ہمیں تو حیران کر گیا وہ  

        ہمیں تو حیران کر گیا وہ  
        ہمیں تو حیران کر گیا وہ  

  

 انسان کینسر کے مرض میں مبتلا ہو، مگر اْس کے چہرے سے مسکراہٹ کبھی غائب نہ ہو، یہ بہت اَنہونی سی بات لگتی ہے۔ عبدالغفار عزیز بھائی سے آخری ملاقات جولائی میں ہونے والے جماعت اسلامی کے بیرونی حلقہ جات کے پروگرام میں ہوئی۔ وہ ویل چیر پر بیٹھ کر  آئے اور تھوڑی دیر مجلس میں شریک رہے۔ وہ بہت کمزور اور لاغر دکھائی دے رہے تھے، مگر اْن کے چہرے پہ بکھری مسکراہٹ (جو انکی زندگی بھر کا خاصہ تھی) ہر شخص کو اْن کی طرف متوجہ کر رہی تھی۔

   آخری مرحلوں پہ پہنچا کینسر انسان سے حوصلہ، امید اور بشاشت سب کچھ چھین لے جاتا ہے۔ میں نے آگے بڑھ کر اْن کی مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے دیا اور خود سوچ اور حیرت میں ڈْوب گیا“ کس درجے کا باہمت ہے یہ شخص،جو موت کو اپنے دائیں بائیں منڈلاتے دیکھ کر بھی ایسے مْسکرا رہا ہے جیسے یہ موت کا نہیں دوستوں کا استقبال کرنے جا رہا ہے۔

     مولانا خلیل حامدی صاحب مرحوم طویل عرصے تک جماعت اسلامی کے امورِ خارجہ کے ذمہ دار رہے۔ انہیں عربی زبان پر کمال مہارت تھی۔ خوبصورت بولتے اور خوبصورت لکھتے تھے۔ بہت سی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔انہیں طویل عرصے تک سید مودودی کے زیر سایہ کام کا موقع بھی ملا- وہ عرب وعجم میں تحریکِ اسلامی کی پہچان بن چکے تھے۔ جب وہ اچانک ایک حادثہ کی نظر ہو کر اپنے رب کے پاس جا پہنچے تو بیرونی دنیا سے تعلقات کا ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا۔ دْور دْور تک اِس قد کاٹھ کا کوئی شخص دکھائی نہ دیتا تھا جو اس ذمہ داری کو سنبھال سکے۔

استاد خلیل حامدی صاحب کی حادثاتی موت سے چند سال قبل عبدالغفار نامی ایک نوجوان قطر یونیورسٹی سے عربی اور علومِ اسلامیہ کی ڈگری حاصل کرکے پاکستان لوٹا۔

   ذہین، ہونہار اور خوْبرو، یہ نوجوان اپنے کیریر کو عزیز رکھتا تو عرب وعجم میں اسے درجنوں مواقع میسر تھے۔ مگر جونہی یہ نوجوان پاکستان آیا اْس کے والد حکیم عبدالرحمان عزیز اسے اپنے ہمراہ لیکر محترم قاضی حسین احمد کے پاس جا پہنچے، بیٹے عبدالغفار کا ہاتھ قاضی صاحب کے ہاتھ میں دیا اور کہا“ میں اپنے بیٹے کو آپ (تحریکِ اسلامی)کے  حوالے کرتا ہوں ”۔ بیٹے نے بھی اطاعت میں سر جھْکا دیا۔قاضی صاحب محترم نے فورا”اسے اپنا معاونِ خصوصی مقرر کرلیا۔ استاذ خلیل حامدی کی رحلت کے بعد انہیں امور خارجہ (دارالعروبہ) میں بطور معاون تعینات کیا گیا۔ 

یہاں گزشتہ چھبیس سال میں برادرم عبدالغفار عزیز نے پیچھے مْڑ کر کبھی کچھ اور نہیں دیکھا۔پوری یکسوئی سے زندگی کا ایک ایک لمحہ رب کی خوشنودی کے لئے تحریک اسلامی کی خاطر وقف کئے رکھا۔ وہ امور خارجہ کے ڈائریکٹر بنے اور پھر جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر بھی۔ دنیا بھر کی تحریکات سے تعلقات استوار کئے۔ اِن تعلقات کو بنانے،سنوارنے اور انہیں پانی دینے کا محنت طلب کام کرتے کرتے اپنے رب کے ہاں پہنچ گئے۔

لگن، محنت، ذہانت اور مسکراہٹ اْن کے وجود کا حصہ بن چکی تھی۔ انہیں عربی/اردو زبان و ادب پہ عبور حاصل تھا۔ بولتے تو لب و لہجے سے پھْول جھڑتے۔ کوئی اْلجھا ہوا، بِکھرا ہوا یا بے ربط جملہ کسی نے کبھی ان کی زبان سے نہ نکلتے ہوئے نہ سْنا ہوگا۔

ایسے لگتا کہ جملے ادا ہونے سے پہلے خود عبدالغفار بھائی سے باہر نکلنے کی اجازت طلب کیا کرتے ہوں۔

 کون سی بات، کہاں، کیسے کہی جاتی ہے

یہ سلیقہ ہو  تو ہر  بات سنی  جاتی ہے

  اور عبدالغفار بھائی زبان و بیان کے اس سلیقے سے پوری طرح آگاہ تھے۔

اْن کے ساتھ میری بہت سی مجالس رہیں، کچھ بین الاقوامی سفر کرنے کا موقع بھی ملا۔

الخدمت کے پس منظر میں ایک یاد گار سفر قطر کا بھی تھا۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمان چیرمین الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن، ڈاکٹر نجیب الحق پرنسپل پشاور میڈیکل کالج اور میں عبدالغفار بھائی کی سربراہی میں علامہ یوسف القرداوی سے ملے۔ ہر نشست اور اْن کے ہمراہ  ہر سفر انکی عزت و منزلت میں اضافے کا باعث بنتا چلا گیا۔

     عبدالغفار بھائی ہر دلعزیز انسان تھے۔ اپنے دوستوں، ساتھیوں اور کارکنوں کو ہمیشہ بازو پھیلا کر، مسکراتے ہوئے ملا کرتے تھے۔ آج جب میں اْن کے جنازے کے لئے اپنے گاؤں چنن سے لاہور کی طرف جا رہا تھا تو دل غمگین اور دْکھ سے لبریز تھا۔ پھر خیال آیا جو شخص زندگی بھر خندہ پیشانی اور سدا بہار مْسکراہٹوں سے ہر کسی سے ملا کرتا تھا، زمین و آسماں کی وسعتوں میں پھیلے میرے رب کے فرشتے آج قطار در قطار اْنہی مْسکراہٹوں کے ساتھ 

”یا ایتہاالنفس المطمئنہ“ کی جھنڈیاں ہاتھوں میں تھامے اْن کیاستقبال کے لئے پرے باندھے ضرورکھڑے ہونگے۔

اس خیال کے آتے ہی ایسے لگا جیسے ڈھارس بندھ گئی ہو۔

مزید :

رائے -کالم -