عام شہری کسی کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج نہیں کرواسکتا،قانونی ماہرین

عام شہری کسی کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج نہیں کرواسکتا،قانونی ماہرین

  

لاہور(کامران مغل)ممتاز قانونی ماہرین نے کہاہے کہ عام شہری کسی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج نہیں کرواسکتا۔ سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بارآفتاب باجوہ،ممبر پنجاب بارکونسل سید فرہاد علی شاہ،میاں داؤد،چودھری نصیر اور نصر اللہ بابر ایڈووکیٹس نے ن لیگ کے قائد نواز شریف،ان کی صاحبزادی مریم نواز سمیت دیگر متعدد رہنماؤں کے خلاف تھانہ شاہدرہ لاہو رمیں درج غداری کے مقدمہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آبادہائی کورٹ سمیت سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کی روشنی میں اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196،196(اے) کے تحت پولیس کی طرف سے درج کئے گئے بغاوت اور غداری کے مقدمات غیر قانونی ہیں۔ ضابطہ فوجداری کی ان دفعات میں واضح طور پر لکھا ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505اور295مکمل،24(اے) یعنی بغاوت اور غداری کے مقدمات کے اندراج کے لئے وفاقی حکومت یا متعلقہ صوبائی حکومت کی تحریری شکایات یا منظوری لازمی ہے۔ اگر بغاوت،غداری یاتوہین مذہب کے مقدمات میں وفاقی اورصوبائی حکومت کی شکایت یا منظوری موجود نہیں ہے تو اعلیٰ عدلیہ کے حالیہ فیصلوں کی روشنی میں ایسی ایف آئی آر قابل اخراج ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے پی ایل ڈی 2017ء صفحہ نمبر64میں اس اصول کو ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں از سرنو وضع کردیاگیاہے۔

قانونی ماہرین 

مزید :

صفحہ اول -