بھارت کی ”آکڑ“ 

       بھارت کی ”آکڑ“ 
       بھارت کی ”آکڑ“ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  کسی طاقتور فرد، ادارے یا ملک کی بظاہر اپنے سے کمزور پر کی جانے والی ”چڑھائی“بعض اوقات اُلٹی پڑ جاتی ہے، بلکہ کئی دفعہ تو نسبتاً کمزور فریق اس جارحیت کے نتیجے میں ”سرپرائز“ دے کر دنیا والوں کونا صرف حیران بلکہ پریشان بھی کر دیتا ہے۔پاکستان میں انفرادی سطح پر اس قسم کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں جن میں طاقت کے نشے میں چُور حکمران،اداروں کی ملی بھگت سے کسی سیاسی حریف کی کارکردگی یا مقبولیت کو نقصان پہنچانے کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں، جس کا نتیجہ کمزور حریف کے ”کھڈے لائن“ لگنے کی بجائے اس کی مقبولیت یا عزت کی وجہ بن جاتا ہے،  جیسے ”کُبّے“ کو لات راس آجاتی ہے بالکل اسی طرح بندے کو اپنے سے طاقتور کی دشمنی ”راس“ آ جاتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال کینیڈا اور بھارت کے مابین سفارتی تنازعہ ہے، جس میں بھارت کی ”آکڑ“  امریکہ اور برطانیہ سمیت مغربی دنیا کے حلق کا کانٹا بن گئی ہے۔ اگر کسی نے جان بوجھ کر یہ گتھی الجھائی ہے یا پھر کینیڈین وزیراعظم وہاں کے با اثر سکھوں کے کہنے پر بہک گئے تھے یا اس کے علاوہ معاملے کے جو کوئی بھی محرکات ہوں۔ایک بات واضح ہے کہ دونوں ممالک سفارتی سطح پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ جبکہ بھارت نے ”کاریگری“ دکھاتے ہوئے دنیا بھر کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہمیں ”ایزی“ نہ لیا جائے۔

 بھارت کی کاریگری یہ ہے کہ اس نے نہایت چالاکی سے ایک ”شریف“ ملک کو زبانی کلامی بدمعاشی دکھانا شروع کر دی ہے، کینیڈا کی شرافت اس لحاظ سے ہے کہ یہ ملک رقبے کے لحاظ سے دنیا کادوسرا بڑا ملک ہے لیکن یہاں کی آبادی صرف چند کروڑ ہے، مقامی حکومتیں سر پھینک کر اپنے ملک کو آباد کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ترقی اور خوشحالی پر لگی ہوئی ہیں جہاں پر نہ کوئی مذہبی جنونیت ہے، نہ گندی سیاست ہے، صاف ستھرے حکمران سیدھے سادھے انداز میں ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ تاہم بھارت میں معاملات اس کے برعکس ہیں جہاں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں معمول کی بات ہیں اور مودی سرکار کے مسلمانوں اور سکھوں پر مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اس صورتحال میں بھارت کینیڈا کے ساتھ کشیدگی کو ”کیش“ کرنے کی پوری کوشش میں ہے۔ رواں سال جون میں کینیڈا کے شہر برٹش کولمبیا کی کاؤنٹی سرے میں گرُو دوارے کی پارکنگ میں خالصتان تحریک کے رہنما ہردویپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے پرگزشتہ ماہ ستمبر میں کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے منہ سے بات نکلنے کی دیر تھی کہ بھارت کینیڈا کے ساتھ ”سیدھا“ ہو گیا۔ عالمی سطح پر اس وقت کینیڈا کی سب سے بڑی اہمیت دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کا ہمسایہ ہونا ہے دوسری جانب بھارت، امریکہ تعلقات اس وقت بہترین موڑ پر ہیں۔ چند ماہ قبل نریندر مودی امریکہ کا کامیاب دورہ کر کے آئے ہیں،جہاں دونوں ملکوں کے مابین باہمی شراکت داری کے 50 سے زائد معاہدے ہوئے۔ دنیا اس وقت بھارت کا ”لحاظ“ اس لئے بھی کر رہی ہے کہ یہ ڈیڑھ ارب سے زائد آباد ی کے ساتھ دنیا کا نمبر ون ملک بن چکا ہے، امریکہ، یورپ سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف اوّل کی کمپنیاں جو وہاں کی حکومتوں تک پر اثر انداز ہوتی ہیں وہ ڈیڑھ ارب آبادی والے ملک کو نظر انداز نہیں کر سکتیں، کیونکہ اپنی مصنوعات بیچنے کے لیے انہیں کسی دوسری جگہ پر اتنی بڑی تعداد میں ”گاہک“ دستیاب نہیں ہیں۔ حال ہی میں بھارت میں ہونیوالے جی 20 ممالک کے اجلاس نے بھی بھارت سرکار کی ”ہوا“ خراب کی ہوئی ہے اسی جمع تفریق کی روشنی میں میں بھارت نے سوچا کہ لوہا گرم ہے، لہٰذا کینیڈا کو ”سٹ“ ماری جائے۔ 

تازہ ترین صورتحال کے مطابق بھارت نے کینیڈا کو اپنے سفارت خانے میں تقریباً ایک تہائی عملہ کم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کینیڈا سے اپنے 41 سفارتکار واپس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ نئی دہلی نے کینیڈا کو 10 اکتوبر کی ڈیڈ لائن کی دھمکی دی ہے کہ مذکورہ مدت کے بعد جو سفارتکار بھارت میں موجود رہے گا اس کا سفارتی استثناء ختم کر دیا جائے گا۔ادھر کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانیا جولی اس معاملے پر قدرے نرم نظر آ رہی ہیں۔رواں ہفتے کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا مسئلے کے حل کے لئے بھارت کے ساتھ نجی بات چیت کرنا چاہتاہے۔ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کے سفارت کاروں کی سلامتی کو سنجیدگی سے دیکھتے ہیں، جبکہ بھارت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان سے نجی طور پر بات چیت جاری رکھیں گے۔

کینیڈین وزیر خارجہ کا یہ بیان بھارتی حکومت کی جانب سے کینیڈا کے ملک بدر کئے جانے والے 41 سفارت کاروں کی فہرست کے بعد سامنے آیا ہے،جس سے صارف ظاہر ہے کہ کینیڈا نرم رویہ اختیار کئے ہوئے تاہم بھارت کے ”تیور“ بگڑے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال میں جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہ کہ گتھی جس نے بھی الجھائی ہے وہ اب گلے پڑ گئی ہے بے شک وہ کینیڈا کے بااثر ترین سکھ ہوں یا پھر کوئی اور۔ بھارت کو عالمی سطح پر اس ایشو کو کیش کرنے کا موقع مل گیا ہے جسے پتہ ہے کہ امریکہ یا برطانیہ اتنی آسانی سے بھارت کے خلاف نہیں جا سکتے اور یہ بات محسوس بھی کی جا رہی ہے کہ امریکہ ابھی تک دبی دبی بیان بازی سے آگے بڑھ کر کینیڈا کی حمایت میں سامنے نہیں آیا۔

کینیڈا دنیا کے محفوظ ترین ملکوں میں سے ایک ہے جو پوری دنیا کے شورش زدہ اور جنگ و جدل کے نتیجے میں بد حال اور غیر محفوظ ملکوں کے شہریوں کو اپنے ملک میں پناہ دیتا ہے،تاہم اس کی سرزمین پر خالصتان تحریک کے سرگرم رہنما  ہر دیپ سنگھ نجر کے قتل کی باز گشت ابھی سنائی دے رہی تھی کہ اس دوران وہاں پر ایک اور خالصتانی سکھ کے قتل نے کینیڈا کے محفوظ ترین ملک ہونے کے درجے پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ کینیڈا، بھارت کشیدگی مغربی دنیا کے بڑے ممالک کے حلق کا کانٹا بن چکی ہے جس میں تاحال بھارت اپنی اہمیت عالمی سطح پر جتانے میں کامیاب ہوا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -