ہو ا میں گرم پانی اور گرم خون سے ہر وقت اتنی بھاپ جمع رہتی 5 فٹ سے آگے کچھ نظر نہ آتا

ہو ا میں گرم پانی اور گرم خون سے ہر وقت اتنی بھاپ جمع رہتی 5 فٹ سے آگے کچھ نظر ...
ہو ا میں گرم پانی اور گرم خون سے ہر وقت اتنی بھاپ جمع رہتی 5 فٹ سے آگے کچھ نظر نہ آتا

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:38

 چار پانچ میل مشرق کی طرف ایک جھیل تھی۔ یخ ہوائیں چیخ رہی تھیں۔ رات کو تھرما میٹر کا پارہ منفی 10 سے12 ڈگری گر جاتا تھا اور صبح گلی میں اتنی برف ہوتی تھی کہ پہلی منزل کی کھڑکیوں تک پہنچ جاتی تھی۔ جن گلیوں سے چل کر یورگس کے گھرانے کے لوگ کام پر جاتے تھے وہ سب کچی تھیں اور ان میں جگہ جگہ کھڈے اور گڑھے تھے۔ گرمیوں میں جب بارش ہوتی تو آدمی کو کمر کمر پانی میں چل کر گھر جا نا پڑتا تھا۔ اور اب سردیوں میں صبح کی روشنی سے پہلے اور رات کو اندھیرا ہونے کے بعد ان سے گزرنا کوئی مذاق نہیں تھا۔ جو کچھ ان کے پاس ہوتا اس سے وہ جسم ڈھانپ لیتے لیکن تھکاوٹ اور نا توانی کو کس سے ڈھانپتے ! چنانچہ کئی لوگ برف کے آگے ہار مان کر گر پڑتے۔

جب یہ صورت ِ حال مردوں کے لیے اتنی بری تھی تو عورتوں اور بچوں کے لیے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔ اگر گاڑیاں چل رہی ہوتیں تو بعض گاڑیوں پر سفر کر لیتے لیکن اگر آپ فی گھنٹا5سینٹ کمانے والے ہوتے، جیسا کہ سٹینس تھا، تو آپ2میل کے لیے رقم خرچ کرنے کا خیال ترک کردیتے۔ بچے اپنے آپ کو کانوں تک چادروں میں لپیٹ کر لاتے۔ وہ اس طرح ملفوف ہوتے کہ پہچانے نہیں جاتے تھے لیکن پھر بھی حادثات ہوجاتے۔ فروری کی ایک یخ صبح وہ لڑکا جو سٹینس کے ساتھ کام کرتا تھا، ایک گھنٹا دیر سے آیا اور آتے ہی چیخیں مارنے لگا۔ انھوں نے فوراً اس کے کپڑے کھولے اور ایک آدمی اس کے کان ملنے لگا، لیکن وہ اتنے جم گئے تھے کہ ایک دو بار مسلنے سے ہی ٹوٹ کر گر پڑے۔ اس کے بعد سٹینس کے دل میں ٹھنڈ کا خوف ہمیشہ کے لیے بیٹھ گیا۔ وہ ہر صبح کام پر جاتے وقت رونے لگتا۔ کسی کو سمجھ نہ آتی کہ اسے کیسے سمجھایا جائے۔ دھمکانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا۔ لگتا تھا یہ ان کے اختیار سے باہر معاملہ ہے۔ یہ بھی ڈر لگتا کہ کہیں اسے غش نہ پڑ جائے۔ آخر یہ طے ہوا کہ وہ یورگس کے ساتھ جایا کرے گا اور اسی کے ساتھ واپس آیا کرے گا۔ اکثر جب برف بہت گہری ہوتی تو تو یورگس اسے کندھے پر اٹھا کر سارا راستہ طے کرتا۔ مشکل تب بنتی جب یورگس کو رات دیر گئے تک کام کرنا پڑتا کیوں کہ بچے کے پاس انتظار کرنے کے لیے، بوچڑ خانے کے دروازے یا کسی کونے میں کوئی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ وہ تھکاوٹ کا مارا وہیں کہیں لڑھک کر سو جاتا۔ بوچڑ خانے میں گرمائش کا کوئی انتظام نہیں تھا اور مزدوروں کو سارا سال کھلے میں کام کرنا پڑتا تھا۔ یہی مزدور سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے تھے۔ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانے کے لیے انہیں بنا ءکچھ پہنے انتہائی سرد منجمد برامدوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ بوچڑ کانے میں کام کرتے ہوئے وہ خون میں لت پت ہوتے تھے جو ہوا لگتے ہی جم کر پتھر ہو جاتا۔ اگر وہ کسی ستون کا سہارا لیتے تو اسی کے ساتھ چپک جاتے اور اگر چھری کے پھل پر انگلی رکھتے تو امکان یہی ہوتا کہ ان کی جلد اس کے ساتھ ہی رہ جائے گی۔ وہ اپنے پاؤں پر اخبار لپیٹ کر پرانی بوریاں باندھ لیتے جو جانوروں کے خون میں تر ہو کر جم جاتیں، پھر تر ہوتیں، پھر جم جاتیں حتیٰ کہ جب رات کو چھٹی کا وقت آتا تو ان کے پاؤں ہاتھی کے پیروں کی طرح بوجھل ہوتے۔ جب کبھی باس آس پاس نہ ہوتا تو وہ پیروں کو سکون دینے کے لیے انہیں تازہ ذبح شدہ جانوروں کے گرم ڈھانچے میں گھسیڑ دیتے یا پانی کے نلوں کی طرف بھاگتے۔ اس میں سب سے زیادہ ظلم یہ ہوتا تھا کہ ذبح کرنے والے سب مزدور دستانے نہیں پہن سکتے تھے۔ ان کی بانھیں کہرے سے سفید اور پاؤں سردی سے منجمد ہوجاتے اور ظاہر ہے ایسے میں حادثات ہوتے۔ ہوا میں گرم پانی اور گرم خون سے ہر وقت اتنی بھاپ جمع رہتی کہ5 فٹ سے آگے کچھ نظر نہ آتا۔ ایسے میں ہاتھوں میں تیز پھلوں والی چھریاں تھامے ہوئے بھاگتے مزدور۔۔۔ یہ ایک کرامت تھی کہ وہاں جانو روں سے زیادہ لوگ نہیں مرتے تھے۔ 

ان کے لیے یہ ساری تکلیف قابل ِ برداشت ہو جاتی اگر انہیں کھاناکھانے کے لیے کوئی جگہ مل جاتی۔ یورگس کو یاتو اسی بدبو میں کھانا کھانا پڑتا تھا جس میں وہ کام کررہا ہوتا تھا یا پھر دوسرے سب لوگوں کی طرح ان سیکڑوں شراب خانوں میں سے کسی ایک کا رخ کرنا پڑتا جو مزدوروں کو بانھیں کھولے اپنی طرف بلاتے تھے۔ یارڈز کے مغرب میں ایش لینڈ ایونیوتھا جس میں سیلونوںکی ایک لمبی قطار تھی، جسے وہ لوگ’ ’وہسکی رو“ (Whiskey Row)کہتے تھے۔ شمال میں فورٹی سیونتھ سٹریٹ تھی جس میں’ ’وہسکی پوائنٹ “ تھا۔ جو رقبے میں پندرہ بیس ایکڑ پر مشتمل تھا۔ اس میں ایک گوند فیکٹری اور200 کے قریب سیلون تھے۔

کوئی بھی ان میں جاکر اپنی مرضی کی چیز لے سکتا تھا۔ ’ ’آج: مٹر سوپ اور ابلی بند گوبھی“۔۔۔ ’ ’آئیے اور لیجیے۔ ساور کراؤٹ اور فرینک فرٹر“۔۔۔’ ’خوش آمدید۔ پھلیوں کا سوپ اور چھوٹے گوشت کا سالن“۔۔۔ اس طرح کے اعلانات ہر زبان میں چھپے دکھائی دیتے۔ دکانوں کے نام بھی بے شمار قسموں کے تھے۔ ” ہوم سرکل‘ ‘ اور’ ’کوزی کارنر“۔۔۔’ ’ فرینڈز‘ ‘ اور’ ’ہارتھ سٹونز“۔۔۔ پلیژر پیلس‘ اور ” ونڈر لینڈ“۔۔۔” ڈریم کاسل “ اور’ ’ لَوّ ز ڈیلائٹ“۔ اس کے علاوہ انہیں’ ’یونین ہیڈ کوارٹرز“ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ وہاں ہر مزدور کو چولہے کی گرمائش اور آگ کے پاس کرسی مل جاتی تھی اور ساتھ میں دو گھڑی ہنسنے بولنے کے لیے چند دوست بھی۔شرط صرف ایک تھی، وہ یہ کہ آپ کو کچھ نا کچھ پینا ضرور پڑتا تھا۔اگر آپ پینے کے ارادے سے نہیں گئے تو آپ کو فوراً سے پہلے باہر نکال دیا جاتا تھا۔اگر آپ باہر نکلنے میں تا خیر کرتے تو عین ممکن تھا کہ آپ کا سر کسی بئیر کی بوتل سے کھول دیا جاتا۔ اس روایت کا سبھی مردوں کو پتا تھا اس لیے ناؤنوش کا سلسلہ چلتا رہتا۔یہ ایک طرح سے مفت ملنے والی سہولت تھی۔ انہیں ایک سے زیادہ ڈرنک کی ضرورت نہیں پڑتی تھی اور اس کے بَل پر وہ گرم کھانے سے پیٹ بھی بھر لیتے تھے۔ کبھی کوئی دوست آپ کو شراب پلا دیتا تو جواباً آپ کو بھی اسے شراب پلانا پڑتی۔ پھر کوئی اور دوست آجاتا۔۔۔ خیر چند گلاس شراب محنتی آدمی کے لیے اچھی ہی تھی۔ واپسی پر اس کی کپکپاہٹ بھی کم ہو جاتی اور محنت کرنے کا حوصلہ بھی بڑھ جاتا، مہلک یکسانی کا اثر کم پڑ جاتا اور حالات ذرا بہتر لگنے لگتے۔ واپسی پر گھر جاتے ہوئے یہ کپکپاہٹ دوبارہ لوٹ آتی اور اسے سردی دور کرنے کے لیے راہ میں ایک دوبار پھر رکنا پڑتا۔ چونکہ سیلون میں کھانے کو کچھ نا کچھ گرم بھی مل جاتا تھا اس لیے وہ کھانے پرگھر اکثر دیر سے پہنچتا یا کبھی پہنچتا ہی نہ۔ ایسے میں اس کی بیوی اسے ڈھونڈنے نکلتی۔ اسے بھی سردی لگتی۔ بعض اوقات اس کے ساتھ بچے بھی ہوتے۔ یوں سارا گھرانا شراب میں غرق ہوجاتا جیسے دریا سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں۔ اس زنجیر کو مکمل کرنے کے لیے تمام پیکرزاپنے مزدوروں کو نقد کے بجائے معاوضہ چیک کی صورت میں ادا کرتے۔ پیکنگ ٹاؤن میں مزدوروں کے پاس یہ چیک کیش کروانے کے لیے سیلون کے سوا کوئی جگہ نہ تھی۔ جہاں اس مہربانی کے بدلے میں اسے تھوڑی سی شراب بھی اخلاقاً خریدنا پڑتی تھی۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -