ڈرامہ’بیٹی رانی‘نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے

  ڈرامہ’بیٹی رانی‘نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے

  

لاہور(فلم رپورٹر)سٹیج ڈراموں کے معروف رائٹر و ڈائریکٹر زاہد شاہ کے اصلاحی و مزاحیہ ڈرامے بیٹی رانی نے لوگوں کے دل جیت لئے، کھڑکی توڑ رش ہونے کی وجہ سے درجنوں لوگ آرٹس کونسل کے باہر، ہاؤس فل ہونے کی وجہ سے اندر نہ آسکے، شائقین ڈرامہ بیٹی رانی دیکھنے کے لئے تھیڑ کے باہراپنی بار ی کا انتظار کرتے رہے، سٹیج ڈرامے بیٹی رانی کی شاندار کامیابی پر معروف رائٹر و ڈائریکٹر زاہد شاہ نے کہا کہ میں بہت خوش ہوں کسی بھی ڈائریکٹر و رائٹر کے لئے اس کے ڈرامے کی کامیابی سے بڑھ کر خوشی کی بات کوئی نہیں ہوتی، ڈرامے کی کاسٹ نے بھرپور محنت کی، انہوں نے کہا کہ ایک لمبے عرصے کے بعد سٹیج کی رونقیں بحال ہوئی ہیں جس کا سہرہ صدر آرٹس کونسل احمد شاہ کے سر جاتا ہے، آج عوام کے چہروں پر بھی خوشیاں ہیں اور فنکار بھی خوش ہیں یہ احمد شاہ کی کوششوں اور محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آرٹس کونسل کی روشنیاں دوبارہ سے بحا ل ہوئیں، شہر قائد کی عوام ان کی بہت حد مشکور ہے،، عوام کے چہروں پر خوشی دیکھ کر بہت اچھا محسوس ہوتا ہے اور شکر اداکرتے ہیں اللہ کا جس نے ہمیں عوام کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کے موقع دیا۔

، ڈرامے کی کاسٹ زاہد شاہ، ہنی خان، امجد رانا، شامیر راہی، نعیم کمال، کمال ادریس، بلو ظریف، سنی گوندا، یوسف پٹھان، سرفراز انصاری، جہانگیر خان، گڈو چھوٹو، راشد فاطمی، حسین سچوانی،اکرم صنم، حذیفہ شاہ، صائمہ کنول، مہوش صدیقی، سپنا غزل، فائزہ ملک، سحر غزل، صنوبر چھوٹی، فرح باجو، احمد شکیل، مقصود عالم، سید تنویر، نعیم بیگ سمیت تمام فنکاروں نے بھرپور انداز میں اپنے اپنے کردار کے ساتھ انصاف کیا اور لجوئی اور لگن کے ساتھ ڈوب کر ایکٹنگ کی، انہوں نے کہا کہ اسٹیج ڈرامے کی ترقی اور بقا کے لیئے محنت کر رہا ہوں دلی خواہش ہے کہ اسٹیج سے شوبز کو اچھے اور نئے چہر ے ملیں جو فن کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں، ڈرامہ بیٹی رانی نے میرے ہی گزشتہ ڈراموں کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، ڈرامے کی شاندار کامیابی پر بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے، بیٹی رانی میں معاشرے کے مسائل اور ایک عام انسان کی زندگی میں جو پریشانیاں ہوتی ہیں ان کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے تا کہ لوگوں کی اصلاح بھی ہو اگر ہمارے ڈرامہ دیکھنے کے بعد کوئی ایک یا دو لوگ بھی اپنے اصلاح کر لیتے ہیں تو ہم سمجھیں گے کہ ہماری محنت ضائع نہیں ہوئی کیونکہ جس نے ایک انسان کے ساتھ بھلائی اور نیکی کی گویا اس نے پوری انسانیت کے ساتھ بھلائی کی۔ 

مزید :

کلچر -