تحفظ ختم نبوت،ؐ ناموس صحابہؓ کیلئے کسی  قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، قاری  ناصر میا ں کا عرس تقریب سے خطاب

  تحفظ ختم نبوت،ؐ ناموس صحابہؓ کیلئے کسی  قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، قاری  ...

  

ملتان (سٹی رپورٹر)جانشین پیر طریقت صاحبزادہ قاری ناصر میاں خان نے کہا ہے کہ پیر طریقت مولانا حامد علی خان نقشبندی ؒ نے اپنی پوری زندگی تحفظ ختم نبوت  اور ناموس رسالت  کے تحفظ میں گزاری آپ کے لخت جگر(بقیہ نمبر21صفحہ6پر)

 قاری احمد میاں خان نقشبندی ؒ ملتان میں تحریک ختم نبوت  اور تحفظ ختم نبوت  کے سالار تھے آج کے پر فتن دور میں خانقاہ حامدیہ تحفظ ختم نبوت  اور ناموس صحابہؓ کیلئے کسی قربانی سے گریز نہیں کرے گی اپنے اسلاف کی پیروی کرتے ہوئے ہم آج بھی تحفظ ختم نبوت و ناموس صحابہؓ اور عظمت اہل بیت کیلئے سراراعظم کا کردار ادا کرے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرطریقت مولانا حامد علی خاں ؒ کے 42ویں اور جانشین پیرطریقت قاری احمد میاں خان ؒ کے دوسری سالانہ عرس مبارک کی دوسرے روز کی دوسری نشست میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا دوسرے روز کی دوسری نشست میں آستانہ عالیہ چادروالی سرکار کے سجادہ نشین پیر سید علی حسین شاہ،صاحبزادہ قاری معصوم میاں حامد،صاحبزادہ قاری نعمان میاں حامد،قاری حسان حامد،قاری عبداللہ حامد،پیر سید طلحہٰ حسین رضوی مہمان خصوصی تھے عالمی شہرت یافتہ قاری عبدالغفار نقشبندی،قاری محمد سعید سرمد،قاری منیر چشتی،قاری بشیر کریمی،قاری حق نواز سعیدی،قاری عبدالرحمن،قاری رحمت قادری،قاری محمد شہباز فریدی نے تلات، معروف نعت خواں محمد عثمان قادری،قاری محمد سعید نقشبندی، حافظ محسن حامدی اور ممتاز نعت خوان نے اپنا کلام پیش کیا نظامت کے فرائض صاحبزادہ محمد ریاض نظامی نے انجام دئیے خطیب اعظم پاکستان مفتی شوکت علی سیالوی نے کہا کہ آج کے دور میں پیرطریقت مولانا حامد علی خاں ؒ کی حیات مبارکہ ہمارے لئے مشعل راہ ہیں پیرطریقت نے تمام عمر علم اور تدریس میں گزاری اور جب اسلام دشمن قوتوں نے ملک پاکستان میں غلبہ پانے کی جسارت کی تو اس مرددرویش نے خانقاہ سے نکل کر رسم شبیری ادا کی اور دنیا نے دیکھا تحریک نظام مصطفی کے اس قائد نے نظام مصطفی کیلئے جیل جانے سے بھی گریز نہیں کیا اور تحریک نظام مصطفی کی خاطر پابند سلاسل ہوئے صوبتیں برداشت کیں اور لادینی قوتوں کا راستہ روکا اور رہتی دنیا تک اہل سنت اور عوام الناس کیلئے اپنی زندگی مشعل راہ بنادی اللہ رب العزت نے جن لوگوں کو عالم نور علم سے سرفراز کیا رب کریم کی بارگاہ میں صاحب علم اور علم سے محروم کبھی برابر نہیں ہوسکتے تقویٰ اور علم تصوف اور روحانیت کی میراث ہے صاحب علم نبی روحانیت اور شریعت اور طریقت علم کی معراج ہے دوسرے روز کی دوسری نشست میں مفتی محمد عثمان پسروری،مولانا صادق سیرانی،مولانا رمضان ضیاء الباروی،مفتی محمد صابر،مولانا عبدالعلیم جلالی،مولانا غلام شبیر سواگی،پروفیسر اختر انصاری،مرزا ارشد القادری،مولاناا مان اللہ مہروی،مولانا عطاء اللہ نقشبندی،مولانا عزیز الرحمن حامدی،قاری محمد رمضان چشتی، محمد الیاس حامدی،زاہد بلال قریشی،حافظ منظور الٰہی،محمد ثمر حامدی،ڈاکٹر اشرف قریشی،صوفی سجاد علی حامدی،حاجی عبدالرشید منڈی والے،ڈاکٹر تسلیم قریشی،حاجی سراج حامدی،فدا حامدی،محمد شکیل حامدی،اشرف قریشی،،حاجی منظور قریشی،قاری توفیق،حافظ محمد خالد،حافط محمد ظفر قریشی،قاری حبیب اللہ چشتی،حاجی سلیم حامدی،محمد سردار، مولانا عطاء اللہ مہروی، مفتی محمد شفیع چشتی،مولانا محمد شریف باروی،سردار احمد حامدی،مولانا محمد محسن باروی،محمد نعیم چشتی،محمد رمضان اویسی،مولانا محمد یعقوب مہروی،حافظ مبشر حامدی، مفتی رفیق القادری حامدی،زاہد حامدی،عالم حامدی ودیگر مریدین اور عقیدت مندوں کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔

عرس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -