درجہ چہارم ملازمین تنخواہوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا نوٹس

  درجہ چہارم ملازمین تنخواہوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا نوٹس

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے روبرو سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب اور چیئرمین لاہور تعلیمی بورڈ نے درجہ چہارم کے 6ملازمین کی تنخواہوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پرڈال دی،جس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مسٹر جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے دونوں افسروں کو خبردارکیا کہ آپ لوگ فیصلہ کرلیں ورنہ عدالت اپنا حکم جاری کرے گی، اگر سیکرٹری اور چیئرمین تعلیمی بورڈمعاملہ حل نہیں کرتے تو عدالت میں پیش ہوکر وضاحت بھی دینا ہوگی کہ عدالتی حکم کے باوجود ان ملازمین کی تنخواہیں کیوں روکی گئی ہیں؟فاضل جج نے قراردیا کہ انسانی ہمدردی کے پیش نظرکنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں نہیں روکی جانی چاہیے تھیں،ایک سال سے ان لوگوں کو تنخواہیں نہیں ملیں وہ کیسے گزارہ کرتے ہوں گے،عدالت نے مذکورہ حکم کے ساتھ کیس کی مزید سماعت15اکتوبر پر ملتوی کردی،سرفراز سمیت درجہ چہارم کے 6ملازمین کا موقف ہے کہ وہ لاہورتعلیمی بورڈ میں کنٹریکٹ پر درجہ چہارم کے ملازم ہیں، ایک سال سے تعلیمی بورڈ لاہور انتظامیہ نے تنخواہیں روک رکھی ہیں جبکہ اس بابت عدالتی حکم امتناعی بھی موجود ہے،ہائیکورٹ نے انہیں مستقل کرنے کے حوالے سے بھی حکم جاری کررکھاہے انہیں مستقل کیا جارہاہے اورنہ ہی تنخواہیں دی جارہی ہیں،گزشتہ روز لاہورتعلیمی بورڈ کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سرفراز سمیت درجہ چہارم کے یہ چھ ملازمین سیکرٹری آفس میں کام کرتے ہیں،ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، سیکرٹری ایجوکیشن کے کہنے پر ان ملازمین کو تنخواہ دی گئی تھیں اگر سیکرٹری تحریری آرڈر کردیں تو تنخواہیں ادا کردیں گے، دوسری طرف سیکرٹری ایجوکیشن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزارلاہور تعلیمی بورڈ کے ملازمین ہیں، انہیں تنخواہوں کی ادائیگی بھی تعلیمی بورڈ ہی کرتا تھا، اب اس کیس کی مزید سماعت15اکتوبر کو ہوگی۔

ذمہ داری 

مزید :

صفحہ آخر -