سال 2018.19میں محصولات زر تاریخ کی کم ترین سطح 9.6فیصد پر رہے، ایف بی آر کا اعتراف

  سال 2018.19میں محصولات زر تاریخ کی کم ترین سطح 9.6فیصد پر رہے، ایف بی آر کا ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)ایف بی آر نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کا ٹیکس سال 2018-19 تاریخ کی کم ترین سطح پر 9.6فیصد رہا، 2017 -18 میں یہ شرح11.1فیصد تھی، گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان کا مجموعی طور پر ٹیکس جی ڈی پی تناسب 11.4فیصد اور 12.6فیصد کے درمیان رہا،ایف بی آر نے مالی سال 2020-21 میں جی ڈی پی تناسب 10.9فیصد مقرر کیا ہے۔ ایف بی آر نے امید ظاہر کی ہے کہ کورونا کے بعد معاشی سر گرمیوں میں اضافے کے ساتھ ہی ٹیکس کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ ایف بی آر کی جانب سے پیر کوجاری رپورٹ کے مطابق پچھلے دو سالوں کے دوران ٹیکس جی ڈی پی تناسب کم ہوا ہے۔معاشی سست روی اور خاص طور پر کورونا نے معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایف بی آر نے 2020-21میں 10.9فیصد ٹیکس سے جی ڈی پی تناسب کی پیش گوئی کی ہے۔ 2021-22میں 11.6فیصد اور 2022-23کے لئے ٹیکس سے جی ڈی پی تناسب 12فیصد متوقع ہے۔اس پس منظر میں حکومت نے معاشی ترقی، تعلیم اور تحقیق پر صحت مند اخراجات اور غربت کے خاتمے وغیرہ کے لئے درکار ٹیکس محصولات میں اضافہ کرنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے محصول کی تنظیم میں اصلاحاتی پروگرام شروع کیا ہے۔

ایف بی آر 

مزید :

صفحہ اول -