لاہورہائیکورٹ نے توہین مذہب کے ملزم ساون مسیح کو بری کردیا

  لاہورہائیکورٹ نے توہین مذہب کے ملزم ساون مسیح کو بری کردیا

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ نے توہین مذہب کے ملزم ساون مسیح کو بری کردیا،فاضل بنچ نے جوزف کالونی کے رہائشی ساون مسیح کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف دائراپیل پر یہ فیصلہ سنا یاہے،ملزم ساون مسیح کو سیشن کورٹ نے سزائے موت کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف ساون مسیح نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ سانحہ کے 35گھنٹوں کے بعدپولیس نے مقدمہ درج کیا گیا، ایف آئی آر کا تاخیرسے اندارج پولیس کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے،درج شدہ ایف آئی آر اور مدعی کے بیانات میں واضح تضادات موجود ہیں، ٹرائل کورٹ میں یکطرفہ کاروائی عمل میں لائی گئی اور اسکا موقف نہیں سنا گیا،ساون مسیح کے خلاف مارچ 2013 ء میں توہین مذہب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا،توہین مذہب کے اس واقع کی بنیاد پر8 مارچ 2013ء کی شام بادامی باغ کے قریب آبادی جوزف کالونی پر مشتعل ہجوم نے دھاوا بول دیا تھا،اس دوران 100 سے زیادہ مکانات اور دکانیں نذرِ آتش کی گئی تھیں،درخواست گزار کا موقف ہے کہ ٹرائل کورٹ نے ناکافی گواہوں اور ثبوتوں کے باوجود اسے سزائے موت کا حکم سنایا،استغاثہ کے وکیل نے اپیل کی مخالفت کی،فاضل بنچ نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ماتحت عدالت کی طرف سے اسے ملنے والی سزائے موت کا حکم کالعدم کردیا۔

ساون مسیح بری

مزید :

صفحہ آخر -