انگریزوں کےخلاف 1857 کی جنگ کی کہانی اور”پنجاب بغاوت رپورٹ“

انگریزوں کےخلاف 1857 کی جنگ کی کہانی اور”پنجاب بغاوت رپورٹ“
انگریزوں کےخلاف 1857 کی جنگ کی کہانی اور”پنجاب بغاوت رپورٹ“

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:66 

پنجاب کا 1857 کی جنگ آزادی میں حصہ:

پنجاب کو طعنہ دیا جاتا ہے کہ اس نے 1857 کی جنگ آزادی میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ بلکہ اس جنگ کو شکست سے دو چار کرنے کے لیے انگریزوں کا ساتھ دیا، طعنہ دینے والے دانشور یہ بھول جاتے ہیں کہ1849 میں یو پی کی پوربی اور ہندوستانی فوج کی مدد سے انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کرکے اس کی آزادی اور خود مختاری کو سلب کیا تھا۔ خود پنجاب کے بعض دانشور اس پراپیگنڈے کے زیر اثر یہ غلط تاثر پھیلاتے رہے ہیں کہ پنجاب1857 میں انگریزوں کے ساتھ مل کر جنگ آزادی کے متوالوں کی مزاحمت کرتا رہا۔

اس سلسلے میں اس زمانے کے انگریز افسروں کی تحریریں پڑھنے سے حقیقت اس کے الٹ نظر آتی ہے۔1857ءمیں امرتسر کا انگریز ڈپٹی کمشنر فریڈرک کوپر تھا(لاہور کی کوپر روڈ والا) اس نے جنگ آزادی کے اگلے سال 1858 میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا عنوان تھا۔”پنجاب میں بحران۔“ اس کتاب میں وہ آنے والے دنوں میں پنجاب کی وفاداری کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتا ہے۔

”ان لوگوں کا(پنجابیوں) کا ردعمل کیا ہوگا۔ بحران کس قسم کا اور کتنا گہرا ہوگا؟ کیا سارے ہندوستان کے عوام انگریزوں کو ہندوستان سے بے دخل کرنے کے لیے متحد ہو چکے ہیں؟ کیا ہندوستان کے 43 راجے اندرون خانہ انگریزوں کے خلاف اکٹھے ہوگئے ہیں؟ کیا 1857 کی بغاوت برصغیر کو آزاد کرانے کے لیے برپا کی گئی تھی؟ اور کیا یہ مظلوم اور محکوم عوام کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کی تحریک تھی؟“

چیف کمشنر کے بعد سب سے بڑا انگریز افسر فنانشل کمشنر رابرٹ منٹگمری تھا(جس کے نام سے منٹگمری شہر آباد کیا گیا) اس نے 13 جون کو پنجاب کے تمام ڈپٹی کمشنروں کو جو مراسلہ ارسال کیا وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ لکھتا ہے۔

”پنجاب میں ایک زبردست طوفان آنے والا ہے جو کسی وقت بھی برپا ہو سکتا ہے۔ پنجاب میں ویسے تو عام طور پر انگریزوں کے ساتھ وفاداری کے جذبات پائے جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہر شہر اور گاﺅں میں ایسے ان گنت لوگ موجود ہیں جو عوام کو بغاوت پر آمادہ کرنے کے لیے موقعہ کی تلاش میں ہیں اور جو عوام کو باور کرا رہے ہیں کہ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت ختم ہونے والی ہے۔ انہوں نے عوام کو اس طرح کی صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ کر رکھا ہے۔ ہو سکتا ہے ایسے لوگ جلد ہی بغاوت پر آمادہ ہو جائیں۔“

 انگریز افسروں کی ان تحریروں سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ 1857ءمیں پنجاب کے اندر انگریز مخالف خیالات کتنے گہرے تھے اور انگریزوں کو ہندوستان سے مار بھگانے کے لوگ کتنے خواہشمند تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے عوام نے 1857ءکی جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہوں نے انگریزوں کو دیس سے نکال دینے کے لیے شہروں، قصبوں اور دیہات میں بغاوتیں برپا کیں۔ پنجاب میں جو لوگ انگریزوں کے دست و بازو بنے وہ چند گنے چنے ٹوڈی اور پٹھو تھے جن کی اولاد آج بھی پنجاب کی سیاست پر قبضہ کیے ہوئے ہے اور ہر آمر اور ظالم حاکم کا ساتھ دیتی ہے۔ انہی لوگوں نے اپنے گھناﺅنے ماضی پر پردہ ڈالنے کے لیے تاریخ کے وہ صفحات تلف کرنے کی کوشش کی جن میں پنجاب کے 1857ءکی جنگ میں حصہ لینے کی داستان موجود ہے۔ اس کی بجائے انہوں نے یہ مشہور کر دیا کہ جو کرتوت انہوں نے کی، پنجاب کے عوام نے بھی ان کی تقلید میں وہی کچھ کیا۔ آیئے تاریخ کے پھٹے ہوئے اور ادھر ادھر بکھرے ہوئے مگر خون سے لکھے ہوئے اوراق اکٹھا کرکے اس دور کے اصل پنجاب کا مشاہدہ کریں۔

 پنجاب میں انگریزوں کے خلاف 1857 کی جنگ کی کہانی”پنجاب بغاوت رپورٹ“ میں بھی ملتی ہے جو 1857ءسے کچھ عرصہ بعد انگریزوں نے مرتب کی تھی۔ پھر انہوں نے اپنے پٹھوﺅں کا شجرہ نسب اور کارنامے ”پنجاب چیفس“ میں لکھ کر محفوظ کر دیئے ہیں۔ چنانچہ اس کہانی کا کچھ حصہ اس کتاب میں بھی درج ہے۔ چند انگریزوں نے 1857 سے کچھ پہلے اور بعد کے واقعات ضبط تحریر کیے ہیں۔ یہ سارا مواد 1857 کی جنگ کے دوران عام پنجابیوں کے انگریز دشمن کردار پرروشنی ڈالتا ہے مشہور مفکر کارل مارکس نے 1857ءکی جنگ آزادی بارے میں 200صفحات لکھے۔ ان میں کئی جگہ اہل پنجاب کے کارناموں کا تذکرہ یا ان کے بارے اشارے ملتے ہیں۔ پھر پنجاب کے دیہی عوام کے حافظے میں آج بھی 1857ءکی جنگ کے وہ کارہائے نمایاں لوک شاعری کی شکل میں محفوظ ہیں جو احمد کھرل اور اس کے ساتھیوں نے سر انجام دیئے۔

1857 کی جنگ آزادی سے صرف18سال قبل انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کیا تھا۔ پنجاب ہنوز اپنی شکست کی تھکن دور نہ کر پایا تھا۔تاہم ہندوستان کے مختلف علاقوں سے جنگ آزادی کی خبریں آنی شروع ہوئیں تو پنجاب میں اس کے حق میں جذبات پیدا ہونے لگے اور اس میں حصہ لینے کی خواہش بتدریج جڑیں پکڑنے لگی۔ انگریزوں کے کانوں میں جب اس کی بھنک پڑی تو انہوں نے پنجابی عوام کو اس جنگ میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے پنجاب کے پریس اور ذرائع ابلاغ پر پابندیاں عائد کر دیں۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -