ساری محنت اکارت چلی گئی امید کی ننھی سی کرن جو سو یلین حکومت کے قیام سے ابھری تھی اندھیروں میں ڈوب گئی 

ساری محنت اکارت چلی گئی امید کی ننھی سی کرن جو سو یلین حکومت کے قیام سے ابھری ...
ساری محنت اکارت چلی گئی امید کی ننھی سی کرن جو سو یلین حکومت کے قیام سے ابھری تھی اندھیروں میں ڈوب گئی 

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:12 

سالک کے مخالفین کے پاس سب سے بڑا جو ازیہ ہے کہ مارشل لا ءسے نفرت کے باوجود مرتے دم تک وہ اس سے وابستہ کیوں رہے ایک باضمیر شخص ہوتے ہوئے اس رزق کو کیوں نہیں چھوڑا جس سے پرواز میں کوتاہی آرہی تھی اس اہم اور باوزن الزام کا جواب ان کی تحریروں کے بجائے ان کی عملی زندگی میں تلاش کرنا پڑے گا۔ صدیق سالک کے صاحبزادے سرمد سالک کا اس بارے میں کہنا ہے :

”میرے والد مارشل لاءکو نظریاتی طور پر پسند نہیں کرتے تھے انہوں نے کئی مرتبہ ملازمت سے استعفیٰ دینے کا سوچا ایک مرتبہ1984ءمیں جب انھیں اپنی کتاب "State and Politics" شائع کرنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ دوسری مرتبہ 1988ءکو جب صدر ضیاءالحق نے محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کیا تھا۔

29مئی1988ءکے واقعے کے متعلق صدیق سالک کے قریبی دوست الطاف حسن قریشی لکھتے ہیں:

”29مئی کے واقعے نے صدیق سالک پر بہت منفی اثر ڈالا تھا۔13مئی کو اپنی ذہنی کیفیت کا حال بیان کرتے ہوئے انہوں نے مجھ سے کہا ”ساری محنت اکارت چلی گئی امید کی وہ ننھی سی کرن جو سو یلین حکومت کے قیام سے ابھری تھی اندھیروں میں ڈوب گئی ہے جنرل ضیا ءالحق نے مجھے اس اقدام کی حمایت میں تقریر لکھنے کے لیے کہا تو میں نے صاف کہہ دیا کہ مجھ سے یہ نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے مجھے حوصلہ دیتے ہوئے کہا ”اچھا جاﺅ!“ کچھ دیر تازہ ہوا کھا ﺅ ممکن ہے ذہن کا بوجھ ہلکا ہو جائے میرا ذہن بغاوت پر آمادہ تھا کوشش کے باوجود میں کوئی جواز تلاش نہ کر سکا۔الطاف بھائی! آپ نے11برس پہلے کہا تھا کہ ساتھ لگے رہو شاید کسی موقع پر قوم کی خدمت کر سکو۔ مگر مجھے تو ہر اہم اور نازک موڑ پر مشورے میں شامل نہیں کیا گیا۔ میری حیثیت ہی کیا ہے صدر کے پریس سیکرٹری کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے؟“

اس بیان سے بہت سی باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں اول تو یہ کہ صدیق سالک مارشل لاءکے اتنے مخالف تھے کہ صدر مملکت کے منہ پر ان کی حکم عدولی کی جرأت رکھتے تھے۔دوسرے یہ کہ استعفیٰ کے فیصلے کو دوستوں کے کہنے پر ملتوی کیا‘صدیق سالک کے دوست اور اس وقت کے بری افواج کے نائب سربراہ جنرل خالد محمود عارف جن کے کہنے پر سالک نے استعفیٰ کا فیصلہ واپس لیا۔ اس واقعے کے متعلق لکھتے ہیں سالک نے ان سے کہا :

”اسی لمحے سے میرے اندر کا انسان مجھے مجبور کر رہا ہے کہ میں ملازمت سے استعفیٰ دے دوں اس معاملے میں آپ سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں ....میَں نے پوچھا یہ بتاﺅ کہ تمہارے سرپر جو ایک بیٹے ‘ تین بیٹیوں اور ایک بیوی کی کفالت کا بوجھ ہے ”کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں“ جواب میں اس نے کہا ”مشکل تو یقینا ہو گی شاید کسی بیرونی اخبار میں کالم نگاری مل جائے .... اس روز گومذاکرات نامکمل رہے لیکن سالک نے استعفیٰ کے مسئلے کو مسئلہ کشمیرکی طرح ”سرد خانے“ میں نہ جانے دیا جب ملاقات ہوتی یہی اس کا موضوع گفتگو ہوتا مگر اس کی ناگہانی موت نے اس کو فیصلہ داغنے کی مہلت نہ دی۔ فیصلہ آسان بھی نہ تھا۔ اتنی بات بہرحال وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ 29مئی کے بعد 29مئی سے پہلے جیسا ہنستا بولتا سالک پھر کبھی نہ دیکھا۔ وہ فوج کی ملازمت کے ضابطوں سے آزاد ہو کر اپنے آپ کو جلداز جلد مکمل طور پر قرطاس و قلم کے حوالے کر دینا چاہتا تھا ورنہ”سلیوٹ“ کے عنوان سے اپنی عسکری زندگی کی سرگزشت اپنی موت سے تقریباً ایک برس پہلے نہ لکھ جاتا جبکہ وہ ابھی ”وردی“ میں بھی تھا “۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -