نوازشریف کی العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزا کیخلاف درخواستوں کی سماعت میں وقفہ ،دلدار علی ابڑو،راﺅ عبدالحنان کا بیان ریکارڈ

نوازشریف کی العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزا کیخلاف ...
نوازشریف کی العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزا کیخلاف درخواستوں کی سماعت میں وقفہ ،دلدار علی ابڑو،راﺅ عبدالحنان کا بیان ریکارڈ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ میں نوازشریف کی العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزا کیخلاف درخواستوں پر سماعت جاری ہے،دلدار علی ابڑو،لندن ہائی کمیشن کے قونصلر اتاشی راﺅ عبدالحنان کا بیان ریکارڈ کرلیاگیا،سماعت میں کچھ دیر کیلئے وقفہ کردیاگیا۔

نجی ٹی وی جی این این کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں نوازشریف کی العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزا کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی ،جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اپیلوں پر سماعت کی،وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ عدالت نے مبشر خان اور عبدالحنان کابیان ریکارڈ کرنے کا کہاتھا،تیسرے افسر دلدار علی ابڑوکا بیان ریکارڈ کیا جائے۔

لندن ہائی کمیشن کے قونصلر اتاشی راﺅ عبدالحنان کابیان ریکارڈ کیاگیا،ویڈیو لنک کے ذریعے افسروں کے نام اور شناخت کی گئی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے دلدار علی ابڑو سے بیان سے پہلے حلف اٹھوایا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلدار علی ابڑو سے مکالمہ کرتے وہئے کہاکہ آپ عدالت کو اپن ابیان ریکارڈ کروائیں۔

جسٹس عامر فاروق ن ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ سوال کریں تو وہ جواب دیں گے۔

دلدار علی ابڑو نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہاکہ 17 ستمبر کو ہم نے نوازشریف کے اپارٹمنٹ عدالتی احکامات پہنچائے،پاکستانی ہائی کمیشن نے ہمیں عدالتی احکامات ذاتی حیثیت میں پہنچانے کاکہاتھا،نیب پراسیکیوٹر نے دلدار علی ابڑو سے استفسار کیاکہ کیا آپ کے پاس عدالتی احکامات کی تعمیل کارسید موجود ہے؟،سردار مظفر نے سوال کیا کہ کیا یعقوب خان نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری وصول کرنے سے انکار کیا تھا؟،دلدار علی ابڑو نے کہاکہ جی، نوازشریف کے بیٹے کے ذاتی ملازم یعقوب خان نے عدالتی احکامات وصولی سے انکار کیا۔

عدالت نے دلدار علی ابڑو سے استفسار کیاکہ کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں؟،دلدار علی ابڑو نے کہاکہ رائل میل کے ذریعے بھجوائے گئے وارنٹ گرفتاری کی ڈیلیوری کی رسیدیں موجود ہیں، پاکستانی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری نے ٹریکنگ نمبر اور آن لائن رسیدیں بھی پیش کردیں، فرسٹ قونصلر سیکرٹری افیئردلدار علی ابڑو کابیان ریکارڈ کرلیاگیا۔

قونصلر اتاشی راﺅ عبدالحنان سے بیان ریکارڈ کرانے سے قبل حلف لیاگیا،نیب پراسیکیوٹر سے سوال کیا آپ نے عدالتی احکامات کی کاپی کب وصول کی؟،راﺅ عبدالحنان نے کہاکہ 17 ستمبر کو مجھے عدالتی احکامات کی کاپی ملی،17 ستمبر کو عدالتی احکامات کو نوازشریف کے پارک لین اپارٹمنٹ میں پہنچایا،نیب پراسیکیوٹر نے سوال کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے جب آپ گئے تو وہاں کیاہوا؟،راﺅ عبدالحنان نے کہاکہ 17 ستمبر کو 6 بج کر 35 منٹ پر وارنٹ کی تعمیل کیلئے گئے،جب گیاتھاتووہاں مسٹر اے ڈی سے ملاقات ہوئی ،نوازشریف کی رہائشگاہ پر اے ڈی نے وارنٹ گرفتاری وصول کرنے سے انکار کیا،ایڈی کو کہاکہ کسی کو بلائیں جس پر یعقوب نامی شخص آیا اور اس نے دستاویزات کی نوعیت معلوم کی ، میں نے دستاویزات کی نوعیت بتانے سے منع کیا،یعقوب نامی شخص نے دستاویزات وصول کرنے سے انکار کردیا۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے استفسارکیا جو دستاویزات آپ لے کے گئے تھے وہ آپ واپس لے کے آئے کس کو دیئے آپ نے؟، کیا آپ نے دستاویزات کھول کر دیکھے،راﺅ عبدالحنان نے کہاکہ جی دستاویزات دیکھے تھے وہ نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے دستاویزات تھے،میں نے وارنٹ رائل میل کے ذریعے نہیں بھجوائے بلکہ بائی ہینڈ لے کرگیاتھا۔

راﺅ عبدالحنان نے کہاکہ 17 ستمبر اور28 ستمبر کو دومرتبہ وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کیلئے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ گیا،قونصلر اتاشی راﺅ عبدالحنان کا بیان قلمبند کرلیاگیا۔

وزارت خارجہ امور کے ڈائریکٹر یورپ محمد مبشرخان سے بھی بیان ریکارڈکرانے سے قبل حلف لیاگیا،محمد مبشر خا ن نے کہاکہ نوازشریف کے وارنٹس گرفتاری کی نقول میرے پاس موجود ہیں،نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹس گرفتاری 2 اپیلوں میں عدالت نے جاری کئے، وارنٹس گرفتاری ڈاک کے ذریعے موصول ہوئے،کورنگ لیٹر کے ساتھ ڈپلومیٹک بیگ میں بھجوائے گئے ،ڈاک وصول کرنے اور بھجوانے کا رجسٹر میں اندراج کیاگیا،

نمائندہ وزارت خارجہ مبشر خان نے کہاکہ مجھے رسیدیں ڈپلومیٹک بیگ میں ملے تھے،عدالت نے استفسارکیا کہ ڈپلومیٹک بیگ میں ہے کیا؟، مبشر خان نے کہاکہ اس بیگ میں دلدار علی ابڑو اور راﺅ عبدالحنان کا بیان دستاویزات کی شکل میں ملا،دو مصدقہ کاپیاں رائل میل کی بھی ان دستاویزات کے ساتھ تھیں ، عدالتی احکامات کے مطابق اوریجنل دستاویزات عدالت کو جمع کروائی گئیں۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا آپ کاغذات کب تک لاسکتے ہیں ،مبشرخان نے کہاکہ وزارت خارجہ سے دو تین گھنٹوںمیںدستاویزات منگوا لوں گا،عدالت نے کہاکہ کیا وزارت خارجہ کادفترلندن میں ہے، ڈاکیو منٹس جلدی منگوالیں ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -