی روزی کمانے کے قابل ہو جائیں گے-Early Child Hood Education کے تحت صوبہ بھر کے 3400 سکولوں کے کلاس روم کو اپ گریڈ کیا جائے گا- 2800 ہیڈ ٹیچرز کو لیڈر شپ کی بھی ٹریننگ دی جائے گی- اساتذہ کو چھوٹے بچوں کو پڑھانے کے لئے خصوصی طور پر ٹرینڈ کیا جائے گااور ان بچوں میں مطالعہ کی عادت پختہ کرنے کے لئے ریڈنگ کارنر بھی قائم کئے جائیں گے -Early Child Hood Educationسے ایک لاکھ سے زائد طلبہ مستفید ہوں گے-

 وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہااگلے تین سال میں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے نئے پراجیکٹ متعارف کرائے جائیں گے اور ہم عوام کے حاکم نہیں، خدمت گار ہیں -مجھے یقین ہے کہ برسوں سے پسماندگی کے شکار عوام کی حالت اب ضرور بدلے گی اور لوگوں کے چہروں پر خوشیاں ضرور آئیں گی- پنجاب پہلا صوبہ ہے جہاں پر سوشل پروٹیکشن کیلئے اربو ں روپے کا پراجیکٹ شروع کیاگیاہے-تحریک انصاف کی حکومت کا منشور لوگوں پر سرمایہ کاری کرناہے اور آج پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام کا آغاز ہواہے-باہمت بزرگ پروگرام کے تحت 65برس سے زائد عمر کے مرد وخواتین او رخواجہ سراؤں کو مالی امداد دی جائے گی-ہم قدم پروگرام کے تحت معذور افراد کو مالی امداد اور قرضے فراہم کئے جائیں گے-ہم معذور افراد کو تربیت بھی دیں گے-صلہ فن پروگرام کے تحت نادار فنکاروں کی مالی معاونت کی جا رہی ہے جبکہ مساوات پروگرام کے تحت خواجہ سراؤں کو ماہانہ وظیفہ دیاجائے گا-اسی طرح خراج شہداء پروگرام کے تحت دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے سویلین افراد کے خاندانوں کی دیکھ بھال کی جائے گی او ران کے بچوں کو مالی امداد دیں گے جبکہ نئی زندگی پروگرام تیزاب گردی کا شکار افراد کے علاج معالجے او ربحالی کے لئے شروع کیا گیاہے او راس پروگرام میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر پاکستان بھر سے تیزاب گردی کے شکار افراد کو شامل کیا گیا ہے- یہ صرف پنجاب کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا پروگرام ہے-انہوں نے کہاکہ یہ ابھی ابتداء ہے انشاء اللہ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی سماجی تحفظ کیلئے مزید پروگرام بھی لانچ کرے گی-وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے نئی زندگی پروگرام کے تحت پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی جانب سے 20کروڑ روپے مالیت کا چیک سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کو دیا جبکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے تیزاب گردی کا شکار مردوخواتین کو نئی زندگی پروگرام کے تحت علاج معالجہ اور بحالی کے لئے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بھی دئیے-

 وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور کے علاقے شاہ جمال میں لنگر خانے کا افتتاح کیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور کھانے کا معیار چیک کیا۔وزیراعلیٰ نے کھانے کے دوران لنگر خانے میں موجود مزدوروں سے کھانے کے معیار کے بارے پوچھا جس پر مزدوروں نے کھانے کے معیار کی تعریف کی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے لاہور میں مزید 11 لنگر خانے کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پناہ گاہوں کے باہر بھی نادار اور غریب افراد کیلئے لنگرخانے کھولنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ لاہور میں مزید پناہ گاہیں بھی قائم کر رہے ہیں اور لنگر خانے بھی بنا رہے ہیں۔ نادار لوگو ں کو قیام و طعام کی سہولتیں فراہم کرکے اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔ لنگر خانوں میں نادار افراد کو معیاری کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں 7 لنگر خانوں میں 48 ہزار افراد کو کھانا فراہم کیا گیا ہے۔ لنگر خانوں کا دائرہ کار پنجاب کے دیگر شہروں تک بڑھایا جائے گا۔ پنجاب پناہ گاہ اتھارٹی جلد وجود میں آئے گی۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں فلاحی ریاست کے خواب کو حقیقت میں بدلیں گے۔ نادار، بے آسرا اور غریب لوگوں کا خیال رکھنا بہت بڑی نیکی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی نیک کام میں برکت ڈالتا ہے۔ سابق حکومتوں نے کبھی کمزور طبقے کی فلاح کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ غریب اور بے سہارا افراد معاشرے کی خصوصی توجہ کے طالب ہیں۔ کھانا کھلانا سنت نبویؐ بھی ہے اور ہماری روایات میں بھی شامل ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بے آسرا طبقے کا سہارا بنی ہے۔

 لاہور زندہ دلان لوگوں کا شہر ہے جو شروع سے ثقافتی سرگرمیوں اور میلوں، ٹھیلوں کا مرکز رہاہے -رت بدلنے کے ساتھ ہی لاہور کے مکین مختلف انداز میں اپنی خوشی کا اظہار کرتے  شام کے وقت بچے،جوان، بوڑھے پارکوں اور باغوں میں جاکر تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیتے جس آپس میں پیار محنت کے جذبات پروان چڑھتے - مگر وقت کے ساتھ یہ چیزیں ناپید ہوتی چلی گئیں - پارکوں اور باغوں پر قبضہ گروپوں نے قبضہ کرلیا اور ہر شخص مادیت کے چنگل میں دھنستا چلا گیا - وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور شہر کی ثقافتی و سیاحتی سرگرمیوں کو بحال کرنے کا اعلان کیاہے - ریلوے اسٹیشن سے بادشاہی مسجد تک اوور ہیڈ برج بنانے کی اصولی منظوری دینے کے علاوہ سیاحوں کی دل چسپی کیلئے سٹریٹ اور نائٹ ٹورازم متعاف کرانے کا فیصلہ کیاگیاہے - وزیراعلی نے کہاکہ تاریخی عمارتوں اور آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے کیلئے بفرزون قائم کئے جائیں گے - شہریوں کی اربن سپیس بحال کی جائے گی اور Set Out کیلئے تعمیر کئے جائیں گے - شہری یورپ کی طرز پر فٹ پاتھ یا سڑک کے کنارے کرسیوں پر بیٹھ کرکھانے سے لطف اندوز ہوں گے -مال روڈ پر مخصوص ڈائزین کی ریڑھیاں لگائی جائیں گی - مریم زمانی مسجد کو تاریخی حالت  میں بحال کیاجائے گا اور  رم مارکیٹ کودوسری جگہ منتقل کرکے تاریخی شکل بحال کی جائے گی-وزیراعلی پنجاب نے لاہور میں ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے جو اعلان کیاہے وہ ایک قابل ستائش اقدام ہے، مگر اس کیلئے خلوص نیت سے کام کرنے کی ضرورت ہے -کیونکہ جگہ جگہ تجاوزات قائم ہوچکی ہیں اور یہ لوگ اتنے بااثر ہوگئے ہیں کہ جب بھی تجاوزات کو گرانے کی بات کی جاتی ہے تو بااثر لو گ ان کی پشت پر کھڑا ہوتے ہیں جس سے یہ مہم ختم ہوجاتی ہے -اس کے علاوہ شہر بھر میں  جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ہیں -مگر ان کو اٹھانے والا کوئی نہیں -آج سے تیس سال قبل کارپوریشن کے لوگ صبح و شام دو وقت سڑکوں کی صفائی کرتے تھے اس کے ساتھ عوام میں بھی صفائی سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے - عوام کو اس معاملے میں حکومت کا بھر پور ساتھ دینا ہوگا تاکہ لاہور کو پھر اسی حالت میں بحال کیاجاسکے - بھارت، انڈونیشیا، جاپان، ترکی اور ہانگ کانگ جیسے ملکوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں -انہو ں نے اپنے اپنے تاریخی شہروں میں ٹورازم کو فروغ دیا اور وہ اس سے کثیر زرمبادلہ کمارہے ہیں -اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت پنجاب ٹورازم کے فروغ کیلئے جامع اقدامات کررہی ہے - وزیراعلی عثمان بزدار نے سیاحت کے عالمی دن پر ٹوارزم ایپ کا افتتاح کیا - اس ایپ کے ذریعے سیاحوں کو پنجاب کے 511 سیاحتی مقامات کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں ہیں جس کے ذریعے سیاحتی مقامات کا نہ صرف روٹ بھی معلوم ہوسکے گا بلکہ آن لائن ہوٹلوں کی بکنگ بھی ہوسکے گی -

 حکومت پنجاب کی طرف سے 30 ارب روپے کی خطیر رقم سے پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی شروع کی گئی پنجاب روز گار سکیم ایک احسن قدم ہے - جس سے بے روزگار نوجوانو ں کو آسان شرائط پر ایک لاکھ سے ایک کروڑ روپے کے قرضے دیئے جائیں گے - پڑھے لکھے او رہنرمند نوجوان بے روزگار پھر رہے ہیں - اس سے وہ قرض لے کر اپنا کاروبار شروع کرسکتے ہیں -جس سے وہ نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکیں گے بلکہ وہ ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کے قابل ہوجائیں گے -مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ حق دار کو بغیر کسی سفارش کے قرضہ مل سکے - ماضی میں اس طرح کی کئی سکیمیں شروع کی گئیں مگر وہ سیاسی مصلحت اور پسند و ناپسند کا شکار ہوگئیں -جس کے منفی اثرات مرتب ہوئے - اس سکیم کے اجراء سے وزیراعظم پاکستان عمران خا ن کے خواب کو عملی تعبیر ملے گی او رنوجوان طبقہ کو باعزت روزگار مواقع دستیاب ہوں گے -

٭٭٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -