مسلم لیگ(ن) کی پوری قیادت کے خلاف مقدمہ بغاوت درج

مسلم لیگ(ن) کی پوری قیادت کے خلاف مقدمہ بغاوت درج
 مسلم لیگ(ن) کی پوری قیادت کے خلاف مقدمہ بغاوت درج

  

اکتوبر شروع ہو چکا، آج ایک ہفتہ مکمل ہو گیا، گرمی ہے کہ جانے کا نام ہی نہیں لے رہی، درجہ حرارت اب بھی 35تک چلا جاتا ہے۔ حیرت ہے کہ رات کے وقت بھی اس میں کچھ زیادہ کمی نہیں ہوتی۔ ابھی 23سنٹی گریڈ تک ہی بات پہنچی ہے یوں موسمیات کے ماہرین کی پیش گوئی پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ گرمی کے دورانئے میں اضافہ ہو گیا اور پورا اکتوبر اور نومبر کا کچھ حصہ بھی خشک موسم میں گزرے گا اور 15اکتوبر کے بعد درجہ حرارت میں کمی ممکن ہے۔

موسمی حالات ہی کے مطابق ملک میں سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہو گیا۔ تھانہ شاہدرہ لاہور میں ایک شہری بدر رشید کی ایک درخواست پر بغاوت کے الزام میں ایک مقدمہ درجہ کر لیا گیا اس میں مسلم لیگ(ن) کی قریباً تمام قیادت معہ مریم نواز سبھی ملزم بنا دیئے گئے۔ سابق وزیراعظم سابق سپیکر، وزرا اور قومی اسمبلی کے اراکین بھی شامل ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر بھی بغاوت کے ملزم ہیں۔ اس مقدمہ میں مرکزی ملزم تو محمد نواز شریف ہیں، تاہم ان کے زیرحراست بھائی قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف اور کم از کم تین سابق جرنیل بھی ”باغی“ ہیں، جس شہری کی طرف سے یہ مقدمہ درج ہوا، اس کے بارے میں اطلاع نہیں کہ وہ کون اور اس کا کاروبار کیا ہے، صرف درخواست ہے،جس میں محمد نوازشریف کی تقریر کا حوالہ دیا اور کہا گیا کہ انہوں نے اداروں پر تنقید کی اور آئینی حکومت کو زبردستی ہٹانے کی تلقین کی۔ ان سب حضرات نے بھی ان کی تائید کی۔

اس مقدمہ کے اندراج نے ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔ اس کی وجہ سے اپوزیشن کی صفوں میں اشتعال پیدا ہوا ہے۔ ادھر دو روز قبل سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور موجودہ قومی قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کے الزام میں احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، وہ نیب کی حراست سے آئے اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو جیل سے لایا گیا، دونوں باپ بیٹے کی عدالت میں ملاقات ہوئی اور گلے ملے۔ محمد شہباز شریف نے شکائت کی کہ نیب حوالات میں ان کو پریشان کیا گیا، یہ جانتے ہوئے کہ ان کی کمر میں تکلیف ہے، ان کو  نماز کے لئے کرسی دی گئی اور نہ کھانامناسب طریقے سے کھلایا گیا کہ کھانا بھی زمین پر رکھ دیا گیا، فاضل جج نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملزم عدالت کی حراست میں ہیں، ان کو قواعد کے مطابق سب سہولتیں مہیا کی جائیں، دوسری صورت میں عدالت حکم جاری کرنے پر مجبور ہو گی، پراسیکیوشن کی طرف سے بتایا گیا کہ محمد شہباز شریف کا کھانا گھر سے آتا اور ان کو ادویات بھی مہیا کر دی گئی ہیں دونوں والد اور صاحبزادے کی پیشی کی وجہ سے سخت حفاظتی انتظامات بھی کئے گئے، ٹریفک کے مسائل پیدا ہوئے تو دوسرے مقدمات والے حضرات کو پریشانی ہوئی، محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو 14اکتوبر کو پھر پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

پی ڈی ایم بن جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) متحرک ہوئی ہے اور لاہور میں قیادت کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، اس میں جلسوں کے انعقاد کا پروگرام مرتب کیا گیا، ان سے مریم نواز خطاب کریں گی، پہلا جلسہ گوجرانوالہ میں ہوگا، اب یہ سب جلسے پی ڈی ایم کے تصور ہوں گے اور دوسری جماعتیں بھی شرکت کریں گی، مسلم لیگ (ن) کی طرف سے لاہور میں بھی جلسہ منعقد کیا گیا اور بعد میں جلوس نکال کر مظاہرہ ہوا، جو ٹمپل روڈ سے گزرا، اس میں بھی مرکزی قیادت کے حضرات نے حصہ لیا اور پُرجوش تقاریرکی گئیں۔ پیپلزپارٹی نے بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر جلسوں اور مظاہروں کا پروگرام مرتب کیا ہے، اس سلسلے میں ابتدا میں لاہور کی 30زونوں (صوبائی اسمبلی کی سطح پر) کے اجلاس شروع کئے گئے، ایک اجلاس ہفتہ رفتہ میں ہوا، اس میں پانچ سو سے زیادہ کارکنوں نے حصہ لیا، پیپلزپارٹی لاہور کی طرف سے الزام لگایا گیا ہے، اس اجتماع کے باہر ہوائی فائرنگ کی گئی جو مبینہ طور پر ٹائیگر فورس والوں نے کی۔ پیپلزپارٹی کے کارکن مشتعل ہوئے اور باہر جانے کی کوشش کی لیکن بقول اورنگ زیب برکی سینئر حضرات نے ان کو ٹھنڈا کیا اور باہر جانے سے روکا، فیصلہ کیا کہ تھانے میں درخواست دے دی جائے کہ یہ ”خانہ جنگی“ کی کوشش ہے۔

یہ سیاسی سلسلہ اپنی جگہ جاری کہ یہاں علی ہجویری داتا گنجؒ کا عرس شروع ہو گیا۔ گزشتہ روز اس کا باقاعدہ افتتاح صوبائی وزیر اوقاف سعید الحسن نے کیا۔ عرس کل اختتام پذیر ہو گا، ملک کے کونے کونے اور بیرون ملک سے بھی زائرین سلام عقیدت کے لئے آ رہے ہیں، محکمہ اوقاف پنجاب نے معقول انتظامات کئے اور کرونا حفاظتی تدابیر کا خاص اہتمام کیا گیا، عرس سے قبل روائتی عالمی کانفرنس بھی ہوئی جو تین روز تک جاری رہی۔ 

کل ہی لاہور میں امام حسینؓ کے چہلم کے حوالے سے تعزیہ کا جلوس بھی برآمد ہو گا اس کے لئے حفاظتی انتظامات کئے گئے۔ فون اور انٹرنیٹ سروسز جلوس کے وقت تک اس علاقے میں بند کی جائیں گی اور شرکاء جلوس تعزیہ کی شرکت بھی حفاظتی اقدامات اور تلاشی سے مشروط ہو گی۔

مزید :

رائے -کالم -