علی زیدی نے سندھ حکومت کا  جزائر حوالگی کا خط ٹویٹ کر دیا

     علی زیدی نے سندھ حکومت کا  جزائر حوالگی کا خط ٹویٹ کر دیا

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے سندھ حکومت کی جانب سے جزائرکی وفاق کو حوالگی کا خط سوشل میڈیا پر جاری کردیا۔ٹوئٹر پرعلی زیدی نے سندھ لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ کا خط اور پورٹ قاسم سے ملحقہ جزائر بنڈل اور بڈو کا نقشہ پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ علی زیدی کاکہنا ہے کہ جزائر کے حوالے سے کوئی غیرقانونی قدم نہیں اٹھایا گیا،سب دیکھ سکتے ہیں پیپلزپارٹی کی قیادت کتنی منافق ہے، سندھ حکومت نے بنڈل آئی لینڈ سے متعلق خط جولائی 2020ء کو جاری کیا تھا۔وفاقی وزیر بحری امور کا کہنا تھا یہ بات ریکارڈ پر رہے کہ یہ جزائر پورٹ قاسم اتھارٹی کے زیر انتظام آتے ہیں۔سندھ لینڈ یوٹیلائزیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی درخواست پرعوامی مفاد کیلئے جزیر ے کی حوالگی کررہے ہیں۔خط کے متن کے مطابق جزیرے پر تعمیرات میں مقامی افراد اور ماہی گیروں کے مفادات کو تحفظ دیا جائیگا۔علی زیدی کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا قوم کو بیوقوف بنانا بند کریں، وفاقی حکومت نے اجازت مانگی تو واضح رہے یہ جزائرپورٹ اتھارٹی کے زیر انتظام نہیں، مہربانی کرکے اس خط کو دوبارہ پڑھیں۔ کیا یہ سمجھنے کیلئے کافی نہیں کہ مقامی لوگوں کا جائز حق کیا ہے؟ برائے مہربانی ایمانداری سے کام لیں۔انہوں نے علی زیدی سے تین سوال کیے کہ اگر یہ زمین آپ کی تھی تو آپ نے ہم سے این او سی کیوں مانگا؟ ہمارے جواب میں یہ کہاں لکھا ہے ہم نے آپ کو زمین دیدی؟ اور آپ کو صرف مقامی لوگوں کے فائدے کیلئے تعمیرات کی اجازت ہے۔خیال رہے گذشتہ دنوں صدر مملکت کا جزائر سے متعلق 2 ستمبر 2020کو جاری کیا آرڈیننس سامنے آیا ہے جس کے بعد سے سندھ اور وفاق میں نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ا?رڈیننس 2020' کے مطابق 'ٹیریٹوریل واٹرز اینڈ میری ٹائم زونز ایکٹ 1976' کے زیر انتظام ساحلی علاقے وفاق کی ملکیت ہوں گے اور سندھ کے بنڈال اور بڈو سمیت تمام جزائر کی مالک وفاقی حکومت ہوگی جبکہ حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے ’پاکستا ن آئی لینڈز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی‘ قائم کرے گی جس کا ہیڈکوارٹرز کراچی میں ہوگاجبکہ علاقائی دفاتر دیگر مقامات پر قائم ہوسکیں گے۔آرڈیننس کے مطابق اتھارٹی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا قبضہ حاصل کرنے کی مجاز ہوگی اور آرڈیننس کے تحت اٹھائے گئے اقدام یا اتھارٹی کے فعل کی قانونی حیثیت پر کوئی عدالت یا ادارہ سوال نہیں کرسکے گا۔ آرڈیننس کے متن میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی غیر منقولہ جائیداد پر تمام لیویز، ٹیکس، ڈیوٹیاں، فیس اور ٹرانسفر چارجز لینے کی مجاز ہوگی۔آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ آرمی کے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کے مساوی حاضر یا ریٹائرڈ افسر بھی چیئرمین تعینات ہوسکے گا جبکہ چیئرمین کے عہدے کی مدت چار سال ہوگی جس میں ایک بار توسیع ہو سکے گی۔

علی زیدی ٹویٹ

مزید :

صفحہ اول -