وفاقی کابینہ، گیس مہنگی کرنے کی سمری مسترد، چینی ذخیرہ کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن کافیصلہ 

  وفاقی کابینہ، گیس مہنگی کرنے کی سمری مسترد، چینی ذخیرہ کرنیوالوں کیخلاف ...

  

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی۔ کابینہ اجلاس کے دوران  وزیراعظم کا گندم، چینی کی قیمتوں میں اضا فے پر تشویش کا اظہار کیا، کابینہ اراکین کاکہنا تھا کہ بجلی گیس کی قیمتوں میں کسی صورت اضافہ نہیں کرینگے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں گندم کی سرکاری  قیمت بڑھانے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے گندم بروقت درآمد نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے پر فوری عمل کیوں نہیں ہوا،وزیراعظم نے کہا کسانوں کو مراعات دی جائیں تاکہ گندم کی فصل زیا د ہ ہو، وزیراعظم نے تنبیہ کی کہ آئندہ ایسی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ وزیراعظم نے پی آئی اے ری اسٹرکچرنگ پلان آئندہ اجلاس تک ملتوی کردیا ،وفاقی کابینہ نے چینی کی قیمتیں بڑھانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کریک ڈاؤن فعال انداز میں ہوگا،ذخیرہ اندوزوں پر ہاتھ ڈالا جائیگا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 15 نکاتی ایجنڈے پر غور اور متعدد نکات کی منظوری دیدی گئی،اجلاس میں قومی ائیر لائین پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا،پی آئی اے کے سالانہ منافع اور نقصان کی رپورٹ وفاقی کابینہ میں پیش کی گئی۔ کابینہ کو بریفنگ دی گئی کہ کورونا کے باعث دنیا بھر کی ائیرلائنز نقصان میں گئیں۔ وزیر اعظم نے کہا پی آئی اے اصلاحات کے باعث بہتری کی جانب گامزن ہے۔ کابینہ میں مہنگائی کی شرح،ریلوے اور پی آئی کی بحالی سمیت اہم قومی معاملات پر غور کیا گیا۔ کابینہ ارکان نے ڈاکٹروقار مسعود کی معاون خصوصی ریونیو تقرری کا خیر مقدم کیا گیا۔کابینہ اجلاس میں مہنگائی میں کمی کیلئے حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا بتایاگیا حکومت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیر ریلوے نے ریلوے کی بحالی اور تعمیر نو کا پلان پیش کردیا۔اجلاس میں ریلوے کے ملازمین کی پنشن کا معاملہ وفاقی کابینہ کیاجلاس میں پیش کیا گیا۔بتایاگیاکراچی سرکلر ریلوے کی مکمل بحالی تین مراحل میں ہوگی۔  کابینہ کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) لیگ کے بیانیے پر مشاورت کی گئی اور اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک اور جلسوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کابینہ انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین کے سیکرٹری کی تقرری اور لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ایکٹ 2020 لاگو کرنے کی تاریخ کی منظوری دیگی۔ کابینہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے فیصلوں کی توثیق کریگی۔اجلاس کے کے بعد کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے واضح کیا کہ بغاوت کے مقدمے سے حکومت کا کچھ لینا دینا نہیں، ہوسکتا ہے ایف آئی آر (ن) لیگ کے اپنوں نے ہی درج کرائی ہو۔انہوں نے سوال اٹھایا کیا تھانوں میں کٹنے والے تمام پرچے عمران خان کے علم میں ہوتے ہیں؟ ہم نے غداری کے سرٹیفکیٹ نہیں دیئے۔ دشمن چاہتا ہے پاکستان کا لیبیا، عرا ق اور افغانستان جیسا حال ہو۔ دشمن کی زبان بولنے والا محب وطن کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک طرف نواز شریف جبکہ دوسری طرف عمران خان ہیں۔ نواز شریف نے کرپشن کی اور بیرون ملک اثاثے بنائے۔ وہ نہیں چاہیں گے ان کے اثاثے بیرون ملک سے آئیں۔ دوسری طرف عمران خان جس کو دباؤ میں لانا مشکل ہے۔ ان کے تمام اثاثے پاکستان میں ہیں۔ وہ کبھی کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ عمران خان نے کبھی نہیں کہا وہ واحد محب وطن ہیں۔ ملک میں کتنے مقدمات درج کیے جاتے ہیں، کیا ان کے علم میں لا کر کیے جاتے ہیں؟ ہو سکتا ہے مقدمہ ان کے اپنوں نے ہی کیا ہو۔ پنجاب حکومت تفتیش کرے گی کہ مقدمہ کس نے درج کروایا۔ عمران خان اتنے فارغ نہیں کہ مقدمات درج کرواتے رہیں۔ تین دفعہ منتخب ہونیوالے وزیراعظم نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ کیا ان پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا؟ سادہ سوال پوچھا ہے جائیداد کیسے خریدی؟ ان سے سوال پوچھا جائے توکہتے ہیں تین دفعہ وزیراعظم رہ چکا ہوں۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ دشمن کی زبان نہ بولیں۔ فیٹف کے پیچھے بھارت تھا لیکن اپوزیشن کیوں مخالفت کر رہی تھی؟ فیٹف قانون سازی ملک کی بہتری کیلئے کی گئی۔ شہباز شریف منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ قانون سے وہی ڈرے گا، جو ملوث ہوگا۔ ہم تو جزائر میں شہر آباد کرنے جا رہے ہیں۔ انہی کے لوگوں کو نوکریاں ملیں گی۔ ہم تو اس علاقے میں ڈویلپمنٹ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ٹیکنکل ایشو ہے۔ پیپلز پارٹی کو پتا ہے یہ پراجیکٹ ان کی بہتری کے لیے ہے۔ بلاول کو بیان دینے کے بجائے وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے وزیراعظم آفس اور  ایوان صدر کو 33 بلٹ پروف گاڑیاں استعمال کرنیکی اجازت دینے کافیصلہ کیا گیا۔

وفاقی کابینہ

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت گندم اور چینی کے موجود سٹاک، طلب و رسد، مستقبل کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے حوالے سے کی جانیوالی درآمد اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں وفاقی وزراء محمد حماد اظہر، سید فخر امام، مشیران عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹر عشرت حسین، معاونین خصوصی لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، ڈاکٹر شہباز گل، متعلقہ وزراتوں کے سیکرٹری صاحبان اور دیگر سینئر افسران شریک۔ صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک وزیرِ اعظم کو گندم اور چینی کے موجود سٹاک اور درآمد کے حوالے سے پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کہا حکومت گندم اور چینی کی وافر دستیابی کو یقینی بنائیگی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ گندم اور چینی کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کیخلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ گندم کی ریلیز کو مزید بڑھایا جائے تاکہ مارکیٹ میں وافر مقدار میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -