پی آئی ایل ایل کا ’امراض قلب‘ کے حوالے سے ورکشاپ کا انعقاد

  پی آئی ایل ایل کا ’امراض قلب‘ کے حوالے سے ورکشاپ کا انعقاد

  

کراچی (پ ر)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ(PILL) نے گلاسگو یونیورسٹی مانچسٹر اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیوویسکولر ڈیزیز(پاکستان) کے ساتھ مل کر حال ہی میں ”امراض قلب کے عالمی دن“ کے حوالے سے ایک ورچوئل ایونٹ کا اہتمام کیا جس میں پاکستان، بنگلہ ددیش اور برطانیہ سے بڑی تعدادسامعین نے شرکت کی جن میں طبی ماہرین، جنرل پریکٹشنرز، سائیکٹرسٹس، سائیکالوجسٹس، مریضوں، مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے اور عام افراد شامل تھے۔ ورلڈ ہیلتھ فیڈریشن کی جانب سے ہر سال امراض قلب کا عالمی دن 29ستمبر کو منایا جاتا ہے تاکہ عوام میں دل کی بیماریوں سے متعلق شعور اجاگر کیا جاسکے اور اس بیماری کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق امراض قلب دنیا میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے جس سے سالانہ تقریبا ایک کروڑ79لاکھ افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جن میں سے 85% اموات کم اور درمیانی آمدنی والے ملکوں (LAMICs)میں واقعہ ہوتی ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر عمران چوہدری، اعزازی پروفیسر آف ایڈلٹ سائیکیٹری، یونیورسٹی آف مانچسٹر اور پروفیسر اور چیئرمین ضیاالدین گروپ آف ہاسپیٹلز کے شعبہ نفسیات  نے سامعین کو خوش آمدید کہااور امراض قلب کے عالمی دن کی اہمیت اور ریسرچ گروپ کی جانب سے دل کا دورہ پڑنے کے وسیع مطالعہ کا جامع خلاصہ پیش کیا۔انہوں نے دل کو صحت مند رکھنے کے حوالے سے اور کوویڈ19کی حالیہ وباء کے دوران  جہاں ہر فرد کی طبی خدمات تک پہنچ محدود ہو چکی ہے،چند اہم اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پروفیسر زینب زادہ، پروفیشنل سائنٹسٹ اور شعبہ دماغی صحت برائے اطفال و بالغان کے ڈویژن کی سربراہ،پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ  نے دماغی مسائل خاص طور پرامراض قلب میں ڈیپریشن اور اینگزائٹی کے حوالے سے بات کی۔انہوں نے کم اور درمیانی آمدنی والے ملکوں میں امراض قلب  کے لئے طبی امداد تک رسائی میں حائل مشکلات اور رکاوٹوں کے بارے میں بھی بتایا۔

انہوں نے ایسے افراد پر زور دیا جو کسی ایک یا دوسرے عوامل جیسے بلند فشار خون، ذیابیطس یا دیگر پیچیدہ بیماریوں کی وجہ سے امراض قلب کے خطرے سے دوچار ہیں کہ وہ صحت مند طرز زندگی اپنائیں اور جلد از جلد ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیوویسکولر ڈیزیز میں شعبہ امراض قلب کے پروفیسر طاہر صغیر نے دل کی بیماریوں کی موجودگی، ان کے اثرات، دیہی آبادی میں آگہی اور علاج میں تاخیر جیسے امور پر بحث کی جو کہ پاکستان میں تشویش کا سبب ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ذہنی دباؤ کو کم کرنے، صحت مند غذا کو فرو غ دینے  اورتمباکو نوشی اور نشے کی لعنت سے بچنے کے لئے عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام الناس میں شعور بیدار کریں۔پروفیسر آف فزیکل میڈیسن اینڈ ریہیبلیٹیشن، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، پروفیسر نبیلہ سومرو نے دل کو تندرست رکھنے اور دل کے مریضوں کے لئے ورزش کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

بنگلہ دیش یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزمیں شعبہ غیر متعدی امراض کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر متھیلا فاروقی نے بنگلہ دیشن میں امراض قلب کی موجودگی اور خطرناک عوامل کے بارے میں بات کی۔یونیورسٹی آف گلاسگو کے پروفیسر برائے پاپولیشن ہیلتھ ریسرچ پروفیسر راڈ ٹیلر نے نہایت ہی اہم ترین مجوزہ ریسرچ پروگرام کا سنگ بنیاد رکھنے کے حوالے سے بات کی جس کا عنوان ہے؛"Affordable Cardiac Rehabilitation:: An Outreach Inter-disciplinary Strategic Study"اس ریسرچ پروجیکٹ کے تحت عوامی شمولیت کے کام کی معاونتNIHR-RIGHT call-3 بنگلہ دیش، پاکستان اور انڈیا نے کی جس میں کمیونٹی کی سطح پر امراض قلب کی بحالی، ڈیپریشن اور اینگزائٹی کی صورت میں مدد بھی شامل ہے جو کہ دل کے مریضوں میں بہت عام بیماریاں ہیں۔اس سیشن  کے اختتام  پرپروفیسر نصرت حسین، پروفیسر آف سائیکیٹری اینڈ ڈائریکٹر ریسرچ فار گلوبل مینٹل ہیلتھ، یونیورسٹی آف مانچسٹر اور کنسلٹنٹ سائیکٹرسٹ، لنکا شائر اور ساؤتھ کمبریا، این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ نے سامعین کو دل کی بیماریوں سے بچاؤ اور خود انتظامی کے بارے میں بتایا۔پروفیسر نصرت حسین نے جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند قوم کی تشکیل کے لئے ورزش، صحت مند غذا اورمتوازن خوراک کی ضرورت پر زور دیا۔

مجوعی مباحثے کے اختتام پر سوال و جوا ب کا ایک سیشن ہواجہاں پر سامعین نے دل کی بیماریوں اور ذہنی صحت کے حوالے سے کئی سوالات پوچھے جن کا مفصل جواب ماہرین کے پینل نے دیا۔

مزید :

کامرس -