صوابی،پولیس 3 سالہ معصوم بچی  کے قاتلوں کا سراغ نہ لگا سکی

صوابی،پولیس 3 سالہ معصوم بچی  کے قاتلوں کا سراغ نہ لگا سکی

  

صوابی(بیورورپورٹ)تیرہ یوم گزرنے کے باوجود پولیس نے بے دردی سے قتل ہونے والی تین سالہ معصوم بچی کے قاتلوں کا سراغ لگا سکی نہ ہی مجرمان کو گرفتار کیا جا سکا۔ موضع ٹوپی کے محلہ شگہ میں تین سالہ معصوم کمسن بچی چھبیس ستمبر کی صبح گھر سے دوکان کو ٹافیاں خریدنے گئی تھی اور بعد ازاں اس دوران لاپتہ ہو گئی۔ گھر نہ آنے پر جب بچی کی تلاش شروع کی گئی تو مقامی بر ساتی نالے سے بچی کی قتل شدہ لاش بر آمد ہوئی جسے سفا ک قاتلوں نے بے دردی سے قتل کر کے لاش کو برساتی نالے میں پھینک دیا تھا جس کے گلے پر تشدد کے نشانات تھے اس سلسلے میں جماعت اسلامی یوتھ نائب صدر ٹوپی محمد بلال جدون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹوپی میں چند دن پہلے فاطمہ نامی بچی کے واقعہ پر علاقے میں بہت تشویش پھیل گئی تھی تیرہ دن گزرنے کے باوجود پیشرفت نہ ہونا انتظامیہ کیلئے سوالیہ نشان ہیں۔اس حوالے سے انہوں نے آئی جی پولیس خیبر پختونخواہ،ڈی آئی جی مردان،ڈی پی او صوابی سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد حقائق کو منظر عام پر لائے۔انہوں نے مزیدکہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ظلم کے خلاف مظلوم کا ساتھ دیا ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -