احتسابی عمل میں سب بڑا مسئلہ کون سا ہے؟جسٹس (ر)وجیہہ الدین کھل کر بول پڑے

احتسابی عمل میں سب بڑا مسئلہ کون سا ہے؟جسٹس (ر)وجیہہ الدین کھل کر بول پڑے
احتسابی عمل میں سب بڑا مسئلہ کون سا ہے؟جسٹس (ر)وجیہہ الدین کھل کر بول پڑے

  

کراچی (این این آئی) عام لوگ اتحاد پارٹی کے رہنما جسٹس(ر)وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ احتسابی عمل میں سب بڑا مسئلہ وائٹ کالرکرائم ہیں،ملک میں متوازی احتساب کا نظام قائم کیا جائے،احتساب سیاستدانوں، بیوروکریٹ سب کا ہونا چاہئے،بنیادی طورپر احتساب اپوزیشن جماعتوں کا ہورہا ہے، پاکستانی عوام کافی کچھ جان چکے ہیں،اپوزیشن جماعتوں کے خلاف جو کارروائیاں ہورہی ہیں ان کو کسی طورپر غلط نہیں کہا جاسکتا لیکن احتساب اکراس دی بورڈ ہونا چاہئے۔

 جسٹس(ر)وجیہہ الدین نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں حکومت اور اس کی اتحادی جماعتیں خواہ وہ مرکز میں ہوں یا صوبوں میں ان میں شامل اکثر لوگ کسی نہ کسی طور پر کرپشن میں ملوث رہے ہیں ان کو احتساب کے دائرے میں نہیں لایا جارہا ہے،ان کا احتساب بھی ہوناچاہئے۔ ان کہنا تھا کہ احتساب کے عمل میں تاخیر کا سبب احتساب عدالتوں کی کمی ہے، اس سلسلے میں سپریم کورٹ ایک سو بیس عدالتوں کے قیام کے لیے واضح احکامات دی چکی ہے لیکن بد قسمتی اس حکم کے باوجود اب تک ایک بھی مزید احتساب عدالت کا قیام عمل میں نہیں لایا جاسکا،سپریم کورٹ کے احکامات پرعمل کرتے ہوئے ایک سو بیس عدالتیں فوری طور پر قائم کی جانی چاہئے، بلکہ اس کے برخلاف کئی اینٹی ٹیریرزم عدالتیں جو کہ اسی سٹیٹس کی ہیں ان کو وائنڈ اپ کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بلا شبہ دہشتگردی کی سرگرمیوں میں واضح کمی آئی ہے، کرپشن سے کمایا ہوا پاکستانیوں کا اربوں ڈالر کا سرمایہ بیرون ممالک میں جمع ہے،ملک میں جوبھی حکومت آتی ہے وہ یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ ہم وہ پیسہ واپس لے کر آئیں گےلیکن کوئی بھی حکومت اب تک ایک دھیلا بھی بیرون ممالک سے واپس نہیں لاسکی۔ انہوں نے کہا ملک میں احتسابی عمل کو جاری اوراس کا دائرہ کرپشن میں ملوث حکومتی افراد تک وسیع کرنا چاہئے،لیکن یہ کافی نہیں ہے احتسابی عمل میں سیاستدانوں کے ساتھ بیوروکریٹ،سویلین بیوروکریٹ سب کوشامل کرنا چاہئے،اگر اثاثاجات ان کی آمدنی سے میل نہیں کھاتے تو ان سے پوچھ گچھ کرنی چاہئے،ایسے لوگوں کے بارے میں ملک میں قوانین موجود ہیں جن میں واضح مثالیں ہیں اور اسی بنیاد پر ان لوگوں کے بارے میں ایک ٹرم پوائنٹ کی گئی ہے رپیوٹڈ ٹو بی کرپٹ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت جواحتسابی عمل چل رہا ہے اس کے ساتھ یہ ضروری ہوگیا ہے متوازی احتساب کا نظام قائم کیا جائے، جس میں سیاستدان، بیوروکریٹس، سول اور ملٹری بیوریسی کریسی سب شامل ہوں اور وہاں کچھ زیادہ دیکھنے اور زیادہ تفتیش یا انکوائری کی ضرورت نہیں، صرف یہ دیکھنا چاہئے کہ ان کے اور انکے اہل خانہ کے اثاثاجات کتنے ہیں اور اس کے مقابلے میں ان کے ذرائع کیا ہیں اور اگر وہ غیرمناسب ہوں ہوں توان کے بارے میں یہ سمجھا جائے کہ وہ کرپٹ ہیں تو اور ان کو فارغ کردیا جائے کرپشن میں شامل سیاستدانوں، بیوروکریٹس مکمل طورریٹائر کرکے ان کو مکمل فارغ کے ان کے خلاف تفتیش ہونی چاہئے، اور ان کا کرپشن سے کمایا ہوا پیسہ ضبط کرناچاہئے۔ اس کے بعداس بعد ان سے پوچھ گچھ ہونی چاہئے اوربھی وافر پیسہ ہے اس جو سرکار ضبط کرلے۔انہوں نے کہا کہ احتسابی عمل کو با مقصد بنانا ہے تو عدالتی کارروائیوں کوبھی مضبوط بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نام نہاد اپوزیشن کا اتحادپاکستان ڈیمو کریٹ موومنٹ کا تمام چیزوں کے محرکات میں سے صرف ایک ہی محرک ہے اور وہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ احتساب یا اکاونٹیبلیٹی کا شکا رہیں اور ان کے معامالات لمبے لمبے چل رہے ہیں ان میں سے کچھ معامالات اپیلوں میں ہیں اور ان لوگوں کو ضمانتیں دیدی گئیں ہیں کچھ باہر بھی چلے گئے ہیں اگر وہ ضمنی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے تو یہ سارے لوگ جس میں حکومتی لوگ بھی شامل ہوں گے فوری ڈس کوالیفائی ہوجائیں گے،اس طریقہ کار سے ملک میں شامل ملک دشمن سرگرمیوں کو خاتمہ بھی ممکن ہے جس میں فوج اور عدلیہ کو بھی دھکیلا جارہا ہے بلکہ پاکستان کے ہر ادارے کو ہی دھکیلا جارہا ہے تو خودبخود ختم ہوجائیں گے،اس مثل کے مصداق کہ نہ رہے گا بانس نہ بجے بجے گی بانسری۔

مزید :

قومی -