مہنگائی کاایک اور طوفان، یوٹیلیٹی سٹور پر کئی اشیاء کی قیمتیں بڑھانے کی سمری تیار 

  مہنگائی کاایک اور طوفان، یوٹیلیٹی سٹور پر کئی اشیاء کی قیمتیں بڑھانے کی ...

  

  اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)حکومت نے مہنگائی کے مارے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرانے کی تیاریاں کرلی ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار نے یوٹیلیٹی سٹورز پر مختلف اشیاء کی قیمتیں بڑھانے کی سمری تیارکرلی ہے، جس کے مطابق یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی 9 روپے فی کلو مہنگی کرنے کی تجویز ہے اور چینی کی قیمت 68 روپے سے بڑھا کر 77 روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 60 روپے مہنگا کرکے 860 روپے کرنے کی تجویز ہے جبکہ گھی کی قیمت 170 روپے سے بڑھاکر 180 رو پے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق یوٹیلیٹی سٹورز پر بنیادی اشیائے خور ونوش مہنگا کرنے کا فیصلہ کل اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں ہوگا۔دوسری طرف میڈیا رپورٹس کے مطابق درآمد شدہ سبزیوں کی آمد سے عوام کو ریلیف ملنے کے بجائے قیمتوں میں خوفناک اضافہ ہوگیاہے، ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں 160تا 200 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں،رپورٹ کے مطابق صارفین پہلے سے ہی درآمدی ادرک کیلئے 600 روپے فی کلو ادا کر رہے ہیں جبکہ کچھ خوردہ فروش 700روپے فی کلو کا مطالبہ کر رہے ہیں۔خوردہ فروشوں کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایرانی ٹماٹر اور پیاز جبکہ افغان پیاز کی آمد موخر ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پیاز اور ٹماٹر دونو ں کی بلوچستان کی فصلیں اب تک ناکافی ثابت ہو چکی ہیں جس سے ایران اور افغانستان سے ان اشیا کی درآمد کی راہ ہموار ہو گی۔کمشنر کراچی کے مطابق ٹماٹر اور پیاز کے پرچون نر خ بھی یکم اکتوبر کو بالترتیب 93اور 43روپے فی کلو سے بڑھ کر 168اور 73روپے کردیے گئے ہیں۔ یکم ستمبر تک دونوں سبزیوں کے سرکاری ریٹیل نرخ 58اور 41 رو پے تھے۔ صارفین کا خیال ہے انہیں قیمتوں میں کسی ریلیف کی توقع نہیں کیونکہ ریگولیٹرز قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں اور یہ نہیں دیکھ رہے قیمتوں کے نرخ مصنوعی بنیادوں پر بڑھا ئے جا رہے ہیں یا طلب اور رسد کے درمیان خلاء موجود ہے۔ فلاحی انجمن تھوک سبزی منڈی کے صدر حاجی شاہجہاں نے کہا کہ ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں بھی اسی قیمت کیساتھ لاہور میں بڑھ گئیں ہیں جیسے کراچی میں بڑھی ہیں۔ اشیائے ضروریات کی تھوک اور خوردہ قیمتوں میں فرق صوبوں کیلئے سنگین چیلنج بنتا جارہا ہے۔دوسری جانب ملکی تاریخ میں پہلی مر تبہ گند م کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، پہلی بار دیسی گندم 24 سو روپے من ہو گئی اورپورے ملک میں گندم کے بحران کی کیفیت پیدا کی جاچکی ہے، جس سے آٹا بھی مہنگا اور ما ر کیٹ سے غائب ہوگیا ہے۔ آٹا مہنگا ہونے سے روٹی اور نان کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں، جس وجہ سے دو وقت کی روٹی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے۔

مہنگائی طوفان 

مزید :

صفحہ اول -